உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: ادب کے مزاج داں شعیب نظام صحرا کو گلزار بنانے کے ہنر سے ہیں واقف

    Bhopal News: ادب کے مزاج داں شعیب نظام صحرا کو گلزار بنانے کے ہنر سے ہیں واقف

    Bhopal News: ادب کے مزاج داں شعیب نظام صحرا کو گلزار بنانے کے ہنر سے ہیں واقف

    Bhopal News: نئی غزل کے حوالے سے ملک و بیرون میں جب بھی بات کی جاتی ہے تو اس میں شعیب نظام کا نام اپنے فن کی انفرادیت کے سبب نمایاں نظر آتا ہے ۔ شعیب نظام کی تعلیم و تربیت اودھ کے خاص ادبی ماحول میں ہوئی ۔

    • Share this:
    بھوپال : نئی غزل کے حوالے سے ملک و بیرون میں جب بھی بات کی جاتی ہے تو اس میں شعیب نظام کا نام اپنے فن کی انفرادیت کے سبب نمایاں نظر آتا ہے ۔ شعیب نظام کی تعلیم و تربیت اودھ کے خاص ادبی ماحول میں ہوئی ۔ انہوں نے یاس یگانہ چنگیزی پر تحقیقی مقالہ لکھ کر جہاں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ، وہیں انہوں نے ساہتیہ اکادمی کے لئے یگانہ پر مونوگراف بھی لکھا ہے جس ادبی حلقوں میں خوب پسند کیا گیا ۔ شعیب نظام نے انتخاب یگانہ اور کلیات شفائی کو بھی شائع کیا ہے ۔عکس گم گشتہ کے ذریعہ جہاں انہوں نے صحرا کو گلزار بنانے کا ہنر دکھایا ہے وہیں ان کی ادبی جہات پر اردو  چینل اور سہ ماہی انتساب کے ذریعہ خصوصی شمارہ بھی شائع کیا ہے۔

    ممتاز ادیب و شاعر شعیب نظام نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت میں کہا کہ ادبی سروکار پر گفتگو بہت اچھی بات ہے لیکن جب اس طرح کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے تو اس سے فنکار کے لئے چیلنج پید ہو جاتے ہیں اور ان کا قاری انہیں اور بہتر انداز میں تخلیق کے حوالے سے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس میں اندر سے یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ ایک معیار اگر میرے لئے لوگوں نے بنایا ہے تو کوشش یہ کی جانا چاہیے کہ اس سے نیچے نہ اترا جائے ۔ آئندہ کی تحریروں میں اگر اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں تو اس پر قائم ضرور رہنا چاہئے ۔ فنکار کو یہ دیکھنا چاہئے کہ جب اس کی تحریروں میں ریپیٹشن ہونے لگے تو اسے خاموش ہو جانا چاہئے ۔ ہر تخلیق کار اپنا ناقد خود ہوتا ہے ۔ اسے خود پتہ ہوتا کہ اس کا مضمون یا اس کا شعرا ادب کی کسوٹی پر کہاں تک فٹ بیٹھتا ہے اور جب فنکار کو یہ معلوم ہونے لگے کہ وہ خود کو ریپیٹ کررہا ہے تو اسے اپنا قلم روک دینا چاہئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : رباط میں عازمین حج کے قیام کی غیر یقینی صورتحال برقرار، جمعیت علما نے سخت موقف کا کیا اظہار


    ممتاز ادیب ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے سمینار میں شعیب نظام کے ادبی سروکار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعیب نظام کی ادبی خدمات پر سہ ماہی انتساب کے خصوصی شمارے کے لئے ڈاکٹر سیفی سرونجی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعیب نظام ادب کے مزاج داں ہیں وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثر نگار بھی ہیں ۔ ان کا بنیادی کام یگانہ پر ہے ۔ ان کی ادبی خدمات کو وسیع کنواس میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ادب میں بے ایمانی کا زمانہ ہے لیکن جب لوگ شعیب نظام کی تحریر کو پڑھتے ہیں تو نئے لکھنے والوں کو حوصلہ ملتا ہے ۔

    سہ ماہی انتساب کے مدیر و ممتاز ادیب ڈاکٹر سیفی سرونجی نے شعیب نظام پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سہ ماہی انتساب کے ذریعہ ابتک ادب کی پچیس مقتدر شخصیات پر خصوصی نمبر نکالا جا چکا ہے جس میں سے شعیب نظام بھی ایک ہیں ۔ سہ ماہی انتساب کسی پر گوشہ یا نمبر شائع کرنے سے قبل ادبی حوالوں سے اس پر ریسرچ کرتاہے اور جب فنکار ادبی حوالوں کی میزان پر کھرااترتا ہے تو گوشہ یا نمبر شائع کیا جاتا ہے ۔شعیب نظام صحرا کو گلرار بنانے کا ہنر جانتے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : بھوپال کی جامع مسجد کو لے کر سیاسی گھمسان، سادھوی پرگیہ سنگھ کے مطالبہ پر کانگریس ناراض


    ممتاز ادیب و شاعر ضیا فاروقی نے شعیب نظام کی شاعری کواودھ کی ادبی خصوصیت کے حوالے سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعیب نظام کی شاعری میں نیم کلاسیکی درو بست  اور نفاست کے ساتھ جدید عہد کے ترقی پسند اور جدید میلانات جس طرح سے در آئے ہیں وہ انکا خاصہ ہے۔

    سمینار کے صدر اقبال مسعود نے شعیب نظام ہمارے ہمعصر ادیبوں اور شاعروں میں ایک نمایاں نام ہے ۔نمایاں اس لئے ہے کہ انہوں نے شاعری میں کچھ نئے تجربات کئے ہیں ۔خاص طور سے فن کے لحاظ سے،لفظیات کے لحاظ سے۔ورنہ اس زمانے میں اتنی بڑی تعداد میں کتابیں آرہی ہیں ان سب کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ شاعری کا وہ فن ہی نہیں ہے جس کو نمایاں کیا جائے۔ان کے یہاں شاعری کا جو درو بست ہے جو ڈھنگ ہے اس نے انہیں یہاں اپنے معاصرین میں ممتاز کردیا ہے۔

    پروگرام میں استوتی اگروال نے جہاں شعیب نظام کی ادبی فتوحات کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہار کیا وہیں ممتاز ادیب و شاعر ڈاکٹر ظفر سرونجی نے اپنی نظامت کے منفرد انداز سے سمینار کے حسن کو دوبالا کیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: