உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : اذان کو لے کر بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ کا متنازع بیان، کہی یہ بات

    مدھیہ پردیش : اذان کو لے کر بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ کا متنازع بیان، کہی یہ بات

    مدھیہ پردیش : اذان کو لے کر بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ کا متنازع بیان، کہی یہ بات

    بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ اپنے متنازع بیان کو لیکر ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں ۔ سادھوی کے نئے بیان سے مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان چھڑ گیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ اپنے متنازع بیان کو لیکر ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں ۔ سادھوی کے نئے بیان سے مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان چھڑ گیا ہے ۔ سادھوی کے بیان کی نہ صرف سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی ہے بلکہ مدھیہ پردیش کی سماجی تنظیموں نے بھی سادھوی کے بیان کوسماجی منافرت سے تعبیر کرتے ہوئے اسے مشترکہ تہذیب کے ملک میں زہر ہلال سے تعبیر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھوپال رکن پارلیمنٹ بھوپال بیرسیہ میں راما دلم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صبح پانچ بج کر کچھ منٹ سے بہت زور آوازیں آتی ہیں اور وہ  آوازیں لگاتار چلتی رہتی ہیں ۔ سب کی نیند حرام  ہوتی ہے۔ سب کی نیند خراب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ مریض ہوتے ہیں ان کے بھی بی پی بڑھتے ہیں ۔ کسی کو کوئی تکلیف تو کسی کو تکلیف ہوتی ہے مگر جب صبح میں وہ نیند میں جاتا ہے تو آوازوں سے خلل پڑتا ہے اور سچ بتاؤں تو سادھو سنیاسی کی سادھنا کا وقت چار بجے سے ہوتا ہے۔ ہماری پہلی آرتی کا وقت بھی صبح چار بجے سے شروع ہوتا ہے ، لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے ، اس بات کی اور زبردستی کے مائک ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں اور جب ہم مائک لگالیتے ہیں ، تو انہیں بڑی تکلیف ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کسی اور عبادت کا کوئی لفظ نہیں سن سکتے ۔ کیونکہ ہمارے مذہب میں ، ہمارے اسلام میں یہ ٹھیک نہیں مانا جاتا اور ہمارے اسلام میں یہ جائز نہیں مانا جاتا۔ تو میں یہ کہتی ہوں کہ کسی کے مذہب میں جائز مانا جائے یا نہ مانا جائے کیا ہمیں اس کی فکر ہے ۔ ہندو تو سبھی کی فکر کرتا ہے کیونکہ ہم سرو دھرم سدبھاؤنا کی قدر کرتے ہیں ، مگر دوسرے کے یہاں اس کی کوئی قدر نہیں ہے ۔

    وہیں مائنارٹیز یوناٹیڈ آرگنائزیشن کے میوالال کنوجیا کہتے ہیں کہ سادھوی کا بیان پوری طرح سے سیاست پر مبنی ہے اور یہ بیان آر ایس ایس کے اشارے پر اس لئے دیا گیا ہے تاکہ حکومت کی ناکامی اور بالخصوص بھوپال کملا نہرو اسپتال میں جو درجن سے زیادہ بچوں کی موت ہوئی ہے اور حکومت کی ناکامی کا چہرہ عوام کے سامنے آیا ہے اس سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ سادھوی جی بھوپال کی رکن پارلیمنٹ ضرور ہیں ، مگر انہیں بھوپال کی تہذیب نہیں معلوم ہے ۔ یہاں پر نواب مسلمان تو اس کا وزیراعظم ہمیشہ ہندو ہوتا رہا ہے ۔ یہاں پر مندرسے شنکھ اور بھجن کیرتن کی آواز سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مسجد کی اذان سے تکلیف انہیں کو ہو رہی ہے ، جن کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور جو سماج کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے انتشار میں خوش رہتے ہیں ۔

    وہیں سرودھرم سدبھاؤنا منچ بھوپال کے سکریٹری حافظ محمد اسمعیل کہتے ہیں کہ سادھوی جی کو اذان سے تکلیف ہورہی ہے جبکہ اسی بھوپال میں معروف فلم اداکارہ پرینکا چوپڑا نے بیان دیا تھا کہ جب وہ شوٹنگ سے تھک جاتی ہیں اور انہیں سکون کی تلاش ہوتی ہے تو ہاتھ پیر دھوکر ہوٹل کے کمرے کی بالکنی میں اس لئے بیٹھ جاتی ہیں تاکہ سکون کے لمحے میں مسجد کی اذان سن سکیں اور اس اذان سے انہیں روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ ایشور کا نام لینے یا اس کی آواز کے فضا میں گونجنے سے نیک لوگوں کو روحانی سکون میسر آتا ہے ۔ یہ کیسی سادھوی ہیں جو دھرم کے نام پر ادھرم کی بات کررہی ہیں ۔ سادھوی کے بیان کے سخت مذمت کرتے ہیں اور ہندوستان جیسے کثیر اللسان اور کثیر الادیان ملک میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: