உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News : ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی عکاس ہے نظیر اکبر آبادی کی شاعری

    Bhopal News : ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی عکاس ہے نظیر اکبر آبادی کی شاعری

    Bhopal News : ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی عکاس ہے نظیر اکبر آبادی کی شاعری

    Bhopal News : مدھیہ پردیش اردو اکادمی (Madhya Pradesh Urdu Academy) کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ اردو اکادمی کے زیر اہتمام اردو ڈرامہ فیسٹول پیش کرنے کا مقصد نئی نسل کو اردو ڈرامہ اور اس کی تہذیبی روایت سے واقف کرانا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش اردو اکادمی (Madhya Pradesh Urdu Academy) کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ اردو اکادمی کے زیر اہتمام اردو ڈرامہ فیسٹول پیش کرنے کا مقصد نئی نسل کو اردو ڈرامہ اور اس کی تہذیبی روایت سے واقف کرانا ہے ۔ اکادمی کے ذریعہ جتنے بھی ڈرامہ پیش کئے گئے ہیں ، سب کی اپنی ایک تھیم ہے اور سب کا مقصد ہندستانی عناصر کو منظر عام پر لانا اور مشترکہ تہدیب کو فروغ دینا ہے۔ پھر نظیر اکبر آبادی تو اردو کے پہلے شاعر ہیں ، جنہوں نے ہندوستانی عناصر کو اپنی شاعری کا محور بنایا ہے ۔ نظیر کی پوری شاعری مکمل طور پر ہندوستانی فضا میں سانس لیتی ہے۔ ان سے قبل اردو شاعری میں ہندوستانی فضا اور ہندوستانی عوام کی زندگی اس طرح نہیں پیش کی گئی کہ اس سے ہمارے معاشرے کے تمام نشیب و فراز ہمارے سامنے آجائیں۔

    نظیر تو بینظؔیر ڈرامہ میں کرداروں کے بیچ مکالمہ، لفظوں دروبست بہت خوب تھا۔ موسیقی پر نظیر کا کلام اور اس کلام کے ذریعہ ہندوستانی عناصر ، میلوں، ٹھیلوں، تیج تہواروں اور موسموں کا حسین امتزاج ایک خاص رنگ میں ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ ڈرامہ کے ہدایت کار راجیو سنگھ کہتے ہیں کہ نظیر کو آگرہ سے حد درجہ عشق تھا ۔ حالانکہ ان کو بھرت پور، حیدرآباد اور اودھ کے شاہی درباروں سے سفر خرچ بھیج کر بلوانے کی بہت کوشش کی گئی ، لیکن نظیر سے آگرہ کی گلیاں نہیں چھوڑی گئیں ۔ نظیر کی شاعری کا مقصد محبت ہے۔ نظیر نے اپنے دور کے معیار شاعری اور کمل فن کے نازک اور لطیف پہلوؤں کو زندگی کے عام تجربات کے سادہ اور پرخلوص بیان پر قربان کردیا ہے ۔

    نظیر نے درباری شاعری سے  دور رہ کر موضوعات کے انتخاب اور ان کے اظہار میں ایک مخصوص طبقہ کے ذوق شعری کو  ملحوظ رکھنے کی بجائے انہوں نے عام لوگوں کے فہم اور ذوق پر نگاہ رکھی ۔ یہاں تک کی زندگی اور موت، منازل حیات اور مناظر قدرت، موسم اور تہوار، امارت اور افلاس، عشق اور مذہب ، تفریحات اور مشاغل زندگی، خدا شناسی اور صنم شناسی ، ظرافت اور عبرت  غرض کہ جس مضمون پر نگاہ ڈالی ، وہاں زبان و بیان ، انداز بیان ، تشبیہات اور استعارات کے لحاظ سے پڑھنے والوں کے ایک بڑے دائرے کو نظر میں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ان کی شاعری کی معنویت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

    اس کے شرار حسن نے، جلوہ جو اک دکھا دیا

    طورکو سر سے پاؤں تک، پھونک دیا ، جلا دیا

    شہر میں لگتا نہیں، صحرا سے گھبراتا ہے دل

    اب کہاں لے جاکے بیٹھیں، ایسے دیوانے کو ہم

    نظیر تو بینظیر ڈرامہ کو دیکھنے آئے بھوپال کے نوجوان شاعر بدر واسطی کہتے ہیں کہ نظیرؔایک  نغز گو، بذلہ سنج اور رمز شناس شاعر تھے۔ شاعری میں کسی کے مقلد یا پیرونہ تھے بلکہ اپنے ہی رنگ کے موجد تھے۔ ان کے موضوع انسان اور اس کی معاشرت ہے۔ انسانی ہمدردی، جزئیات کا مطالعہ اور ہمہ گیر تخیل  انکا طرہ ء امتیاز ہے ۔ زبان پر قدرت ، معاشرتی  حالات پر عبور، فطرت کی رمزشناسی، مناظر قدرت کی مصوری، مختلف فنون کا وقوف، سیاسی بصیرت، رفتارزمانہ سے دلچسپی، صنعت و حرفت سے واقفیت، اختراع الفاظ کا سلیقہ، ظرافت، سوز و گداز، ترنم غرض کہ نظیرمیں  شاعری کے سارے لوازم اور محاسن موجود ہیں ۔

    حالانکہ اس سے قبل آگرہ بازار جو حبیب تنویر کی ہدایت کاری میں پیش کیا گیا تھا ، اس کو کئی بار دیکھا تھا ، لیکن راجیو سنگھ نے ایک کساوٹ کے ساتھ جس طرح ڈرامہ پیش کیا ہے وہ بہت خوب ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: