ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات سے پہلے کانگریس کو لگا بڑا جھٹکا

ضمنی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے کانگریس کو زور جھٹکا دیا اور بڑا مہلرا سے کانگریس ایم ایل اے پردیومن سنگھ لودھی نے کانگریس سے استعفی دیکر بی جے پی کا دامن تھام لیا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات سے پہلے کانگریس کو لگا بڑا جھٹکا
مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات سے پہلے کانگریس کو لگا بڑا جھٹکا

مدھیہ پردیش میں کورونا کے قہر کے درمیان سیاست اپنےعروج پر ہے۔ ضمنی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے کانگریس کو زور جھٹکا دیا اور بڑا مہلرا سے کانگریس ایم ایل اے پردیومن سنگھ لودھی نے کانگریس سے استعفی دیکر بی جے پی کا دامن تھام لیا ۔ یوں دیکھا جائے تو ایک ایم ایل اے کے آنے جانے سے کسی پارٹی کو زیادہ فرق نہیں پڑتا ، لیکن اگر صوبہ کی سیاست اور ذات پات کے حساب کتاب کو دیکھا جائے تو پردیومن سنگھ لودھی کے بی جے پی میں جانے سے کانگریس کو بڑا جھٹکا پہنچا ہے ۔ اگر ہم مدھیہ پردیش میں بندیل کھنڈ کی سیاست پر نظر ڈالیں ، تو ہمیں نظر آئے گا کہ ایم پی کی دوسو تیس رکنی اسمبلی میں چھبیس سیٹوں کا تعلق مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ سے ہے ۔ دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات کی بات کریں ، تو اس انتخابات میں بندیل کھنڈ کی چھبیس سیٹوں میں سے تیرہ سیٹوں پر بی جے پی اور گیارہ سیٹوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ ایک سیٹ پر بی ایس پی امیدوار رام بائی نے اور ایک سیٹ پر سماجوادی پارٹی امیدوار راجیندر شکلا نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ رام بائی نے پتھریا سیٹ سے اور راجیند ر شکلا نے بیجاور سیٹ سے پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ رام بائی کو اور راجیند ر شکلا کو ان کی پارٹیاں باہر کا راستہ دکھا چکی ہیں ۔


بندیل کھنڈ میں لودھی ووٹرس کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہے ۔ پردیومن سنگھ لودھی کا تعلق لودھی سماج سے ہے اوربی جے پی نے یہاں پر پردیومن سنگھ کو اپنے خیمے میں کر کے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے ۔ اسمبلی میں جہاں کانگریس کی ایک سیٹ کم ہوئی ہے وہیں لودھی ووٹ میں سیندھ لگانے کے ساتھ بی جے پی نے بندیل کھنڈ میں اپنے بگڑتے ہوئے سیاسی سمیکرن کو سادھنے کی کوشش کی ہے ۔


ایم پی بی جے پی صدر وی ڈی شرما کہتے ہیں کہ کانگریس ایک ڈوبتا جہاز ہے ، اب اس میں کوئی سوار نہیں رہنا چاہتا ہے ۔ پردیومن سنگھ لودھی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں ۔ اس سے پارٹی کو بھی طاقت ملے گی اور علاقہ کی ترقی کی بھی ہوگی سبھی مل کر کام کریں گے۔


کانگریس کو چھوڑکر بی جے پی کا دامن تھامنے والے پردیومن سنگھ لودھی کہتے ہیں کہ کمل ناتھ نے پورے علاقہ کو نظر اندازکیا ۔ بی جے پی کا دامن اس لئے تھاما ہے تاکہ علاقہ کی ترقی ہو سکے ۔ کانگریس لیڈروں کو استعمال کرتی ہے اور پھر اسے چھوڑدیتی ہے ۔ بی جے پی سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے ۔ جیسا اس کا نعرہ ہے سب کا ساتھ سب کا وکاس ، ویسا ہی وہ کام بھی کرتی ہے ۔

وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر پی سی شرما کہتے ہیں کہ مفاد پرستوں کے جانے سے پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ پہلے پارٹی چوبیس سیٹوں پر ضمنی انتخابات کی تیاری کررہی تھی اب وہ پچیس سیٹوں پر انتخابات کی تیاری کرے گی اور اس مفاد پرستی کا جواب کانگریس نہیں صوبہ کے عوام دیں گے ۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی اب پچیس سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے ۔ان میں  بائیس سیٹیں وہ شامل ہیں ، جس سے سندھیا حامی کانگریس ممبران اسمبلی نے استعفی دیکر بی جے پی کا دامن تھام لیا تھا ۔ دو ممبران اسمبلی کی موت ہو جانے کی سبب وہ سیٹیں خالی ہوئیں اور آج بڑا مہلرا سے کانگریس ایم ایل اے پردیومن سنگھ لودھی کے استعفی کے بعد سیٹ خالی ہوئی ہے۔

ایم پی اسمبلی کی پچیس سیٹوں میں سے سولہ خالی سیٹوں کا تعلق چمبل گوالیار ڈیویز ن سے ہے ۔ بی جے پی نے چمبل اور گوالیار ڈویزن کو مینیج کرنے کے لئے شیوراج کابینہ میں بارہ وزرا شامل کئے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شیوراج کابینہ میں ابھی وزیروں کی تعداد تینتس ہے ۔ ایک وزیر کی گنجائش باقی ہے اور بڑا ملہرا سیٹ سے کانگریس سے استعفی دیکر بی جے پی کا دامن تھامنے والے پردیومن سنگھ لودھی کو وزارت میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ پردیومن سنگھ لودھی کی بی جے پی میں شمولیت اوما بھارتی کے ذریعہ ہوئی ہے اور انہوں نے اوما بھارتی کی رہائش گاہ پر ہی پہنچ کر بی جے پی جوائن کرنے کا اعلان کیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 12, 2020 08:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading