உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: اردو کے نئے فنکاروں کی نثری تخلیقات فن اور موضوعات کے لحاظ سے اہمیت کی حامل

    Bhopal News: اردو کے نئے فنکاروں کی نثری تخلیقات فن اور موضوعات کے لحاظ سے اہمیت کی حامل

    Bhopal News: اردو کے نئے فنکاروں کی نثری تخلیقات فن اور موضوعات کے لحاظ سے اہمیت کی حامل

    Madhya Pradesh News: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی شناخت ادبی حلقوں میں شہر غزل کی ہے لیکن اب بھوپال میں شاعری کے ساتھ نثری ادب پر جس طرح سے اردو کے نئے فنکار طبع آزمائی کر رہے ہیں، اس سے نہ صرف بھوپال کے ادبی منظرنامے میں بدلاؤ آیا ہے بلکہ اس سے بھوپال میں ادبی تخلیق کا کینوس بھی وسیع ہوا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی شناخت ادبی حلقوں میں شہر غزل کی ہے لیکن اب بھوپال میں شاعری کے ساتھ نثری ادب پر جس طرح سے اردو کے نئے فنکار طبع آزمائی کر رہے ہیں، اس سے نہ صرف بھوپال کے ادبی منظرنامے میں بدلاؤ آیا ہے بلکہ اس سے بھوپال میں ادبی تخلیق کا کینوس بھی وسیع ہوا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار فضا گروپس کے زیر اہتمام منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی میں بھوپال میں ادبی تقریب میں ممتاز اردو دانشوروں نے کیا ۔

    واضح رہے کہ بھوپال کی ادیبہ نفیسہ سلطانہ انا جن کا شاعری میں دیوان چند سال قبل دیوان انا کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے، اب انہوں نے افسانوی ادب پر اپنی قلم کے جوہر دکھاتے ہوئے عکس خیال کے عنوان سے اپنا افسانوی مجموعہ شائع کیا ہے۔ عکس خیال میں نفسیہ انا کے بیس افسانہ شامل ہیں جن میں خواتین کے مسائل، بچوں کی تعلیم اور سماجی سروکار کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: اقلیتی طلبا کے تعلیمی حقوق سے متعلق مسلم تنظیموں کا تحریک جاری رکھنے کا اعلان


    منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ اجرا تقریب میں ممتاز دانشوروں نے نفیسہ انا کے افسانوی مجموعہ عکس خیال پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے نفیسہ انا کی قلم کی جولانی سے تعبیر کیا ہے۔ نیوز 18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے نفیسہ انا نے بتایا کہ افسانہ لکھنے کا عمل تو انہوں نے بہت پہلے شروع کردیا تھا ، مگر کورونا قہر میں عوامی مسائل کو جس طرح سے دیکھا اسی کو قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے ۔ میں اپنے فن میں کہاں تک کامیاب ہوئی ہوں اس کا فیصلہ تو ناقدین کریں گے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: گوپی چند نارنگ کے جانے سے اردو دنیا ہوئی بے رنگ


    وہیں بھوپال کے ممتاز ادیب اقبال مسعود نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال جو شہر غزل ہے یہ شہر داستان کبھی نہیں تھا ، شہر افسانہ کہنے میں بھی جھجک محسوس ہوتی تھی لیکن نئی نسل جو ہمارے سامنے اہنی تحریروں کے حوالے سے سامنے آرہی ہے ان سے امید ہے کہ ایک بار بھوپال شہر افسانہ بھی بن کر رہے گا۔ میں نفیسہ انا کو ان کے افسانوی مجموعہ عکس خیال کے لئے مبارکباد دیتا ہوں۔ اس میں جو افسانے شامل ہیں، وہ موجودہ عہد کے مسائل کی عکاس کر رہے ہیں ۔ اس میں کیسا لکھا ہے اور کیا لکھا ہے اس کے لئے میں لوگوں سے درخواست کروں گا کہ وہ پڑھیں اور فیصلہ  خود کریں۔ کہانی کا فیصلہ تو خود کرنا ہوگا ، شاعری نہیں ہے کہ آپ نے سنی اور داد سے نواز دیا ۔

    ممتاز ادیب ڈاکٹر محمد اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا نفیسہ سلطانہ کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں تخیل کو کم جگہ دی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے انسانی مسائل کے ترجمان بن کر ہمارے سامنے آئے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ اردو قاری ان کے افسانوں کو پسند کریں گے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: