ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر اور ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں کو کردیا گیا فراموش

نواب سلطان جہاں بیگم کی ولادت نو جولائی اٹھارہ سو اٹھاون کو بھوپال میں ہوئی تھی اور انتقال بارہ مئی انیس سو تیس کو بھوپال میں ہی ہوا اور کوہ فضا صوفیا مسجد کے احاطہ میں سپرد خاک ہوئیں ۔

  • Share this:
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر اور ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں کو کردیا گیا فراموش
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر اور ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں کو کردیا گیا فراموش

بھوپال : زندہ قومیں نہ صرف اپنے تاریخی ورثہ کو سنبھال کر رکھتی ہیں ، بلکہ تاریخ سازشخصیت کے کارہائے نمایاں کی روشنی میں اپنے مستقل کی راہیں بھی ہموار کرتی ہیں ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر اور ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کو ان کی یوم ولادت پر فراموش کردیا گیا ہے ۔ نواب سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کی فرمانروا ہونے کے ساتھ ماہر تعلیم اور تینتالیس کتابوں کی مصنفہ بھی تھیں ۔ ان کی تخلیقات نہ صرف تاریخ کے حوالے سے بلکہ ادب کے حوالے سے بھی بیش قیمتی سرمایہ ہیں ۔


نواب سلطان جہاں بیگم کی ولادت نو جولائی اٹھارہ سو اٹھاون کو بھوپال میں ہوئی تھی اور انتقال بارہ مئی انیس سو تیس کو بھوپال میں ہی ہوا اور کوہ فضا صوفیا مسجد کے احاطہ میں سپرد خاک ہوئیں ۔  نواب سلطان جہاں بیگم جہاں دیدہ خاتون تھیں۔ انیس ایک سو انیس سو چھبیس تک ریاست بھوپال کی حکمراں رہتے ہوئے انہوں نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے ساتھ تعلیم کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔


سر سید احمد خان نے جب تعلیمی تحریک شروع کی تو پہلے ان کی والدہ نواب شاہجہاں بیگم نے ہر قدم پر سر سید احمد خان کے ساتھ  تعاون کیا اور والدہ کے انتقال کے بعد جب وہ ریاست کے تخت پر متمکن ہوئیں ، تو انہوں نے بھی  سرسید کے مشن کی آبیاری کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا ۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سلطان جہاں منزل ، سلطانیہ ہوسٹل کی تعمیر کے ساتھ اپنے بیٹوں عبیداللہ خان اور نصر اللہ خان کے نام سے ہوسٹل بھی تعمیر کروائے ۔


نیز تعلیم نسواں کے فروغ میں علی گڑھ اور بھوپال میں اہم قدم اٹھائے اور پھر وہ دن بھی آیا جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نہ صرف پہلی خاتون چانسلر بنیں بلکہ تاحیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے پر فائز رہیں ۔ ان کے بعد ان کے فرزند نواب حمید اللہ خان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے پر فائررہے ہیں ۔ لیکن افسوس آج ان کی یوم ولادت پر انہیں کہیں بھی یاد نہیں کیا گیا۔

ممتاز ادیب و مورخ ڈاکٹرسید افتخار علی کہتے ہیں کہ یقینا یہ بات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے قوم کی سربلندی کے لئے خود کو وقف کردیا تھا ، قوم کے پاس انہیں یاد کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔ نواب سلطان جہاں بیگم صرف ایک ریاست بھوپال کی فرمانروا ہی نہیں تھیں بلکہ معمار قوم بھی تھیں ۔ انہوں نے ریاست بھوپال کی ہمہ جہت ترقی کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سر سید احمد خان کے مشن کی آبیاری کے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے ، وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے ۔ ہمارے یہاں آج ویمنس امپاورمنٹ کی بات ہو رہی ہے ، لیکن انہوں نے تو صدی قبل بھوپال میں خواتین کے لئے لیڈیز کلب قائم کردیا تھا ۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم کے ساتھ انہیں ہنر سے جوڑنے کا جو قدم اٹھایا تھا وہ بینظر ہے ۔

ممتاز ادیب ضیافاروقی کہتے ہیں کہ سلطان جہاں بیگم کی تصانیف کو پڑھئے تو حیرت ہوتی ہے کہ ان کا حسن انتظام اور تاریخ پر ان کی بلیغ نظر تھی ۔ انہوں نے تزک سلطانی، گوہر اقبال، ڈومیسٹک اکونامی، اختر اقبال، حیات شاہجہانی، تندرستی، حفظان صحت، معیشت اور خانہ داری، حیات قدسی، حیات مصطفی، تربیت الاطفال، بچوں کی پرورش، حیات سکندری، فلسفہ اخلاق وغیرہ کے عنوان سے جو کتابیں تصنیف کیں ہیں ، وہ ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں ۔ آج اگر ان کی یوم ولادت پر اگر انہیں یاد نہیں کیا گیا ہے تو اس کے لئے ہم سب لوگ ذمہ دار ہیں ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ  نواب سلطان جہاں کی ولادت جس روز ہوئی تھی ، وہ نوجولائی اٹھارہ سو اٹھاون بروز جمعہ تھا اور آج ایک سو ترسٹھ سال بعد بھی یہ حسن اتفاق ہے کہ نو جولائی دو ہزار اکیس کو جمعہ کا ہی دن ہے ۔ نو جولائی اٹھارہ سو اٹھارہ سو اٹھاون کو سلطان جہاں کی ولادت پرچہار جانب  جشن کا ماحول تھا اور آج نوجولائی دوہزار اکیس کو جمعہ کے دن ان کے مزار پر کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں ۔ جب نیوز 18 اردو کی ٹیم صوفیہ مسجد احاطہ میں نواب سلطان جہاں بیگم کے مزار پر پہنچی ، تب لولوگوں کو معلوم ہوا کہ جس نے ریاست بھوپال اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی میں اپنا خون جگر صرف کیا تھا ، اس کی یوم ولادت کا دن ہے ۔ اور پھر چند لوگ فاتحہ پڑھنے کے لئے آگے بڑھے ۔

بھوپال میں حالانکہ شاہی اوقاف کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ بھی ہے ، لیکن اسے بھی اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ نوابین بھوپال کے نام پر کسی تقریب کا انعقاد کرے ۔ شاہی اوقاف کے سکریٹری اعظم ترمذی سے جب نیوز 18 اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں یاد نہیں رہا لیکن آئندہ  آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 09, 2021 08:29 PM IST