உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP News : اردو و فارسی کی جگہ ہندی الفاظ استعمال کرنے کی محکمہ پولیس نے جاری کی ہدایت

    MP News : اردو و فارسی کی جگہ ہندی الفاظ استعمال کرنے کی محکمہ پولیس نے جاری کی ہدایت

    MP News : اردو و فارسی کی جگہ ہندی الفاظ استعمال کرنے کی محکمہ پولیس نے جاری کی ہدایت

    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) پولیس ہیڈ کوارٹر کے ذریعہ محکمہ پولیس میں اردو اور فارسی کے الفاظ کی جگہ ہندی الفاظ کے استعمال کئے جانے کے احکام پر مدھیہ پردیش کی اردو تنظیموں اور اردو دانشوروں نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) پولیس ہیڈ کوارٹر کے ذریعہ محکمہ پولیس میں اردو اور فارسی کے الفاظ کی جگہ ہندی الفاظ کے استعمال کئے جانے کے احکام پر مدھیہ پردیش کی اردو تنظیموں اور اردو دانشوروں نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ اردو انجمنوں اور اردو دانشوروں نے حکومت کے فیصلہ کو جہاں تنگ نظری سے تعبیر کیا ہے وہیں حکومت اسے وقت کی ضرورت سے تعبیر کر رہی ہے ۔ مدھیہ پردیش محکمہ پولیس میں اردو الفاظ کی جگہ ہندی الفاظ کے استعمال کئے جانے کی باتیں تو گزشتہ سال سے سیاسی حلقوں میں جاری تھیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کے ذریعہ اس سلسلہ میں جب گزشتہ سال ماہ دسمبر میں بیان دیا گیا تو اسے لے کر سیاسی اور ادبی حلقوں میں خوب سیاسی گھمسان جاری رہا۔ ابھی تک جو باتیں بیان بازی کی حد تک جاری تھیں اسے لے کر اب مدھیہ پردیش محکمہ پولیس کے ذریعہ باقاعدہ احکام جاری کردیا گیا ہے۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس برائے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پولیس ہیڈ کوارٹربھوپال کے ذریعہ پولیس کے سبھی محکموں کوجاری کئے گئے سرکولر میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی سطح پر محکمہ پولیس میں رائج دیگر زبانوں جیسے اردو ، فارسی وغیرہ کے استعمال کی جگہ پر ہندی الفاظ کے چلن کے لئے کاروائی کی جانی ہے  ۔ اس سلسلہ میں آپ کی برانچ سے مشورے مطلوب ہیں ۔ طے شدہ پروفارما میں سات دن کے اندر جانکاری بھیجنے کی زحمت کریں تاکہ اس سلسلہ میں ہوئی پیش رفت کو لے کر حکومت کو واقف کرایا جا سکے ۔

    مدھیہ پردیش کے ممتاز شاعر منطر بھوپالی نے حکومت کے فیصلہ تنگ نظری سے تعبیر کیا ہے ۔ منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تنگ نظری کا فیصلہ ہے۔ میں وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ میرے کرم فرما ہیں ، میرے دوست ہیں ۔ وہ خود اردو بولتے ہیں ۔ وہ تو خود مشاعرہ سنتے ہیں۔ وہ تو خود اپنے بیان میں غزل کے شعر سناتے ہیں۔ اکثر غزلوں کی کتابیں بھی پڑھتے ہیں۔ تو ایسا اچانک کیا ہوگیا کہ انہیں اردو کا کون سا لفاظ برا لگ گیا  کہ انہوں نے پورے محکمہ کو ہی احکام جاری کردیا کہ اردو الفاظ کا اس طرح استعمال نہیں کیا جانا ہے۔ حکومت کا فیصلہ بہتر تو نہیں ہے۔ لیکن میں یہ بتا دوں کہ حکومت کے اس فیصلہ سے اردو کی صحت پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے بلکہ اردو اور ترقی کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اردو کی اب تو ملک کے باہر نئی بستیاں بس رہی ہیں ۔ اب صرف ہندوستان تک اردو محدود نہیں ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا، کنیڈا، عرب ممالک میں مشاعرہ بھی ہو رہے ہیں اور اردو کے رسالے بھی شائع ہو رہے ہیں۔ در اصل حکومت کو محبت کرنے والوں سے پریشانی ہے ۔ اردو محبت کی زبان ہے۔ اردو محبت کرنا سکھاتی ہے ۔ یہ نہ ہندو کی زبان ہے اور نہ ہی مسلمان کی زبان ہے۔ جو بھی وطن سے محبت کرے گا وطن پر جاں نثار کرے گا اردو وہاں پر آپ کو نطر آئے گی۔

    مدھیہ پردیش جمیعت علما نے بھی اردو کی جگہ ہندی الفاظ کے استعمال کرنے کے حکومت کے احکام کی مخالفت کی ہے ۔ مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ تنگ نظری ملک کے لئے بہت نقصاندہ ہوتی ہے ۔ یہ فیصلہ بھی حکومت کی تنگ نظری ہے ۔ ہر معاملہ کو تنگ نظری سے دیکھنا اور اس کے نفاذ میں شدت اختیار کرنے سے ہمارے ملک کی تہذیب و تمدن داغدار ہو رہی ہے۔ ہمیں حکومت کے احکام سے بہت دکھ ہوا اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے آئین کے شیڈیول آٹھ میں جن بائیس زبانوں کو جگہ دی گئی ہے اس میں اردو بھی ایک اہم زبان ہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلہ پر غور کرنا چاہئے اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے واپس لینا چاہئے۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ جو لوگ حکومت کے احکام کی مخالفت کر رہے ہیں وہ ملک کی قومی زبان کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ جس زبان کے الفاظ اب متروک ہوچکے ہیں اور ان کا عوام میں چلن نہیں ہے ، ان کی جگہ اگر ہندی کے الفاظ شامل کئے جا رہے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: