உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News : مسلم معاشرہ اپنے بچوں کو سازگار تعلیمی ماحول دینے میں ناکام

    مسلم معاشرہ اپنے بچوں کو سازگار تعلیمی ماحول دینے میں ناکام

    مسلم معاشرہ اپنے بچوں کو سازگار تعلیمی ماحول دینے میں ناکام

    Bhopal News : تعلیم کے حصول اور طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں ماحول کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ مسلم طلبہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اس کے باؤجود مسلم معاشرہ اپنے بچوں کو سازگار تعلیمی ماحول دینے میں ناکام ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : تعلیم کے حصول اور طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں ماحول کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ مسلم  طلبہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اس کے باؤجود مسلم معاشرہ اپنے بچوں کو سازگار تعلیمی ماحول  دینے میں ناکام ہے۔ سازگار تعلیمی ماحول نہیں ہونے کے سبب نہ صرف مسلم طلبہ کی صلاحیتیں زنگ آلود ہو رہی ہیں بلکہ احساس کمتری کے سبب دوسروں کو بھی آگے بڑھنے کی راہ میں روکاوٹ بن رہی ہیں ۔ ان خیالات کااظہار اقبال لائبریری کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے کیا۔

    بھوپال اقبال لائبریری کے زیر اہتمام ماحول کے ذریعہ تعلیم کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پرو وائس چانسلر پروفیسر تسنیم فاطمہ اور پروفیسر خالد محمود نے بطور مہمان خاص شرکت کی جبکہ برکت اللہ یونیورسٹی شعبہ فارسی کی صدر پروفیسر طاہرہ وحید عباسی نے سمینار کی صدارت کے فرائض انجام دئے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پرو وائس چانسلر پروفیسر تسنیم فاطمہ کہتی ہیں ماحول کی انسان کی زندگی اور اس کی نشو و نما میں بڑا کردار ہوتا ہے ۔ یہ ماحول طلبہ کو اس کے گھر سے ملتا ہے ۔ گھر میں ماں باپ اور یوں میں تو یوں کہوں کہ گھر میں تعلیمی ماحول کو سازگار کرنے میں ماں کا بنیادی کردار ہوتا ہے ۔عورت پڑھ لکھ کر ملازمت کرے یا نہ کرے لیکن اگر عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ پورے گھر کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے ۔ جب بچوں کو اچھا سازگار تعلیمی ماحول ملتا ہے وہ بڑے سے بڑے مقابلہ جاتی امتحان میں شرکت کرکے اپنا مقام حاصل کرتے ہیں ۔

    ممتاز ادیب پروفیسر خالد محمود کہتے ہیں کہ ہماری تو کتاب ہی اس موضوع پر ماحول کے ذریعہ تعلیم ۔ ہم لوگ باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول دینے کی وہ کوششیں نہیں کرتے ہیں ، جس کی ضرورت ہے اور جہاں جہاں یا یوں کہیں کہ جن گھروں میں طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول ملتا ہے ان کے لئے مستقبل کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں ۔

    ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر علی عباس امید کہے ہیں کہ مسلم طلبہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں ، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں سازگار تعلیم ماحول نہ تو گھر سے مہیا کیا جاتا ہے اور نہ ہی سماج کے ذریعہ ۔ چند گھرانوں کو چھوڑ دیجئے جہاں پر لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، وہ اپنے بچوں کو تمام طرح کی تعلیمی سہولیات اور مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ عمومی طور پر بات کی جائے تو اس  کے لئے اجتماعی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

    ممتاز ادیب پروفیسر محمد نعمان خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی نشو ونما ، شخصیت سازی اور ذہن سازی میں ماحول کا بڑا کردار ہوتا ہے ۔ ہمیں تعلیم کے لئے ماحول کو سازگار کرنے کے ساتھ ماحولیات کے لئے بھی سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے اور جو لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں ، یقین مانئے وہ لوگ نہ صرف اپنےسماج کے لئے بلکہ انسانیت کے لئے بڑا کام کررہے ہیں اور میں تو یہ کہنا چاہوں گا کہ ماحولیات کی تعلیم کو بھی نصاب کا حصہ اسکول کی سطح پر بنایا جانا چاہئے ساتھ ہی اردو طلبہ کے لئے تعلیم کے حصول کے لئے خصوصی طور پر ماحول کو سازگار کیا جانا چاہیئے ۔ؤ

    بھوپال اقبال لائبریری کے سکریٹری و ممتاز ادیب رشید انجم کہتے ہیں کہ یہ موضوع اس لئے انتخاب کیاگیا تاکہ مسلم معاشرہ میں طاری جمود کو توڑا جا سکے اور انہیں بتایا جا سکے کہ تعلیم کے حصول کے لئے گھروں میں سازگار ماحول کی کتنی اہم ضرورت ہے ۔بچہ اپنی زندگی کا بڑا وقت اپنےگھر میں گزارتا ہے اور جب اسے گھر سے تعلیمی ماحول ملتا ہے تو باہر بھی وہ اسی کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے ۔ہمارے اسلاف نے جو تعلیم کے لئے فضا سازگار کی تھی اس کی روشنی میں ہمیں نقوش معنی تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو ہم سازگار تعلیمی ماحول دیں سکیں ۔

    اس موقع پر پروفیسر تسنیم فاطمہ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کا پرو وائس چانسلر بنائے جانے اور پروفیسر خالد محمود کی کتاب نقوش معنی کو اتر پردیش اردو اکادمی سے اول انعام ملنے پر انہیں اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ سمینار میں بھوپال کے افسانہ نگار نثار راہی کی کتاب منٹو کا جادو کا اجرا بھی کیا گیا۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: