உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : کانگریس نے فرضی ٹیسٹنگ کا لگایا الزام ، شیوراج حکومت نے دیا یہ جواب

    مدھیہ پردیش : کانگریس نے فرضی ٹیسٹنگ کا لگایا الزام ، شیوراج حکومت نے دیا یہ جواب

    مدھیہ پردیش : کانگریس نے فرضی ٹیسٹنگ کا لگایا الزام ، شیوراج حکومت نے دیا یہ جواب

    کانگریس نے کورونا ریکوری ریٹ میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت پر فرضی ٹیسٹنگ کرنے اور ایک ہی موبائل نمبر پر چالیس چالیس لوگوں کا نام رجسٹرڈ کر کے لوگوں کو نیگیٹو رپورٹ دینے کا الزام لگایا ہے ۔ وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے کانگریس کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے والا بتایا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش میں کورونا ریکوری ریٹ ننانوے فیصد سے اوپر پہنچنے اور ان لاک میں عوام کی ریاعتوں میں بھلے ہی مزید اضافہ کردیا گیا ہے ، لیکن کورونا ریکوری ریٹ میں اضافہ کو لیکر ریاست میں سیاست شروع ہوگئی ہے ۔ کانگریس نے کورونا ریکوری ریٹ میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت پر فرضی ٹیسٹنگ کرنے اور ایک ہی موبائل نمبر پر چالیس چالیس لوگوں کا نام رجسٹرڈ کر کے لوگوں کو نیگیٹو رپورٹ دینے کا الزام لگایا ہے ۔ وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے کانگریس کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ  کرنے والا بتایا ہے ۔

    مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ نقلی جانچوں کے توسط سے ایک ہی موبائل نمبر پر چالیس چالیس لوگوں کو رجسٹرڈ کر کے ، چالیس موبائل نمبروں پر چھ سو اکیاسی لوگوں کی جانچ رپورٹ نیگیٹو کرکے حکومت عوام کی زندگی سے کھلواڑ کر رہی ہے ۔ حکومت جو خطرنا ک کام کر رہی ہے اس کے خطرے کو سامنے رکھ کر عوام کو بھی آواز بلند کرنا چاہئے۔ سڑک پر احتجاج کرنا چاہئے۔

    بھوپیندر کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جن کی نقلی جانچ کی جا رہی ہے کل وہ لوگ جب بازاروں میں کھلے طور پر گھومیں گے ، تو اس سے نہ صرف کورونا مریضوں میں اضافہ ہوگا ۔ بلکہ کورونا کے نئے ویرینٹ کا بھی خطرہ پیدا ہوگا تو اس کا ذمہ دارکون ہوگا۔ حکومت کو اس نقلی جانچ  رپورٹ کی نہ صرف جانچ کروانی چاہئے بلکہ وزیر اعلی کو اس پاکھنڈ کا عوام کو جواب دینا چاہئے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کی رپورٹ کے بارے میں جو کانگریس کا الزام ہے ،اس کو کلکٹر رپورٹ میں خارج کردیا گیا ہے ۔ بڑی افسوس کی بات ہے کہ کانگریس بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا رہی ہے ۔ جس ٹیسٹ کی بات کی جا رہی ہے وہ ریپیڈ اینٹیجنٹ ٹیسٹ ہے ۔ ریپیڈانٹیجنٹ ٹیسٹ ایسے مقام پر اسٹیشن پر یا ایسی دوسری جگہوں پر ہوتے ہیں، جہاں بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے ۔ ایسے میں اگر کسی گھر کے چار پانچ لوگوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے ، تو سبھی کا نمبر نہیں لکھا جاتا ، بلکہ کسی ایک فرد کا موبائل نمبر لکھ لیا جاتا ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کئی مرتبہ خواتین اور بیٹیاں اپنا نمبر نہیں دینا چاہتی ہیں ،تو اس گروپ کے کسی مرد کا موبائل نمبر لکھ لیا جاتا ہے اور اگرکسی گروپ کا ٹیسٹ ہوتا ہے ، تو کسی ایک ہی نمبر لکھ لیا جاتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ کسی ثبوت اور کسی جانکاری کے  بغیر کانگریس یہ الزام لگا رہی ہے ۔ کانگریس کے لیڈران کو تو لاشوں پر سیاست کرنی اور مشکل میں مفاد تلاش کرنے کی عادت ہوگئی ہے ۔آپ لوگوں کو بھی کلکٹر کی رپورٹ کو پڑھنی چاہئے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: