உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: بیگمات بھوپال کے زریں کارناموں سے روشن ہے بھوپال کے ادب کی تاریخ

    Madhya Pradesh News: بھوپال گولڈن ہال میں یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں بیگمات بھوپال کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا ۔

    Madhya Pradesh News: بھوپال گولڈن ہال میں یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں بیگمات بھوپال کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا ۔

    Madhya Pradesh News: بھوپال گولڈن ہال میں یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں بیگمات بھوپال کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا ۔

    • Share this:
    بھوپال : برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے موقع پر بھوپال میں سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال گولڈن ہال میں یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں بیگمات بھوپال کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا ۔ دانشوروں نے بیگمات بھوپال کی سماجی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھوپال دنیا کا واحد شہر ہے جہاں پر بیگمات نے تسلسل کے ساتھ ایک سو سات سال تک حکومت کی ہے ۔ یہی نہیں بیگمات بھوپال نے فن تعمیر کے ساتھ تحقیق و تصنیف کا جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ بے مثل ہے ۔

    برکت اللہ یوتھ فورم کے صدر انس علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوم خواتین کے موقع پر سمینار کا مقصد نئی نسل کو بیگمات بھوپال کی روشن تاریخ سے واقف کرانا ہے۔ نئی نسل بھوپال شہر کو تو جانتی ہے لیکن یہاں کی بیگمات کی ادبی ،سماجی و ثقافتی خدمات سے زرہ برابر بھی واقف نہیں ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش حکومت بیگمات بھوپال کے لئے یادگار قائم کرے اور ان کی ادبی خدمات پر تحقیق کی جائے تاکہ اس کی نئی معنویت سامنے آسکے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تحریروں نے اردو کو عطا کی تھی شعور کی بالیدگی


    ممتاز ادیبہ ڈاکٹر رصیہ حامدنے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے والی ریاست بھوپال ہے اور یہ کارنامہ ایک خاتون یعنی بھوپال کی دوسری خاتون نواب سکندر جہاں بیگم نے انجام دیاتھا۔ یہی نہیں بھوپال کی بیگمات  صاحب تصنیف بھی تھی اور جو ادبی کارنامہ انہوں نے صدی پہلے انجام دیاتھا اس کی معنویت آج بھی برقرار ہے ۔

    ممتاز ادیب اشہر قدوائی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہ یوں تو بھوپال پر نو مرد اور چار بیگمات کی حکومت رہی ہے لیکن بھوپال کا عہد زریں بیگمات بھوپال کے دور کو ہی کہا جاتا ہے ۔بھوپال کو بیگمات نے عالمی پہچان دی اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے خواتین کو صدی میں لیڈیز کلب بناکر غور فکر کرنے کا موقعہ عطا فرمایا تھا۔

    بھوپال کی ادیبہ ڈاکٹر عنبر عابد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اب خواتین کو خود کفیل بنانے کی بات کی جا رہی ہے لیکن صدی قبل بھوپال میں خواتین کے لئے پری بازار بنایاگیاتھا جس میں مردوں کا داخلہ ممنوع تھا۔یہی نہیں اس عہد میں بیگمات بھوپال نے تعلیم نسواں کے لئے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ ہمیں دعوت فکر دیتا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ایک ہی دن شادی کے بندھن میں بندھیں لیو ان میں رہنے والی 1320 جوڑیاں، جانئے کیوں


    ممتاز ادیبہ پروفیسر بلقیس جہاں نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے بیگمات بھوپال کی تعمیرات ،سماجی خدمات اور گنگا جمنی تہذیب پر تفصیل سےروشنی ڈالی۔ پروفیسر بلقیس نے بیگمات بھوپال کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھوپال کی آخرح خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں نہ صرف بھوپال کی فرمانروا تھیں بلکہ وہ بیالیس کتابوں کے مصنفہ کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی چانسلر بھی رہی ہیں ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر کو صدی گزر چکی ہے لیکن ابھی تک کسی دوسری خاتون کو اس کی چانسلر بننے کا موقعہ نہیں ملا۔

    برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے حکومت سے بیگمات بھوپال کے ادبی شہ پاروں پر از سر نو تحقیقی کام کیئے جانے کا مطالبہ کیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: