ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

لو جہاد قانون کے مسودے کو شیوراج سنگھ کابینہ نے دی منظوری

لو جہاد قانون کے مجوزہ مسودے پر شیوراج کابینہ نے اپنی مہر لگادی ہے۔ ورچوئل طریقے سے منعقدہ کابینہ کی خصوصی میٹنگ میں لو جہاد قانون کے مجوزہ مسودے پر پہلے کابینہ وزرا کے بیچ مختلف پہلوؤں پر بات کی گئی اس کے بعد اسے اتفاق رائے سے پاس کردیاگیا۔

  • Share this:

لو جہاد قانون کے مجوزہ مسودے پر شیوراج کابینہ نے اپنی مہر لگادی ہے۔ ورچوئل طریقے سے منعقدہ کابینہ کی خصوصی میٹنگ میں لو جہاد قانون کے مجوزہ مسودے پر پہلے کابینہ وزرا کے بیچ مختلف پہلوؤں پر بات کی گئی اس کے بعد اسے اتفاق رائے سے پاس کردیاگیا۔ واضح رہے کہ لو جہاد قانون کو لیکر مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ ایک ماہ سے منتھن جاری تھا۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد آج لو جہاد قانون کے مسودے پر کابینہ نے مہر لگادی ہے۔ اب اسے اٹھائیس دسمبر سے شروع ہونےوالے اسمبلی کے سہ روزہ سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی میں پاس ہونے کے بعد مدھیہ پردیش میں مذہبی آزٓدی بل کا نفاد کردیاجائے گا۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹرنروتم مشرا کا کہنا ہے کہ لو جہاد قانون کو کابینہ میٹنگ میں پاس کردیاگیا ہے۔اب مذہبی آزادی کا انیس سو اڑسٹھ میں بنایا گیا قانون ختم ہوگیا ہے۔قانون میں زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزا کے ساتھ ایک لاکھ کے جرمانہ بھی رکھا گیا ہے۔سرکار نے لو جہاد کو روکنے کے لئے کافی سخت قانون کو بنایا ہے ۔قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی اوران تنظیموں کو بھی سزا ہوگی جو لو جہاد کو فروغ دینگی ۔پیار میں شادی کرنے والوں کو دو ماہ قبل کلکٹر کے یہاں اطلاع دینی ہوگی ۔کلکٹر کی منظوری کے بعد ہی کوئی شادی کرسکے گا۔لو جہاد کو روکنے کے لئے ملک میں سب سے بڑا قانون مدھیہ پردیش میں بنایاگیا ہے ۔

وہیں کانگریس نے لو جہاد قانون کے مسودہ کو کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد اپنے محتاط رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر و سابق وزیر پی سی شرما کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی کا قانون پہلے سے ہی موجود ہے ۔حکومت بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے مذہبی جذبات سے کھیلنے کا کام کر رہی ہے ۔میرا تو سوال ہے کہ کیااس قانون کے بن جانے کے بعد وہ لوگ جو بی جے پی کے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں اور انہوں نے دوسرے مذاہب کی لڑکیوں سے شادی کی ہے کیا انکی گھر واپسی ہوگی ۔اسمبلی میں لو جہاد قانون کے ڈرافٹ کو دیکھنے کے بعد کانگریس اپنا فیصلہ لے گی۔


واضح رہے کہ اتر پردیش میں لو جہاد قانون بنائے جانے کے بعد ہی مدھیہ پردیش حکومت نے ایم پی میں لو جہاد کو روکنے کے لئے اپنے سخت موقف کا اعلان کیاتھا۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد آج لو جہاد قانون کے مسودے کو شیوراج سنگھ کابینہ نے منظوری دیدی ہے اب اس بل کو اٹھائیس دسمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی میں پاس ہونے کے بعد مذہبی آزادی بل کا مدھیہ پردیش میں نفاذ ہو جائے گا۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 26, 2020 02:46 PM IST