உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : عمر خان نے پیش کی ایمانداری کی ایسی مثال ، ڈی آئی جی بھی تعریف کرنے پر ہوگئے مجبور

    مدھیہ پردیش : عمر خان نے پیش کی ایمانداری کی ایسی مثال ، ڈی آئی جی بھی تعریف کرنے پر ہوگئے مجبور

    مدھیہ پردیش : عمر خان نے پیش کی ایمانداری کی ایسی مثال ، ڈی آئی جی بھی تعریف کرنے پر ہوگئے مجبور

    عمر خان کا کہنا تھا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ بیگ لے کر گھر چلے جاتے تو تمہیں کون پوچھتا ۔ تو ایسے لوگوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے رزق کو میں کتنے دن کھاتا ۔ اپنی نظروں میں بھی گرتا اور اللہ کے حضور جو ندامت ہوتی وہ الگ ۔ اللہ نے حلال رزق میں بڑی برکت دی ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : ترقی کی اس دوڑ میں جہاں ہر شخص ایک دوسرے کو گرا کر آگے بڑھنے میں مصروف ہے ، وہیں ایسے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں ، جن کے ایمان کو بڑی سے بڑی چیزیں بھی ڈگمگا نہیں سکتی ہے ۔ بھوپال پیر گیٹ پر رہنے والے عمر خان آٹو چلاکر اپنے گھر کی کفالت کرتے ہیں ۔ کورونا قہر میں ان کا گھرانہ جس مشکلات سے گزرا ہے ، اس کو بیان کرتے ہوئے عمر خان کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں ۔ چھبیس جون کو جب عمر خان کے آٹو میں بیٹھ کر دو خواتین چوک بازار خریداری کرنے کے لئے پہنچیں ، تو جلدی میں وہ نوٹ و زیورات سے بھرا بیگ آٹو میں ہی بھول گئیں ۔ عمرخان کی نظر جب تک بیگ پر پڑتی دونوں خاتون بازار کے اندر جا چکی تھیں ۔ عمر خان نے کچھ دیر تو وہاں پر ٹھہر کر خواتین کا انتظار کیا ، مگر جب وہ واپس نہیں آئیں تو عمر خان نے زیورات اور نوٹ سے بھرا بیگ پولیس ہیلپ مرکز پیر گیٹ کے سپرد کردیا ۔ بیگ کو جب پولیس نے چیک کیا تو اس میں دو لاکھ سے زیادہ کے زیورات اور چالیس ہزار کے قریب کیش موجود تھا ۔ تھانہ کوتوالی پولیس نے بیگ میں موجود کارڈ سے دونوں خاتون کو تلاش کیا اور زیورات کے ساتھ کیش ان کے سپرد کردیا ۔ آٹو ڈرائیور عمر خان کی ایمانداری پر بھوپال ڈی آئی جی ارشاد ولی نے انہیں اعزاز سے سرفراز کیا ۔

    عمر خان کہتے ہیں کہ چھبیس جون کو جو دو خاتون آٹو میں بیٹھیں تھی ، ان کے پاس بہت سے بیگ تھے۔  دونوں خاتون آٹو سے اتر کر چوک بازار کو روانہ ہوگئیں ۔ ہم نے پہلے کچھ دیر ٹھہر کر ان کا انتظار کیا اور جب وہ واپس نہیں آئیں تو وہ بیگ ہم نے پولیس کے سپرد کردیا ۔ تاکہ جس کی امانت ہے ، اس کے پاس پہنچ جائے۔ پولیس نے جب بیگ کو چیک کیا تو اس میں لاکھوں کے زیورات اور کیش موجود تھے۔

    عمر کا کہنا تھا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ بیگ لے کر گھر چلے جاتے تو تمہیں کون پوچھتا ۔ تو ایسے لوگوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے رزق کو میں کتنے دن کھاتا ۔ اپنی نظروں میں بھی گرتا اور اللہ کے حضور جو ندامت ہوتی وہ الگ ۔ اللہ نے حلال رزق میں بڑی برکت دی ہے ۔ آٹو سے اللہ اتنا دیدیتا ہے کہ میرے گھر کی کفالت الحمد اللہ بہت خوب ہو جاتی ہے ۔ خداکا شکر ہے کہ جس کی امانت تھی اس کے پاس خیر کے ساتھ پہنچ گئی ۔

    وہیں بھوپال ڈی آئی جی ارشاد ولی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ایسے ایماندار لوگ کم ملتے ہیں ۔ عمر خان جیسے لوگ سماج کے لئے مثال ہیں ۔ عمر خان کی اس ایمانداری پر انہیں محکمہ پولیس کی جانب سے توصیفی سند پیش کیا گیا ہے ۔ تاکہ دوسرے لوگ بھی ان سے سبق لیں اور سماج کو بنانے میں اپنا مثالی کردار پیش کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: