உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP Latest : مدرسہ بورڈ میں جن مدارس کے نہیں ہیں رجسٹریشن ان کے خلاف ہوگی کارروائی

    MP Latest : مدرسہ بورڈ میں جن مدارس کے نہیں ہیں رجسٹریشن ان کے خلاف ہوگی کارروائی

    MP Latest : مدرسہ بورڈ میں جن مدارس کے نہیں ہیں رجسٹریشن ان کے خلاف ہوگی کارروائی

    Madhay Pradesh : مدھیہ پردیش میں مدارس کو لے کر وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کے بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں گھمسان مچ گیا ہے۔ وزیر ثقافت جن مدارس کا مدرسہ بورڈ میں رجسٹریشن نہیں ہے، انہیں فرضی مان رہی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کو لیکر انہوں نے اپنے سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Bhopal
    • Share this:
      بھوپال : مدھیہ پردیش میں مدارس کو لے کر وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کے بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں گھمسان مچ گیا ہے۔ وزیر ثقافت جن مدارس کا مدرسہ بورڈ میں رجسٹریشن نہیں ہے، انہیں فرضی مان رہی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کو لیکر انہوں نے اپنے سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔ وہیں مسلم سماجی تنظیموں نے مدارس کے تحفظ کو لے کر وزیر ثقافت کے ذریعہ دئے گئے بیان کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ مدارس کے خلاف کارروائی کو ملک دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے وزیر کے خلاف کارروائی کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔

      واضح رہے کہ وزیر ثقافت اوشا ٹھا کر کے ذریعہ ایک ہفتہ قبل صوبہ میں فرضی مدارس کے ہونے کی بات کہی گئی تھی، مگر اب وزیر ثقافت نے دو قدم اور بڑھتے ہوئے یہ کہہ کر مسلم معاشرے میں کھلبلی مچا دی کہ جن مدارس کا مدرسہ بورڈ میں رجسریشن نہیں ہے اور زمینی سطح پر وہ جاری ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: راہل بھٹ کے قتل میں ملوث دہشت گرد لطیف راتھر کو مار گرایا گیا


      مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کا کہنا ہے کہ صوبہ میں بڑی تعداد میں فرضی مدارس کے چلنے کی خبر ملی ہے ۔ یہاں حکومت کے ذریعہ مدرسہ بورڈ قائم کیا گیا ہے، لیکن کچھ مدارس ایسے بھی جاری ہیں جن کا مدرسہ بورڈ میں کوئی رجسٹریشن نہیں ہے ۔ ایک ایک کمرے میں مدرسہ چلایا جارہا ہے ، محکمہ تعلیم کی بچوں کی تعلیم کو لے کر جو گائیڈ لائن ہے، اس کا بھی پالن نہیں کیا جارہا ہے۔ ہوسٹل کے نام پر صرف اتنا ہی ہے کہ جس کمرے میں بچے پڑھتے ہیں کلاس ختم ہونے کے بعد وہیں پر دری بچھا کر سو جاتے ہیں ،جو مدرسے ضابطہ کے تحت نہیں ہے ان سب کے خلاف کارروائی ہوگی ۔

      وہیں اس تعلق سے جب  نیوز 18 اردو نے مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وزیر ثقافت بے بنیاد بیان مدارس کو لے کر دے رہی ہیں ۔ دو طرح کے مدرسے چلتے ہیں ایک وہ مدرسے ہیں جن کا مدرسہ بورڈ سے الحاق ہے اور انہیں حکومت گرانٹ دیتی ہے، مگر دوسرے وہ مدارس ہیں، جن کو سوسائٹیاں چلاتی ہیں جن کا رجسٹریشن فرم اینڈ سوسائٹی میں ہوتا ہے ۔ یہ مدارس نہ تو مدرسہ بورڈ میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور نہ حکومت سے کسی قسم کی گرانٹ لیتے ہیں ۔ حکومت سبھی کو ایک ڈنڈے سے ہانکنا چاہتی ہے، جو منظور نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: نائب صدر جمہوریہ بننا چاہتے تھے نتیش کمار، بہار میں تیجسوی ہوں گے اصلی CM : سشیل مودی


      مدرسہ بورڈ کے تحت جو مدارس ہیں ان  کی تعلیم صرف بارہویں تک ہوتی ہے، جب کہ دوسرے مدارس میں اعلی دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔ مدارس نے تحریک آزادی میں اور ملک کی ترقی میں بے مثل کارنامہ انجام دیا ہے اور جو لوگ مدارس کے خلاف بات کر رہے ہیں وہ نہ صرف مدارس تعلیم کے خلاف ہیں بھی وہ ملک دشمن عناصر بھی ہیں ۔ اس معاملے کو لے کر ہم وزیر اعلی سے ملاقات کریں گے ۔ تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مدارس کو آئین کے مطابق تعلیم دینے کے حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔

      ایک بات اور اوشا ٹھاکر کے ذریعہ مدرسہ بورڈ کے مدارس کی بات کی جارہی ہے، مگر گزشتہ چھ سالوں سے مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ مدارس کے اساتذہ کو تنخواہیں جاری نہیں کی گئی ہیں، اس کے بارے میں وزیر ثقافت کو کبھی فکر نہیں ہوتی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: