உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : عیدالاضحی کے موقع پر بھی آئمہ وموذنین تنحواہوں سے محروم

    مدھیہ پردیش : عیدالاضحی کے موقع پر بھی آئمہ وموذنین تنحواہوں سے محروم

    مدھیہ پردیش : عیدالاضحی کے موقع پر بھی آئمہ وموذنین تنحواہوں سے محروم

    جمعیت علما مدھیہ پردیش ضلع بھوپال کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی تنگ نظری کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔ مذہبی اداروں کے لوگوں کی تنخواہ وقت پر جاری تو کرنا ہی چاہئے ، بلکہ انہیں ایک ماہ کی انڈوانس تنخواہ حکومت کو دینا چاہئے ، مگر افسوس کی حکومت نے ابھی تک گرانٹ ہی جاری نہیں کی ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کی باتیں تو بہت زور و شور سے کرتی ہیں ، مگر عملی سطح پر اقلیتی اداروں کے تئیں اس کا فقدان ملتا ہے ۔ مالی سال دوہزار اکیس بائیس اپریل سے شروع ہو چکا ہے ، مگر محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود نے ابھی تک مساجد کمیٹی کی گرانٹ جاری نہیں کی ہے ۔ مساجد کمیٹی کی گرانٹ جاری نہیں ہونے سے ان کی عید کی خوشیاں بھی پھیکی تھی اوراب عید الاضحی کے موقع پر بھی محکمہ تنحواہ سے محروم کرکے آئمہ وموذنین کی خوشیوں کو کافور کردیا ہے ۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کا قیام انیس سو انچاس میں ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے معاہدے کی رو سے عمل میں آیا تھا۔ معاہدے کے تحت جس طرح سے ریاست بھوپال کے ذریعہ آئمہ وموذنین ، مندر کے پجاری، چرچ کے پادری اور گرودوارہ کے مذہبی رہنما کو ماہانہ نذرانہ پیش کرتی ہے ، اسی طرح سے حکومت کرے گی ۔ ابتدائی سالوں میں تو مسجد ، مندر، چرچ اور گرودوارہ کے مذہبی رہنما کو ایک جگہ سے ہی نذرانہ ادا کیا جاتا تھا ، مگر نوے کی دہائی میں حکومت نے دھرمس وبھاگ کی تشکیل کر کے مندر، چرچ اور گرودوارہ کو الگ کردیا اور آئمہ وموذنین کے نذرانہ کی ذمہ داری مساجد کمیٹی کے سپرد کردی گئی ۔ مساجد کمیٹی کے پانچ سو نوے مساجد کے آئمہ وموذنین کے ساتھ دارالقضا، دارالافتا اور مدرسہ حمدیہ کے اسٹاف کو تنخواہ دی جاتی ہے ، مگر سبھی ادارے کے ملازمین کے ساتھ آئمہ وموذنین بھی اپریل سے تنخواہوں سے محروم ہیں ۔

    جمعیت علما مدھیہ پردیش ضلع بھوپال کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی تنگ نظری کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔ مذہبی اداروں کے لوگوں کی تنخواہ وقت پر جاری تو کرنا ہی چاہئے ، بلکہ انہیں ایک ماہ کی انڈوانس تنخواہ حکومت کو دینا چاہئے ، مگر افسوس کی حکومت نے ابھی تک گرانٹ ہی جاری نہیں کی ہے ۔ اگر حکومت دو دن کے اندر مطالبات منظور نہیں کرتی ہے اور آئمہ وموذنین کو تنخواہیں جاری نہیں ہوتی ہے ، تو جمعیت پورے معاملہ کو لے کر آر پار کی لڑائی لڑے گی ۔

    وہیں مساجد کمیٹی کے مہتمم یاسر عرفات کہتے ہیں آئمہ وموذنین کی تنخواہوں کو لے کر محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کو جو دستاویز مطلوب تھے ، وہ بھیجے جاچکے ہیں ۔ امید ہے کہ عید سے پہلے تنخواہیں جاری ہو جائیں گی ۔ مساجد کمیٹی آئمہ وموذنین کی تنحواہوں کو لے کر فکر مند ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: