ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں بارہ نکاتی مطالبات کو لے کر نرسوں نے شروع کی ہڑتال

مدھیہ پردیش نرس ایسوسی ایشن کی صدر ریکھا پرمار کہتی ہیں کہ ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس ملا ہے جس کا جواب عدالت میں پیش کیاجائے گا ۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت عالیہ سے ہمیں انصاف ملے گا۔ ہماری مانگیں نئی نہیں ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت اور محکمہ صحت ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں بارہ نکاتی مطالبات کو  لے کر نرسوں نے شروع کی ہڑتال
مدھیہ پردیش میں بارہ نکاتی مطالبات کو لے کر نرسوں نے شروع کی ہڑتال

بھوپال : مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت ایک مسائل سے باہر نکلتی بھی نہیں ہے کہ دوسرے مسائل سامنے آکر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ پہلے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال اور اس کے بعد محکمہ صحت کے کانٹریکٹ ملازمین کی ہڑتال سے حکومت نے ابھی راحت کی سانس بھی نہیں لی تھی کہ  نرسوں وپیرامیڈیکل اسٹاف کے ذریعہ مطالبات کو لے کر ریاست گیر سطح پر ہڑتال شروع کردی گئی ۔ ہڑتال کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ناگرک اپبھوکتا منچ کے ذریعہ جبل پور ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ، جس پر سماعت کرتے ہوئے جبل پور ہائی کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت اور نرس ایسوسی ایشن کو پانچ دن کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے ذریعہ پہلے نو جون کو ہڑتال شروع کی گئی تھی ۔ سترہ جون کو مطالبات کو لے کر نرس ایسوسی ایشن اور وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن کے ساتھ بات چیت ہوئی اور حکومت کی جانب سے ایک ہفتہ کے اندر مطالبات کو لے کر احکام جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ، لیکن جب حکومت کی جانب سے دس دن میں نرس و پیرا میڈیکل اسٹاف کے مطالبات کو لے کر کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تو نرس ایسوسی ایشن نے اٹھائیس جون کو حکومت کو پھر انتباہ دیتے ہوئے تیس جون سے کام کو بند کر کے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال پر جانے کااعلان کیا گیا۔ اعلان کے مطابق ریاست کی پچاس ہزار سے زیادہ نرسوں و پیرامیڈیکل اسٹاف نے بارہ نکاتی مطلبات کو لے کر ہڑتال شروع کردی ۔ ہڑتال سے حالانکہ ریاست کے کئی اسپتالوں میں طبی خدمات متاثر بھی ہوئیں ۔


مدھیہ پردیش نرس ایسوسی ایشن کی صدر ریکھا پرمار کہتی ہیں کہ ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس ملا ہے جس کا جواب عدالت میں پیش کیاجائے گا ۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت عالیہ سے ہمیں انصاف ملے گا۔ ہماری مانگیں نئی نہیں ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت اور محکمہ صحت ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے ۔ گیارہ سالوں سے ہم مطالبہ کر رہے ہیں لیکن حکومت ہمیں ہمیشہ دھوکہ دیتی ہے اور وعدہ خلافی کرتی ہے۔ کورونا قہر میں کام بند کر کے ہڑتال پر جانے کے علاوہ ہمارے سامنے کوئی اور راستہ نہیں تھا۔طبی خدمات متاثر ہو رہی ہیں تو اس کے لئے محکمہ صحت اور حکومت خود ذمہ دار ہیں۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ ہڑتال کو لے کر نرس ایسوسی ایشن سے بات چیت جاری ہے ۔ ہماری حکومت بات چیت کے ذریعہ حل نکالنے پر یقین رکھتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی اس کا بہتر حل نکلے گا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 30, 2021 09:43 PM IST