உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News: گوپی چند نارنگ کے جانے سے اردو دنیا ہوئی بے رنگ

    Bhopal News: گوپی چند نارنگ کے جانے سے اردو دنیا ہوئی بے رنگ

    Bhopal News: گوپی چند نارنگ کے جانے سے اردو دنیا ہوئی بے رنگ

    Madhya Pradesh: ممتاز ادیب، محقق و ماہر لسانیات گوپی چند نارنگ کے سانحہ ارتحال پر مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں تعزیتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : ممتاز ادیب، محقق و ماہر لسانیات گوپی چند نارنگ کے سانحہ ارتحال پر مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں تعزیتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی میٹنگ میں اردو کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور گوپی چند نارنگ کے سانحہ ارتحال کو ادب کے ایسے خسارے سے تعبیر کیا جس کی تلافی صدیوں ممکن نہیں ہے ۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی حیات وادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں فحر ہے کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے گوپی چند نارنگ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں اکادمی کے سب سے بڑے میر تقی میر ایوارڈ سے سرفراز کیا تھا ۔ یہی نہیں مدھیہ پردیش اقبال مرکز نے گوپی چند نارنگ کو کل ہند اقبال اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے ذریعہ شروع کی گئی اردو تحریک کی بقا کی تمنا کرتی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش عازمین حج مکہ و مدینہ رباط میں نہیں کر سکیں گے قیام، جانئے کیوں


    ممتاز استاد شاعر ظفر صہبائی نے تعزیتی پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوپی چند نارنگ اردو ادب کا بڑا ستون تھا، ان کا جہان فانی سے جانا ناقابل تلافی خسارہ ہے ۔ شمس الرحمن فاروقی کے بعد شاید یہ آخری ستون تھا جو ہم سے دور ہوگیا اور اب ایسی کوئی شخصیت دور دور تک دکھائی نہیں دیتی ہے اور اگر کوئی آئے گا بھی تو اس کے لئے صدیاں درکار ہوں گی ۔ میں گوپی چند نارنگ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے اردو کو نئے موضوعات دیتے ہوئے جو ساٹھ کتابیں لکھی ہیں، وہ ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: نیوز 18 اردو کی مہم رنگ لائی، مدرسہ جانے والے گرفتار دس بچوں کو چائلڈ لائن سے ان کے گھر روانہ کیا گیا


    ممتاز ادیب و محقق ڈاکٹر مہتاب عالم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا پروفیسر گوپی چندنارنگ جیسی عبقری شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ وہ مثل خوش رنگ اردو زبان کے افق پر تھے ۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے جانے سے اردو آج بے رنگ ہوگئی ہے ۔ انہوں نے جن موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اس کا حق ادا کیا ۔

    ایم پی اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی پروگرام میں استاد شاعر قاضی ملک نوید، ماہر عروض ڈاکٹر محمد اعظم اور نفیسہ انا نے بھی گوپی چند نارنگ کی حیات و ادبی خدمات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض رضوان الدین فاروقی نے بحسن و خوبی انجام دئے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: