ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اجین، اندور اور دموہ تشدد کی جانچ کا مطالبہ ، کانگریس کے وفد کی چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے ملاقات

مدھیہ پردیش کے اجین ،ادنور اور دموہ میں گزشتہ دو دنوں میں شر پسند عناصر نے تین شہروں کو نشانہ بنایا ہے ۔ شر پسند عناصر کے تشدد میں نہ صرف شہر کی پر امن فضا مخدوش ہوئی ، بلکہ عبادت گاہوں اورگھروں میں پتھر پھینکنے کے ساتھ بہت سے گھروں کو نذر آتش بھی کیاگیا ۔

  • Share this:
اجین، اندور اور دموہ تشدد کی جانچ کا مطالبہ ، کانگریس کے وفد کی چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے ملاقات
اجین، اندور اور دموہ تشدد کی جانچ کا مطالبہ ، کانگریس کے وفد کی چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے ملاقات

مدھیہ پردیش کی پرامن فضا اس وقت شر پسند عناصر کے نشانہ پر ہے ۔ شر پسند عناصر نے کسی ایک شہر میں نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے کئی شہروں کی پر امن فضا کو نشانہ بنایا ہے۔ مدھیہ پردیش کے اجین، اندور اور دموہ ہوئے تشدد کے لئے کانگریس کے اعلی سطحی وفد نے ریاست کے چیف سکریٹری اور مدھیہ پردیش کے ڈی جی پی سے ملاقات کر کے تشدد کی جانچ کرنے اور شر پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اجین ،ادنور اور دموہ میں گزشتہ دو دنوں میں شر پسند عناصر نے تین شہروں کو نشانہ بنایا ہے ۔ شر پسند عناصر کے تشدد میں نہ صرف شہر کی پر امن فضا مخدوش ہوئی ، بلکہ عبادت گاہوں اورگھروں میں پتھر پھینکنے کے ساتھ بہت سے گھروں کو نذر آتش بھی کیاگیا ۔ تین شہروں میں ہوئے تشدد کو لے کر کانگریس کے دس ممبران اسمبلی پر مشتمل وفد نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے ملاقات کی اور خاطیوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ۔ وہیں کانگریس نے اجین ، اندور اور دموہ میں ہوئے تشدد کی جانچ کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ۔


مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر سجن سنگھ ورما کہتے ہیں کہ حکومت تشدد کو بھڑکا کر اپنا سیاسی مفاد پورا کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت کے اشارے پر جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور این ایس اے لگایا ہے ان میں سے تو بیشتر ایسے ہیں جن کے خلاف زندگی میں کبھی کوئی معاملہ تھا ہی نہیں ۔ نگر نگم کا انتخاب سامنے آیا ہے اور بی جے پی تشدد بھڑکا کر اپنے ووٹ کو پولرائز کرنا چاہتی ہے ۔ ہم نے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے ملاقات کی ہے ۔ ہمارے ساتھ سابق وزیر جے وردھن سنگھ ، کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود،مہیش پرمار،روی جوشی،رام پال مالوہ اور دوسرے لوگ موجود ہیں سبھی لوگوں نے ساتھ میں ملاقات کی ہے۔ ہم نے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو وہ ویڈیو بھی دیا ہے جس میں تشدد کو بھڑکانے والے اور پولیس کی خاموشی کا ویجوئل ہے ۔ ہم کسی تشدد بھڑکانے والے ، شر پسند عناصر کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورے معاملہ کی آزادنہ طریقہ سے جانچ کی جائے اور جو بھی لوگ اس کے لئے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ تاکہ مدھیہ پردیش کی پرامن فاض برقرار رہے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ کانگریس کی جو مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کی جو روایت رہی ہے اسی پر آج بھی قائم ہے ۔ کانگریس یہ بتائے گی کہ وہ کس بات کی جانچ کرنے والی ہے ۔ جس گھر سے پتھر آئیں گے وہیں سے تو پتھر نکالے جائیں گے۔ وہیں سے پتھر نکالے ہیں ۔ قانون اپنا کام کر رہا ہے نا انصافی کسی کے ساتھ نہیں ہوگی۔

اندور چندن کھیڑی کے سماجی کارکن فیروز پٹیل کہتے ہیں کہ کالے جھنڈے لہرانے کے بعد ایک طبقہ کے دو درجن سے زیادہ گھروں کو توڑا گیا ہے اور تین درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کرکے پولیس نے بیٹما جیل بھیجا ہے ۔ چھ لوگوں کے خلاف این ایس اے لگایا گیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پورے معاملے کی جوڈیشیل جانچ کرائے اور جو بھی ذمہ دار ہو اس کے خلاف کارروائی کرے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 30, 2020 10:36 PM IST