ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں اوقاف آمدنی میں ریکارڈ اضافہ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

بھوپال اور کمیٹی اوقاف عامہ کے سالانہ بجٹ میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے ریکارڈ میں ابھی تک کی آمدنی کا سب سے بڑا ریکارڈ دوکروڑ گیارہ لاکھ کا تھا ، مگر اس بار کمیٹی نے سابقہ تمام ریکارڈ کو توڑتے ہوئے سالانہ آمدنی دو کروڑاکتالیس لاکھ روپے درج کی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں اوقاف آمدنی میں ریکارڈ اضافہ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں اوقاف آمدنی میں ریکارڈ اضافہ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

بھوپال : کورونا قہر نے گزشتہ ایک سال میں ملک کی معیشت کو جس طرح سے نقصان پہنچایا ہے ، اس سے سبھی واقف ہیں ۔ کورونا قہر کے سبب ہزاروں لوگوں کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا تو کورونا کی مندی کے سبب نہ جانے کتنے ادارے بند ہوگئےاور کتنے اداروں میں ملازمین کی تنخواہوں کو نصف کردیا گیا ۔ ان سب کے باوجود بھوپال اور کمیٹی اوقاف عامہ کے سالانہ بجٹ میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے ریکارڈ میں ابھی تک کی آمدنی کا سب سے بڑا ریکارڈ دوکروڑ گیارہ لاکھ کا تھا ، مگر اس بار کمیٹی نے سابقہ تمام ریکارڈ کو توڑتے ہوئے سالانہ آمدنی دو کروڑاکتالیس لاکھ روپے درج کی ہے۔


واضح رہے کہ بھوپال میں وقف بورڈ کا قیام بارہ مئی انیس سو ایکسٹھ کو عمل میں آیا تھا ۔ وقف بورڈ نے بھوپال کی وقف یہ املاک کا نگرانی کے لئے بعد میں متولی کمیٹی اوقاف عامہ کی تشکیل کی ۔ کمیٹی کے ذریعہ  حالانکہ پہلے اقلیتی طلبہ کی اسکالرشپ اور بیواوں کی مدد کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا ، لیکن بعد کے عہد میں یہ کہہ کر بند کردیا گیا تھا کہ کمیٹی کو چندہ نگرانی اتنی موصول نہیں ہوتی کہ فلاحی کام انجام دئے جا سکیں ۔


تاہم گزشتہ سال متولی کمیٹی کے لئے جو نئی کمیٹی تشکیل دی گئی اس نے نہ صرف سبھی فلاحی کاموں کو پھر سے شروع کیا بلکہ وقف کے معاملات کو لیکر پورے شہر میں بیداری مہم بھی شروع کی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اوقاف کی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ۔ بلکہ سابقہ سبھی ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ وہ بھی اس حالات میں جب ریاست میں کورونا کا قہر جاری ہے ۔


متولی کمیٹی اوقاف عامہ کے سکریٹری حسیب اللہ خان کہتے ہیں کہ کمیٹی نے جو نشانہ حاصل کیا ہے ، اس میں اسٹاف کی محنت اور وقف کو لیکر چلائی گئی بیداری مہم شامل ہے ۔ کورونا قہر میں جب ہماری آمدنی میں ریکارڈ اضافہ درج ہوا تو اگر یہ نہیں ہوتا تو ہماری آمدنی کہاں پہنچی ہوتی ۔ ہم نے کورونا قہر میں بھی طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کے لئے کھلے ہاتھ سے مدد کی ۔ جو بھی طالب عالم فیس اور کتاب کے لئے ہمارے پاس آیا ، ہم نے کسی کو خالی ہاتھ واپس نہیں جانے دیا۔

اب جبکہ ہماری آمدنی میں اضافہ درج ہوا تو ہم نے اس سے یتیموں اور بیواوں کی مد میں بڑا اضافہ کرنے کے ساتھ طلبہ کی تعلیم پر خصوصی فوکس کیا ہے ۔ ہمارا تو مشن ہے کہ آپ پڑھیں فیس ہم ادا کریں گے ۔ مالی مشکلات سے کسی بھی بچے کا تعلیمی سلسلہ منطقع ہویہ ہمیں منظور نہیں ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 01, 2021 08:59 PM IST