உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تحریروں نے اردو کو عطا کی تھی شعور کی بالیدگی

    Bhopal News: مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تحریروں نے اردو کو عطا کی تھی شعور کی بالیدگی

    Bhopal News: مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تحریروں نے اردو کو عطا کی تھی شعور کی بالیدگی

    مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی خدمات اردو زبان و ادب کے فروغ میں کے عنوان سے بھوپال اندرا پریہ درشنی کالج میں منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی حیات وادبی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ان کی تحریروں کو فکر کی بلندی اور شعور کی بالیدگی سے تعبیر کیا۔

    • Share this:
    بھوپال : امن ایجوکیشن سوسائٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے مشترکہ بینر تلے بھوپال میں ایک روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیاگیا۔  مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی خدمات اردو زبان و ادب کے فروغ میں کے عنوان سے بھوپال اندرا پریہ درشنی کالج میں منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی حیات وادبی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ان کی تحریروں کو فکر کی بلندی اور شعور کی بالیدگی سے تعبیر کیا۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی تحریروں سے صرف عربی زبان کو ہی نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کا دامن وسیع کیا اور یہ ایسی خدمات ہیں اردو اور عربی زبان کے دانشوروں کبھی فراموش نہیں کر سکتے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  ایک ہی دن شادی کے بندھن میں بندھیں لیو ان میں رہنے والی 1320 جوڑیاں، جانئے کیوں


    ممتاز عالم دین و ادیب مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کا شمار ہندوستان ہی نہیں عالمی سطح پر ممتاز عالم دین اور اردو کے اسکالرس میں ہوتا ہے ۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی ولادت  پانچ دسمبر انیس سو تیرہ کو اترپردیش کے تاریخی شہر رائےبریلی میں ہوئی اور انہوں نے اپنی  زندگی کا سفر بھی اسی  رائے بریلی میں  اکتیس دسمبر انیس سو ننانوے کو تمام کیا۔ امن ایجوکیشن سوسائٹی اور قومی کونسل کے مشترکہ بینر تلے بھوپال میں منعقدہ سمینار کے کنوینر یعقوب صدیقی کہتے ہیں کہ ہمیں خوشی ہے کہ قومی کونسل نے ہمیں اس اہم موضوع پر سمینار کے انعقاد کے لئے مالی تعاون دیا ہے۔ علی میاں ندوی کی تعلیم و تربیت میں بھوپال کااہم کردار رہا ہے ۔ علی میاں کے استاد خلیل عرب کا تعلق بھی بھوپال سے ہی تھا اور علی میاں ندوی کی حیات وخدمات پر پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ بھی بھوپال کی ڈاکٹر رفعت سلطان نے لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ سمینار کا مقصد یہی ہے کہ نئی نسل کو مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی ادبی خدمات سے واقف ہو سکے ۔

    ممتاز عالم دین و مفکر مولانا ڈاکٹر سید شرافت علی ندوی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہ ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی عبقری شخصیت نے اپنی تحریر،تقریر اور تصانیف سے صرف عربی ہی نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کا دامن وسیع کیا ہے ۔انہوں نے اردو زبان میں اسلامی علوم کا گرانقدر ادبی سرمایہ تو تصنیف کیا ہی تھا بلکہ انہوں نے سماجی بیداری اور اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت کے لئے جس زبان کا استعمال کیا وہ اردو ہی ہے ۔انہوں نے اردو میں فکر کو ایک نیا شعور عطا کیا تھا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : چائے کی دکان میں ہوا پیار، زمین بیچ کر گئے ہنی مون، پھر بیوی نے کیا ایسا کام، شوہر کے اڑگئے ہوش


    ممتاز ادیب ڈاکٹر عارف جنید نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی نے عربی اور اردو زبان میں جو کتابیں لکھی ہیں ا ن کی خوبی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی معنویت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ان کی کتابوں کے مطالعہ سے ذہن کے بند گوشے منور ہوتےہیں اور انسان جب ان پر غور و فکر کرتا ہے تو اس کی معنویت کی روشنی میں ادب کے نئے معنی و مفاہیم ہمارے سامنے آتے ہیں ۔جبکہ ممتاز ادیب  ضیافاروقی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ علی ندوی نے اسلامیات کی ترسیل اردو زبان میں کرنے کے ساتھ سماجی بیداری کے لئے جو کتابیں اردو میں تصنیف کی تھیں وہ وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے اقبال کی فکر و فلسفہ کو لیکر جو کتاب عربی زبان میں لکھی تھی جب وہ کتاب اردو میں نقوش اقبال کے نام سے ترجمہ ہوکر اہل نظر کے سامنے آئی تو اہل دانش اقبالیات کے نئے مفاہیم سے واقف ہوئے۔

    پروفیسر بلقیس جہاں نے مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی حیات اردو خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی کتاب صحبت با اہل دل،علما کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں،،سیرت رسول اکرم،قرانی افادات،پاجا سراغ زندگی اور پرانے چراغ کو پڑھیئے تو حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے کتنا وقیع کام اردو زبان میں کیا ہے۔

    سمینار میں دانشوروں نے مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی فکر اور ان کی اردو تصانیف پر اردو زبا ن میں نئے سرے سے کام کرنے پر زور دیا۔سمینار میں عارف عزیز،ڈاکٹر شاہین علی،نفیسہ خاتون،مرضیہ عارف،نجم الدین،مولانا توسیف قاسمی،مولانا لیاقت ندوی نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: