ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : دانش اور صدام نے پیش کی انسانیت کی عظیم مثال ، کورونا قہر میں ادا کرتے ہیں ہندووں کی آخری رسومات

گرمی کی تپش میں روزہ رکھ کر پی پی ای کٹ پہن کر دونوں اس طرح سے اپنا انسانیت کا فرض ادا کرتے ہیں ، جیسے وہ اسی فرض کی ادائیگی کے لئے ہی بنائے گئے ہوں۔ دانش اور صدام ابتک ساٹھ سے زیادہ ہندو لاشوں کی آخری رسومات ادا کر چکے ہیں ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : دانش اور صدام نے پیش کی انسانیت کی عظیم مثال ، کورونا قہر میں ادا کرتے ہیں ہندووں کی آخری رسومات
مدھیہ پردیش : دانش اور صدام نے پیش کی انسانیت کی عظیم مثال ، کورونا قہر میں ادا کرتے ہیں ہندووں کی آخری رسومات

بھوپال : مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے قہر میں بھلے ہی زندگی کا رنگ پھیکا پڑگیا ہو ، لیکن سماج میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو خدمت سے انسانیت کا سر فخر سے بلند کرتے رہتے ہیں ۔ بھوپال کے صدام اور دانش بھی ایسے لوگوں میں سے ہیں جو کورونا سے ہونے والی اموات کی ہندو ریت و رواج سے آخری رسومات ادا کرتے ہیں ۔ گرمی کی تپش میں روزہ رکھ کر پی پی ای کٹ پہن کر دونوں اس طرح سے اپنا انسانیت کا فرض ادا کرتے ہیں ، جیسے وہ اسی فرض کی ادائیگی کے لئے ہی بنائے گئے ہوں۔  دانش اور صدام ابتک ساٹھ سے زیادہ ہندو لاشوں کی آخری رسومات ادا کر چکے ہیں ۔ دانش اور صدام بھوپال نگر نگم میں ملازم ہیں ۔


دانش کہتے ہیں کہ انسان کے کام آنا ہی مذہب نے ہمیں سکھایا ہے ۔ ماہ رمضان میں عبادت کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا کام بھی جاری ہے ۔ حالانکہ گرمی کی تپش میں پی پی ای کٹ پہن کر شمشان میں آخری رسومات کو ادا کرنا آسان نہیں ہوتا ہے ، لیکن ہمیں یہ خوشی ہے کہ ہمارے ذرا سے صبر اور تکلیف سے ہمارے کسی بھائی کی آخری رسومات تو ادا ہو جائے گی ۔ کورونا قہر نے ہمیں خدمت کے جذبہ سے لبریز کردیا ہے ۔


وہیں صدام کہتے ہیں کہ ملازمت کے ساتھ خدمت اور وہ بھی ماہ رمضان میں یہ تو ہمارے لئے سونے پر سہاگہ کی طرح ہے ۔ اس مبارک مہینے میں اللہ نیکیوں کا اجر و ثواب بھی بڑھا دیتاہے ۔ یہ مبارک مہینہ تو غم خواری کا بھی ہے ۔ ایسے میں ملازمت کے ساتھ انسانیت کے فرض کو ادا کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔ کورونا قہر میں انسانی چہروں کا رنگ اتنا بدل گیا ہے کہ لوگ اپنے ہی عزیزوں کی لاش لینے سے منع کردیتے ہیں ایسے میں ان لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی ہے اور ہم اسے اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں ۔


لوگوں سے یہی گزارش ہے کہ ماسک پہنئے ، یہ کفن سے چھوٹا ہوتا ہے ۔ اب بھی اگر لوگ سنجیدہ نہیں ہوئے تو حالات اور بھی تشویشناک ہو جائیں گے ۔ آپ کی بیداری سے نہ صرف آپ محفوظ رہیں گے بلکہ سماج بھی محفوظ رہے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 28, 2021 10:32 PM IST