ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اسپتال سے سرکار ! مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے معاملات کو لے کر بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے

سی ایم شیوراج سنگھ کے کورونا پازیٹو ہونے کے بعد سیکوریٹی اہلکاروں کے ساتھ کابینہ وزرا کے ہوم کوارنٹائن ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ اب تک ایک درجن وزرا اپنے سیمپل کو جانچ کے لئے دینے کے بعد ہوم کوارنٹائن ہوچکے ہیں ۔

  • Share this:
اسپتال سے سرکار ! مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے معاملات کو لے کر بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے
اسپتال سے سرکار ! مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے معاملات کو لے کر بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے

مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہر جاری ہے ۔ قہر ایسا ہے کہ سرکار خود اسپتال میں ہے ۔ سی ایم شیوراج سنگھ اور کابینہ وزیر اروند بھدوریہ کورونا پازیٹو ہونے کے سبب اسپتال میں زیر علاج ہیں تو دوسری جانب کورونا کے قہر کو لیکر صوبہ میں سیاست بھی اپنے عروج پر ہے ۔ مدھیہ پردیش میں کورونا کا پہلا معاملہ بیس مارچ کو سامنے آیا تھا اور اب صوبہ میں کورونا مریضوں کا ہندسہ ستائیس ہزار کو پار کر چکا ہے ۔ مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد ستائس ہزار سات سو نوے ہوگئی ہے ۔ کورونا سے صوبہ میں اب تک آٹھ  سو تین لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ اٹھارہ ہزار پانچ سو ساٹھ مریض صحتیاب ہوچکے ہیں ۔


مدھیہ پردیش میں سی ایم شیوراج سنگھ اور کابینہ وزیر اروند بھدوریہ کے کورونا پازیٹو ہونے کے بعد ایک نئی سیاست شروع ہوگئی ہے ۔ کانگریس نے پورے معاملہ پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ہر محاذ پر ناکام قرار دیا ہے ۔ وہیں سیاسی پارٹیوں کی سیاست کے بیچ بھوپال کے کھٹلا پارگھاٹ پر سی ایم کی صحتیابی کے لئے خصوصی پوجا کی گئی اور سی ایم شیوراج سنگھ نے بھوپال چرایو اسپتال سے اپنی صحت کا ویڈیو بھی جاری کیا ۔


سی ایم نے ویڈیو نے اپنی جاری کردہ ویڈیو میں اپنے کی ٹھیک ہونے کی جہاں خبر دی ، وہیں انہوں نے کورونا کے جانبازوں کی کارکردگی کا خصوصی طورپر ذکر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ سی ایم شیوراج سنگھ نے کہا کہ کورونا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ اس کی علامت ظاہر ہونے پر بنا چھپائے اس کا علاج شروع کردیں تو کورونا پر یقنی طور پر فتح حاصل ہوگی ۔ لیکن ہماری کوشش ہونا چاہئے کہ کورونا ہو ہی نہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ جب  ہم باہر نکلیں توماسک لازمی طور پر لگائیں اور سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھیں ۔


مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کا علاج بھوپال کے چرایو اسپتال میں جاری ہے ۔ سی ایم نے اسپتال میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی من کی بات کو بھی ٹیلی ویزن پر سنا اور بی جے پی کے ذریعہ اس کے ویڈید بھی جاری کئے گئے ۔ وہیں کانگریس نے سی ایم کے ذریعہ بھوپال کے ایمس اور حیمدیہ اسپتال کوچھوڑ کر پرائیویٹ اسپتال میں علاج کروانے پر تنقید کی ہے۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے ٹویٹ کر کے جہاں سی ایم کے جلد صحتیاب ہونے کی دعا کی ہے وہیں انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر شیوراج جی کمل ناتھ جی کی طرح سرکاری حمیدیہ اسپتال میں اپنا علاج کراتے ، تو اس سے سرکاری اسپتال کے تئیں عوام کا اعتماد بڑھ جاتا ۔

کانگریس لیڈر عارف مسعود کی تنقید کو شیوراج کابینہ کے سینئر وزیر اور مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے چھوٹی سوچ قرار دیا ہے ۔ وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ حمیدیہ اسپتال میں کورونا کے ساتھ دوسری بیماریوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے ، ایسے میں سی ایم اگر حمیدیہ اسپتال میں جاتے تو ان کی سیکوریٹی کو لیکر عام مزدوروں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ۔ جبکہ چرایو اسپتال میں صرف کورونا کا ہی علاج کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک ایم پی میں کورونا کے بڑھنے کا معاملہ ہے تو یہ کمل ناتھ سرکار کی دین ہے ، جب کورونا پر کام کرنا تھا ، تب کمل ناتھ سرکار آئیفا ایوارڈ کے انعقاد اور ہیرو ہیروئن کے ساتھ فوٹو کھینچوانے میں مصروف تھی ۔ شیوراج سرکار کام کر رہی ہے اور بہت جلد ہم عوام کے تعاون سے اس وبائی بیماری پر قابو پالیں گے ۔ میں اسپتال گیا تھا ۔ سی ایم ٹھیک ہیں اور اسپتال سے ہی کاموں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں ۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہر اتنا ہے کہ سرکار خود اسپتال میں ہے ۔ سی ایم اور کابینہ وزیر ایک ہی اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔ لیکن یہ اسپتال سرکاری نہیں بلکہ پرائیویٹ ہے ۔ سرکار نے اپنے عمل سے بتادیا کہ وہ علاج میں بھی عوام کے ساتھ دوہرا معیاراختیار کرتی ہے ۔ یہی نہیں جب ایم پی میں کمل ناتھ جی کی حکومت تھی تو پورے صوبہ میں صرف ایک کورونا کا مریض تھا اور اب مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کا ہندسہ ستائس ہزار کو پار کرگیا ہے ۔ کورونا کے معاملہ میں سرکار فیل ہوچکی ہے اور جو سرکار کورونا کے بڑھتے معاملات کو لیکر عوام  سے آروگیہ سیتو ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی بات کرتی ہے ، لگتا ہے اس ایپ کو خود سی ایم نے اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ نہیں کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کورونا کا پتہ نہیں لگ پایا ۔ جب سرکار خود اسپتال میں ہے تو عوام کی صحت کا تحفظ کیسے کیا جاسکتا ہے ، یہ سوچنے والی بات ہے ۔ ہمارا تو سرکار سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ اقتدار میں بنے رہنے کے لئے جھوٹا وعدہ کرنا بند کرے اور زمینی سطح پر کام کرکے دکھائے ۔ تاکہ عوام کی زندگی کو وبائی بیماری سے بچایا جا سکے اور صوبہ سے کورونا کا خاتمہ ہو سکے ۔

سی ایم شیوراج سنگھ کے کورونا پازیٹو ہونے کے بعد سیکوریٹی اہلکاروں کے ساتھ کابینہ وزرا کے ہوم کوارنٹائن ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ اب تک ایک درجن وزرا اپنے سیمپل کو جانچ کے لئے دینے کے بعد ہوم کوارنٹائن ہوچکے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 26, 2020 05:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading