உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال: لڑکی کا برقع اتروانے کے معاملے میں تنازعہ، ایک عاشق جوڑے کے ساتھ چوہراہے پر کیا گیا تھا یہ کام

    واضح رہے کہ راجدھانی بھوپال کے اسلام نگر میں سولہ اکتوبر کو کچھ لوگوں کے ذریعے یہ کہہ کر ایک پریمی جوڑے کو روکا گیا کہ یہ لوگ برقع کا استعمال کرکے مذہب کی شبیہ کو مجروح کر رہے ہیں ۔

    واضح رہے کہ راجدھانی بھوپال کے اسلام نگر میں سولہ اکتوبر کو کچھ لوگوں کے ذریعے یہ کہہ کر ایک پریمی جوڑے کو روکا گیا کہ یہ لوگ برقع کا استعمال کرکے مذہب کی شبیہ کو مجروح کر رہے ہیں ۔

    واضح رہے کہ راجدھانی بھوپال کے اسلام نگر میں سولہ اکتوبر کو کچھ لوگوں کے ذریعے یہ کہہ کر ایک پریمی جوڑے کو روکا گیا کہ یہ لوگ برقع کا استعمال کرکے مذہب کی شبیہ کو مجروح کر رہے ہیں ۔

    • Share this:
    راجدھانی بھوپال کے اسلام نگر میں ایک لڑکی کا برقعہ اتروانے کے معاملے میں نئے نئے موڑ سامنے آرہے ہیں ۔ سنسکرتی بچاؤ منچ کے ذریعے ہندو لڑکی کے ساتھ بد تمیزی کرنے پر جہاں سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے وہیں ایم پی جمعیت علما نے بھوپال پولیس کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے پولیس پر یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ واضح رہے کہ راجدھانی بھوپال کے اسلام نگر میں سولہ اکتوبر کو کچھ لوگوں کے ذریعے یہ کہہ کر ایک پریمی جوڑے کو روکا گیا کہ یہ لوگ برقع کا استعمال کرکے مذہب کی شبیہ کو مجروح کر رہے ہیں ۔ لڑکی اور لڑکے ذریعےاس معاملے میں معافی مانگنے کے بعد بھی جب انہیں روکنے والے مطمئن نہیں ہوئے تولڑکی نے برقع تو اتارا لیکن اپنی شناخت چھپانے کے لئے اسکارف باندھ لیاتو اس کو بھی زبردستی اتاروا گیا۔ نیوز ایٹین اردو کی خبر کے بعد مقامی تھانہ اینٹ کھیڑی کے ذریعے اس معاملے میں کاروائی کی گئی اور دو لوگوں کو گرفتار کیاگیا۔
    سنسکرتی بچاؤ منچ کے صدرچندرشیکھر تیواری کہتے ہیں کہ ہمارے ہندو سماج کی لڑکی نے برقع پہننے کا کام کیا اپنی پہچان چھپانے کے لئے ہم اسے غلط مان رہے ہیں لیکن جن لوگوں نے اس کے منھ سے نقاب کھیچا ہے یہ اس سے بڑا جرم ہے اور سنسکرتی بچاؤ منچ اس کی مخالفت کرتاہے ۔ کل سے اگر سنسکرتی بچاؤ منچ اگر چوراہے چوراہے پر کھڑے ہوکر برقع چیک کرنے لگے اور یہ پوچھنے لگے کہ آپ برقعہ اتارکر بتاؤ کہ آپ ہندو ہو کہ مسلمان تو آپ کو دقت ہو جائے گی۔ اس لئے سنسکرتی بچاؤ منچ اس معاملے میں پولیس انتظامیہ سے مانگ کرتا ہے کہ اس معاملے میں جن لوگوں نے برقع اتروانے کا کام کیا ہے ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔ لڑکی کس کے ساتھ گھوم رہی ہے اور کہا ں جا رہی ہے یہ اس کی اپنی نجی آزادی ہے ۔اور وہ لڑکی بالغ ہے  ۔اگر آپ کو لگتا تھا کہ کسی لڑکی نے غلط کام کیا ہے تو آپ کو پولیس کے پہلے بلوانا چاہیئے تھا اس کے بعد کاروائی کرنا چاہیے تھا لیکن جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کام کیا ہے ان کے خلاف کاروائی ہونا چاہیے۔
    اے ایس پی دنیش کوشل زون فور کہتےہیں کہ اس معاملے میں سوشل میڈیا اور ٹیلی ویزن پر خبر آنے کے بعد دو لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے ۔پورے معاملے کی اینٹ کھیڑی تھانہ پولیس کے ذریعے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔


    وہیں اس معاملے میں مدھیہ پردیش جمعیت علما نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ پولیس کے ذریعے یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے مسلم سماج کے ہی دو لڑکوں کو گرفتار کیاگیا ہے جبکہ کاروائی دونوں پر ہونا چاہیئے تھی لیکن پولیس نے برقع پہننے والی لڑکی اور اس کے ساتھ گھومنے والے لڑکے کو چھوڑ دیا ہے۔جمعیت کا تو یہ کہنا ہے کہ اس معاملے میں دوونوں طرف کے لوگوں کے بلا کر انہیں سمجھا کر چھوڑدینا چاہئے تھا اور اگر کاروائی کرنا ہی تھا تو دونوں جانب کاروائی ہونا تھی یہی قانون کا تقاضہ ہے ۔
    بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
    Published by:Sana Naeem
    First published: