உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP News: بھوپال ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لے کر شروع ہوا تنازع، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    MP News: بھوپال ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لے کر شروع ہوا تنازع، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    MP News: بھوپال ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لے کر شروع ہوا تنازع، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    Bhopal News : لکھنو کے شاپنگ مال میں نماز پڑھنے کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں پڑا تھا کہ بھوپال ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لیکر نیا تنا زع شروع ہوگیا ہے۔ ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لے کر بجرنگ دل کے کارکنان نے نہ صرف ہنگامہ کیا بلکہ احتجاج کرتے ہوئے شاپنگ مال کے اندر ہنومان چالیسا کا پاٹھ بھی کیا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore | Jabalpur
    • Share this:
    بھوپال : لکھنو کے شاپنگ مال میں نماز پڑھنے کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں پڑا تھا کہ بھوپال ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لیکر نیا تنا زع شروع ہوگیا ہے۔ ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لے کر بجرنگ دل کے کارکنان نے نہ صرف ہنگامہ کیا بلکہ احتجاج کرتے ہوئے شاپنگ مال کے اندر ہنومان چالیسا کا پاٹھ بھی کیا اور آئندہ نماز کی ادائیگی پر ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرنے کو ڈی بی مال انتظامیہ کو انتباہ بھی دیا۔ مال میں نماز پڑھنے اور بجرنگ دل کے احتجاج کے بعد پولیس سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

    ایسا نہیں ہے کہ شاپنگ مال میں پہلی بار نماز کی ادائیگی کی گئی ہے بلکہ شاپنگ مال کے دکانداروں اور وہاں آنے والے خریدار اس وقت سے شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں نماز کی ادائیگی کرتے رہے ہیں جب سے شاپنگ مال کی تعمیر کی گئی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب شاپنگ مال میں نماز پڑھنے کو لیکر نہ صرف اعتراض کیا گیا ہے بلکہ بجرنگ دل کے کارکنان کے ذریعہ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا بھی دیا گیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا سید جلال الدین عمری نم آنکھوں سے سپرد خاک


    بھوپال بجرنگ دل کے کنوینر دنیش یادو کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ڈی بی مال کے بیسمنٹ میں ایک خاص سماج کے لوگوں کے ذریعہ چپکے سے نماز پڑھی جا رہی ہے ۔ جب ہمیں جانکاری ملی تو بجرنگ دل کے کچھ کارکنان  یہاں آئے ، میں خود بھی یہاں آیا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ویڈیو بنایا اور مینجمنٹ کو بتایا تو  مینجمنٹ اس معاملہ پر بالکل انکار کردیا کہ نماز پڑھنے کی بات ان کی جانکاری میں نہیں ہے ۔ اس کے بعد ہم نے اس سے تھوڑی دوری پر بھجن شروع کیا۔ جس کے بعد مینجمنٹ کے لوگ حرکت میں آئے اور انہوں نے فورا نماز بند کروائی اور ہم سے بھی درخواست کی کہ ہم بھی بھجن کو بند کریں۔ تو ہم نے انہیں انتباہ دیا ہے کہ آج کے بعد اگر یہاں پر نماز پڑھی جاتی ہے تو بجرنگ دل بھوپال کے ذریعہ  ڈی بی مال کے مین گیٹ پر ہنومان چالیسا کا بڑے پیمانے پر پاٹھ کیا جائے گا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم مودی نے کیا سابرمتی ندی پر بنے اٹل پل کا افتتاح، جانئے اس کی خاص باتیں


    وہیں ڈی بی مال کے دکاندار محمد فہیم کہتے ہیں کہ یہ تو بجرنگ دل کا فتنہ ہے ۔ اس مال کو بنے ہوئے پندرہ سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے اور ہمیشہ یہاں پر بیسمنٹ پر نماز ادا کی جاتی رہی ہے ۔ نماز ایسے مقام پر ادا کی جاتی رہی ہے جہاں پر کوئی عام راستہ بھی نہیں ہے۔ ہم تو پولیس انتظامیہ سے درخواست کریں گے کہ ایسے عناصر جو ملک کا اور شہر کا ماحول خراب کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بھوپال تو مشترکہ تہذیب کا شہر رہا ہے ۔ یہاں پر مسلم نوابوں کے زمانے میں بھی ان کے وزیر اعظم ہندو ہوتے تھے ۔ مسلم نواب ہوتے ہوئے بھی ہولی اور رنگ پنچمی کا اہتمام کیا جاتا تھا، لیکن اب ایسے لوگ آگئے ہیں جنہیں خدا کی عبادت سے بھی بیر ہے ۔

    وہیں اس سلسلے میں جب ڈی بی مال انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ۔ مستقبل میں یہ معاملہ مزید طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: