உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh Budget 2022: شیوراج حکومت کے بجٹ سے مدھیہ پردیش کا اقلیتی طبقہ ہوا مایوس

    Madhya Pradesh Budget 2022: حکومت کے ذریعہ تعلیم، زراعت کے ساتھ جہاں خواتین اور بچوں کے لئے بجٹ میں خاص اہمتام کیا گیا ہے تو وہیں تیرہ ہزار اساتذہ کی تقرری کے لئے بھی قدم تو اٹھایا گیا ہے ، لیکن اقلیتی اداروں کے بجٹ میں سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

    Madhya Pradesh Budget 2022: حکومت کے ذریعہ تعلیم، زراعت کے ساتھ جہاں خواتین اور بچوں کے لئے بجٹ میں خاص اہمتام کیا گیا ہے تو وہیں تیرہ ہزار اساتذہ کی تقرری کے لئے بھی قدم تو اٹھایا گیا ہے ، لیکن اقلیتی اداروں کے بجٹ میں سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

    Madhya Pradesh Budget 2022: حکومت کے ذریعہ تعلیم، زراعت کے ساتھ جہاں خواتین اور بچوں کے لئے بجٹ میں خاص اہمتام کیا گیا ہے تو وہیں تیرہ ہزار اساتذہ کی تقرری کے لئے بھی قدم تو اٹھایا گیا ہے ، لیکن اقلیتی اداروں کے بجٹ میں سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش اسمبلی میں شیوراج سنگھ حکومت کے پیش کردہ بجٹ سے صوبہ کا اقلیتی طبقہ حد درجہ مایوس ہے۔ حکومت کے ذریعہ تعلیم، زراعت کے ساتھ جہاں خواتین اور بچوں کے لئے بجٹ میں خاص اہمتام کیا گیا ہے تو وہیں تیرہ ہزار اساتذہ کی تقرری کے لئے بھی قدم تو اٹھایا گیا ہے ، لیکن اقلیتی اداروں کے بجٹ میں سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے سال دوہزار بائیس تیئس کے لئے دو لاکھ انیاسی ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ بجٹ وزیر خزانہ جگدیش دیوڑا نے پیش کیا اور بجٹ پیش کرنے کے دوران وزیر خزانہ کو کانگریس اراکین کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  بیگمات بھوپال کے زریں کارناموں سے روشن ہے بھوپال کے ادب کی تاریخ


    مدھیہ پردیش میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کی جانب سے حج کمیٹی،مدرسہ بورڈ،وقف بورڈ،مساجد کمیٹی،اقلیتی کمیشن ،اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن اور اردو اکادمی جیسے ادارے تو موجود ہیں ، لیکن یہ سبھی ادارے حکومت کی عدم توجہی کے سبب بیمار ہیں ۔ اقلیتی اداروں میں کمیٹیوں کی تشکیل دوہزار اٹھارہ سے نہیں ہوئی ہے ۔ اداروں کا کوئی سربراہ نہیں ہونے کے سبب ان اداروں کا ترقیاتی کام تو متاثر تھا ہی اوپر سے حکومت نے مہنگائی کے اس دور میں بجٹ میں کوئی اضافہ نہ کر کے اقلیتوں کو اور مایوس کردیا ہے۔ اقلیتی اداروں کا جو بجٹ  دو سال پہلے تھا وہی برقرار رکھا گیا ہے۔ ایسا نہیں اقلیتی اداروں کا بجٹ بہت زیادہ ہے بلکہ یہ اتنا بھی نہیں ہے کہ یہاں کے ملازمین کو کلکٹریٹ ریٹ پر تنخواہیں  مل سکیں ۔ مساجد کا کل بجٹ تین کروڑ اٹھاسی لاکھ، تو وقف بورڈ کا سالانہ بجٹ تین کروڑ،حج کمیٹی کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ اسی لاکھ تو مدرسہ بورڈ کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ تیرہ لاکھ روپے ہی ہے ۔

    مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری اقبال مسعود کہتے ہیں کہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے ۔بجٹ سے قبل بھوپال کی مسلم نمائندہ کمیٹیوں نے میٹنگ کرکے حکومت سے بجٹ میں اضافہ کا مطالبہ کیا تھا ، مگر حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں ہی لیا۔ ان باتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سرکار مسلمانوں کو کچھ دینا ہی نہیں چاہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم یہاں رہتے ہیں نہیں اور ہم کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا ہے ۔ خاص طور پر یہاں پر اور کرناٹک میں جو بجٹ آیا ہے وہ پوری طرح سے انتخابات کو لیکر بنایا گیا ہے اور بجٹ کے ذریعہ حکومت اپنے ووٹرس کو بتانا چاہتی ہے کہ ہم مسلمانوں کو دیوار سے لگا دینا چاہتے ہیں ۔ان کے بغیر بھی ہم انتخابات جیت جائیں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ایک ہی دن شادی کے بندھن میں بندھیں لیو ان میں رہنے والی 1320 جوڑیاں، جانئے کیوں


    اقلیتوں کے ایک بھی ادارے کا بجٹ نہیں بڑھایا گیا ہے ۔ہمارے ساتھ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکومت ہماری جانب دیکھنا ہی نہیں چاہتی ہے ۔مہنگائی پہلے کے مقابلہ کئی گنا بڑھ گئی ہے  اور ایسے وقت میں جب کہ یوکرین اور روس کی جنگ ہو رہی ہے مہنگائی اور بڑھے گی اور ایسے میں اقلیتی اداروں کو چلانا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ابھی یہ صورتحال ہے کہ چار چار پانچ پانچ ماہ ان ادارو ں کے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملتی ہے  آگے کیا ہوگا اسے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے ۔

    وہیں منشی حسین خا ن ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین ڈاکٹر افتخار علی کہتے ہیں کہ جمہوری ملک میں ایسے بجٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے ۔مہنگا’ئی میں نہ توکسی ٹیکس میں عوام کوچھوٹ دی گئی ہے اور نہ ہی اقلیتی اداروں کی جانب کوئی توجہ کی گئی ہے ۔حکومت نے دارو کو سستا کیا ہے دال اور دوا کو مہنگا کردیا ہے ۔حکومت پیٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی ہی کم کردیتی تو عوام کو کچھ راحت مل جاتی ۔اقلیتوں کی بات کریں تو ا ن کی فلاح کے لئے بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اتنے بڑے طبقہ کو نظر انداز کرنے سے صوبہ ترقی نہیں کرسکتا ہے۔

    وہیں ممتاز ادیب ضیا فاروقی بجٹ کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہیں ۔ ہم سمجھتے کہ انتخابات سرپر ہیں تو حکومت کسانوں،دلتوں اور آدیواسیوں کی طرح اقلیتی طبقہ کی جانب دیکھےگی لیکن ایسا کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات تو کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس کا ہر جگہ فقدان ہی دیکھائی دیتا ہے ۔حکومت کو اپنے فیصلہ پر غور کرنا چاہیئے۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت کمل پٹیل بجٹ کو نہ صرف تاریخی قرار دیتے ہیں بلکہ مدھیہ پردیش کی ترقی میں سنگ میل سے تعبیر کرتے ہیں ۔ کمل پٹیل کا کہنا ہے کہ بجٹ میں سبھی طبقہ کا خیال رکھا گیا ہے۔ کسانوں کے لئے آدیواسیوں کے لئے خواتین اور بچوں کے لئے جو قدم اٹھایاگیا ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔کانگریس کے لوگوں کی آپ بات مت کیجئے ملک کی پسماندگی ان کی تنگ نظری کے سبب ہی ہوئی ہے ۔

    مدھیہ پردیش کے سابق سی ایم کمل ناتھ نے بجٹ کو انتہائی مایوس کن سے گمراہ کن قرار دیا ہے ۔کمل ناتھ کہتے ہیں کہ یہ بجٹ اور فریب کا پلندہ ہے یہ بجٹ۔حکومت بجٹ میں صرف انتظامات کی بات کرتی ہے ۔گزشتہ سال بھی بجٹ میں انتظامات کی بات کی گئی تھی لیکن حکومت یہ نہیں بتاتی کہ سابقہ سال کے بجٹ کا کتنا فنڈ استعمال ہوا ۔اور بے روزگاری کتنی کم ہوئی۔کھاد اور بیچ کے دام کیوں بڑھ رہے ہیں۔یہ بجٹ جنتا کو گمراہ کرنے کا،جنتا کو پھر سے دھوکہ دینے کا ہے۔ اور اگلے سال کے بجٹ میں یہ صاف ہوجائے گا کہ  حکومت نے کتنا بڑا دھوکہ ہمارے صوبہ کے ہر طبقہ کو دیا ہے ۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے بجٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبہ کی سب سے بڑی اقلیت کو جس طرح سے نظر انداز کر رہی ہے وہ ملک کے حق میں نہیں ہے ۔ اقلیتی اسی ملک کے باشندے ہیں اور ان کی ترقی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ہم حکومت کے بجٹ سے مایوسی ضرور ہیں لیکن جلد ہی مسلم تنظیموں کی میٹنگ کر کے  اقلیتی اداروں کے مسائل کولیکر وزیر اعلی شیوراج سنگھ اور گورنر منگو بھائی پٹیل سے ملاقات کرینگے تاکہ اقلیتوں کے مسائل حل کئے جا سکیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: