உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی زمینوں کو سرکاری لکھنے کا معاملہ ابھی تک نہیں ہوسکا حل، جانئے کیوں

    مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی زمینوں کو سرکاری لکھنے کا معاملہ ابھی تک نہیں ہوسکا حل، جانئے کیوں

    مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی زمینوں کو سرکاری لکھنے کا معاملہ ابھی تک نہیں ہوسکا حل، جانئے کیوں

    مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی سبھی زمینوں کو ریوینوریکارڈ میں سرکاری لکھنے کا معاملہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ نیوز18 اردو کے ذریعہ سترہ نومبر دوہزار اٹھارہ میں خبر نشر کئے جانے کے بعد بورڈ خواب غفلت سے بیدار توہوا ، لیکن چار سالوں میں بورڈ چار قدم بھی نہیں چل سکا ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی سبھی زمینوں کو ریوینوریکارڈ میں سرکاری لکھنے کا معاملہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ نیوز18 اردو کے ذریعہ سترہ نومبر دوہزار اٹھارہ میں خبر نشر کئے جانے کے بعد بورڈ خواب غفلت سے بیدار توہوا ، لیکن چار سالوں میں بورڈ چار قدم بھی نہیں چل سکا ۔ مدھیہ پردیش حکومت کی عدم توجہی اور ایم وقف بورڈ کی سست روی سے ہزاروں کروڑ کی املاک کا مالک وقف بورڈ نہ صرف کنگال ہوتا جارہا ہے ، بلکہ اس کی اپنی زمینوں کے وجود پر بھی ختم ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ حکومت اور وقف بورڈ کی عدم توجہی سے مسلم سماجی تنظیمیں نہ صرف سخت نارض ہیں بلکہ اب انہوں نے وقف ریکارڈ کو درست کرنے کو لیکر ریاست گیر سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    واضح رہے کہ ریاست مدھیہ پردیش کا قیام تو یکم نومبر انیس سو چھپن کو عمل میں آیا تھا لیکن مدھیہ پردیش میں وقف بورڈ کا قیام بارہ مئی انیس سو ایکسٹھ میں ہواتھا۔ بورڈ کے قیام کے بعد وقف بورڈ کی املاک کو تحفظ دینے کے نام پر بہت سے بورڈ تشکیل دیئے گئے ۔ دعوے اور وعدے ہوئے لیکن ہر بورڈ میں وقف بورڈ کی زمینوں پر نا جائز قبضے بڑھتے گئے ۔ حد تو اس وقت ہوئی جب مدھیہ پردیش محکمہ ریونیو نے اپنا سافٹ ویئر تیار کیا تو اس نے وقف بورڈ کی ایک دو نہیں بلکہ سبھی املاک کو ریکارڈ میں سرکاری درج کردیا ۔ سترہ نومبر دوہزار اٹھارہ کو نیوز18 اردو کی خبر کے بعد وقف بورڈ خواب غفلت سے بیدار ہوا ، لیکن ابھی تک وقف املاک کی زمینوں کا ریکارڈ درست نہیں کیا جا سکا۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ نیوز18 اردو کا شکریہ کہ انہوں نے ہمیں بورڈ کی اتنی بڑی غفلت سے بیدار کیا ، لیکن وقف بورڈ اور مدھیہ پردیش حکومت وقف بورڈ کے ریکارڈ کو درست نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ حالانکہ جس وقت یہ معاملہ پیش آیا تھا اس وقت مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی حکومت تھی۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست ہوئی اور کمل ناتھ کی حکومت اقتدار میں آئی ۔ اس وقت اقلیتی وزیر نے اس معاملے میں کچھ سنجیدگی دکھائی اور ایسا لگا کہ اب وقف بورڈ کا ریکارڈ درست ہو جائے گا اور ریونیو ریکارڈ میں وقف املاک کو سرکاری لکھنے کے بجائے وقف املاک لکھا جائے گا لیکن کمل ناتھ حکومت کے اقتدار سے جانے کے بعد پھر شیوراج سنگھ کی حکومت آئی اور اس حکومت کو بھی انیس ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ، لیکن وقف بورڈ کا ریکارڈ درست کرنے کی سمت میں کوئی کام نہیں ہو سکا ۔

    انہوں نے کہا کہ بورڈ کا ریکارڈ درست نہیں ہونے کے سبب نہ صرف بھوپال بلکہ دوسرے شہروں میں بھی وقف املاک پر ناجائز قبضے بڑھ گئے ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ دوہزار اٹھارہ سے ایم پی وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہونے کے سبب اس سمت کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے ۔جمیعت علما نے پہلے بھی اس معاملہ کو لیکر تحریک چلائی تھی اب پھر اس معاملے کو لیکر ریاست گیر سطح پر تحریک چلائے گی تاکہ حکومت کو بیدار کیا جا سکے اور وقف بورڈ کے ریکارڈ کو درست کیا جا سکے نہیں  تو بزرگوں کے ذریعہ وقف کی گئی بیش قیمتی ہزاروں کروڑ کی املاک کا وجود ختم ہو جائے گا۔

    وہیں مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او حسرالدین کہتے ہیں کہ بورڈ اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور وقف بورڈ کے ریکارڈ کو درست کرنے کو لیکر ضلع کلکٹروں کو کئی بار لکھا بھی گیا ہے۔ کام جاری ہے اور جلد ہی کام پورا کر لیا جائے گا۔ دوہزار اٹھارہ سے اب تک کتنا ریکارڈ درست کرلیا گیا ہے ، جب یہ سوال وقف بورڈ کے سی ای او سے پوچھا گیا تو انہوں نے کیا کہ ابھی بہت زیادہ پرسینٹیج میں نہ جائیں لیکن پندرہ بیس فیصد تک ریکارڈ درست ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: