உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : شیوراج سنگھ حکومت نے اردو اساتذہ کو پھر کیا نظر انداز، جانئے کیا ہے معاملہ

    مدھیہ پردیش : شیوراج سنگھ حکومت نے اردو اساتذہ کو پھر کیا نظر انداز، جانئے کیا ہے معاملہ

    مدھیہ پردیش : شیوراج سنگھ حکومت نے اردو اساتذہ کو پھر کیا نظر انداز، جانئے کیا ہے معاملہ

    محکمہ اعلی تعلیم کی جانب سے ریاست کے کالجوں میں سبھی مضامین کے لئے چار سو پچاس اساتذہ کی تقرری کا نوٹیفکیشن تو جاری کیا گیا ہے ، مگر اس میں اردو اساتذہ کی تقرری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حکومت نے اردو اساتذہ کی تقرری کو نظر انداز کردیا ہے ۔ محکمہ اعلی تعلیم کی جانب سے ریاست کے کالجوں میں سبھی مضامین کے لئے چار سو پچاس اساتذہ کی تقرری کا نوٹیفکیشن تو جاری کیا گیا ہے ، مگر اس میں اردو اساتذہ کی تقرری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ اردو اساتذہ کی تقرری کو نظر انداز کئے جانے پر مسلم تنظیموں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے دوسرے مضامین کی طرح اردو مضامین کے اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔

    مولانا برکت اللہ ایجوکیشن سوسائٹی کے رکن مفتی محمد رافع کہتے ہیں کہ بڑی امید تھی کہ حکومت دوسرے مضامین کے ساتھ اردو اساتذہ کی تقرری کا بھی نوٹیفکیشن جاری کرے گی اور اس بار اردو کے وہ طلبہ جنہوں نے اردو ذریعہ تعلیم سے اعلی سند حاصل کی ہیں ، انہیں ملازمت کا موقعہ فراہم ہوگا ، لیکن حکومت نے ہر بار کی طرح امسال بھی اردو اساتذہ کی تقرری کو نظر انداز کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ اردو ہندوستان کی زبان ہے اور ان کے  فروغ میں بلا لحاظ قوم و ملت سبھی قوموں کا لہو شامل ہے ۔ اردو کو نظر انداز کرنے کا مطلب ہے کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو نظر انداز کرنا ہے ۔ ہماری حکومت سے مانگ ہے کہ جس طرح سے حکومت سے دوسرے مضامین کے لئے چارسو پچاس اساتذہ کی تقرری کو لے کر نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ، اسی طرح سے اردو اساتذہ کی تقرری کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اعلی تعلیم ڈاکٹر موہن یادو کہتے ہیں کہ شیوراج سنگھ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے فارمولے پر کام کرتی ہے ۔ کمل ناتھ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کرنے کے بعد بھی اردو اساتذہ کی تقرری کا کوئی کام نہیں ہے ۔ جہاں جیسی ضرورت ہوگی اس کا کام جائے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: