உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش حکومت سے پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ

    مدھیہ پردیش حکومت سے پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ

    مدھیہ پردیش حکومت سے پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ

    Bhopal News: پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی نے ملک کی آزادی کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی کیا تھا۔ انہوں نے کابل میں حکومت برطانیہ کے خلاف پہلی عبوری جلاوطن حکومت قائم تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore
    • Share this:
    بھوپال : ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو ضرور منایا جا رہا ہے، مگر آزادی کی تحریک کے نام پر اب بھی چند ہی مجاہدین آزادی کی خدمات کو یاد کرکے اپنا فرض پورا کرلیا جاتا ہے۔ تحریک آزادی اور ملک کو آزاد کرانے کے لئے جن لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، اب ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے، جن کی قربانیاں منظر عام پر نہیں آسکی ہیں۔ پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی نے ملک کی آزادی کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی کیا تھا۔ انہوں نے کابل میں حکومت برطانیہ کے خلاف پہلی عبوری جلاوطن حکومت قائم تھی۔ پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی اس عبوری جلا وطن حکومت کے وزیر اعظم اور راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ اس کے صدر تھے۔ برکت اللہ بھوپالی اردو کے صحافی اور منفرد لب و لجہہ کے شاعر بھی تھے ۔ مگر نئی نسل آج کی خدمات سے واقف نہیں ہے۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشنل اینڈ سوشل سروس کے زیر اہتمام بھوپال گاندھی نگر میں منعقدہ جلسہ میں دانشوروں نے حکومت سے پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی کی حیات و خدمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: پولیس کا بڑا دعویٰ- پاکستان کے رابطے میں تھے پی ایف آئی اراکین، 50 سے زیادہ پاکستانی نمبر


    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشنل اینڈ سوشل سروس کے صدر حاجی محمد ہارون نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی نے  اس ملک کی آزادی کے لئے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں ۔ انہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف کابل میں پہلی جلا وطن حکومت قائم کی اور اس کے وزیر اعظم بنے۔ اس حکومت کے ذریعہ برکت اللہ بھوپالی نے مستقبل کے ہندوستان کا نقشہ پیش کیا تھا۔  اس عبوری جلا وطن حکومت کے صدر راجہ مہیندر پرتاپ تھے۔ لیکن افسوس کہ آج اتنے عظیم مجاہد آزادی کی قربانیوں کو فراموش کردیا گیا ہے اور حکومت کی سطح پر بھی انہیں یاد کرنے کے لئے کسی پروگرام کا انعقاد نہیں کیا جاتا ہے ۔

    حاجی محمد ہارون نے حکومت ہند اور حکومت مدھیہ پردیش سے برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ حاجی ہارون نے برکت اللہ بھوپالی کے نام سے سینٹر یونیورسٹی قائم کرنے اور بھوپال کے مدرسہ  سلیمانیہ جہاں سے برکت اللہ بھوپالی نے تعلیم حاصل کی تھی وہاں پر ان کے نام کا بورڈ لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ سے ادھو گروپ کو بڑا جھٹکا، اصلی شیوسینا کون؟ اب الیکشن کمیشن کر سکے گا فیصلہ


    ممتاز صحافی شیلندر شیلی نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کے مایہ ناز مجاہدین آزادی کی بات کی جاتی ہے اور میں مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کو پیش کیا جاتا ہے تو اہل بھوپال کا سینہ فخر سے اونچا ہوجاتا ہے۔ مگر ہمیں افسوس ہے کہ بھوپال میں برکت اللہ یونیورسٹی کے قائم ہونے کے بعد بھی ان کے نام اور کام پر اب تک کوئی ریسرچ نہیں کی گئی۔ ہم حکومت سے ان کے عظیم کارناموں کو نصاب کا حصہ بنانے اور ان کے نام سے ایک ریسرچ سینٹر بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    مولانا برکت اللہ بھوپالی کی برسی کے منعقدہ پروگرام سے قبل قران خوانی اور ایصال ثواب کے لئے دعائیں کی گئیں ۔ جلسہ میں ایم ڈبلیو انصاری، پروفیسر محمد نعمان خان، راجیندر کوٹھاری، مفتی عبدالرحیم، گیانی گروندر سنگھ، مولانا سید اظہر، فادر ماریہ اسٹیفن وغیرہ نے بھی مولانا برکت اللہ بھوپالی کی حیات و خدمات پر اپنے خیالات پیش کئے۔ جلسہ کی نظامت کے فرائض ایڈوکیٹ محمد کلیم نے بحسن و خوبی انجام دئے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: