ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

دعا کے ساتھ دوا کیلئے اٹھے ہاتھ، بھوپال کی عبادت گاہوں میں کورونا ٹیکہ کاری کیمپ کا انعقاد

تاج المساجد میں منعقدہ کورونا ٹیکہ کیمپ میں کورونا ویکسین لگوانے آئے وجے داھیما کہتے ہیں کہ جو لوگ مندر مسجد کے نام پر نفرت کی بات کرتے ہیں ، انہیں بھوپال آکر دیکھنا چاہیئے ۔ ہم جب یہاں آئے تو پہلے ہمیں جوس پلایا گیا ، ہمارا بی پی چیک کیا گیا ، آکسیجن لیول چیک کیا گیا اور جب تک ہمارا رجسٹریشن ہوتا تب تک تو ہم نے تین گلاس جوس پی لئے ۔ مسجد میں ایک رام بھکت کا ٹیکہ لگ رہا ہے اور مسلم بھائی اس کی سیوا کر رہے ہیں ، یہ صرف ہمارے بھوپال میں ہی ممکن ہے ۔

  • Share this:
دعا کے ساتھ دوا کیلئے اٹھے ہاتھ، بھوپال کی عبادت گاہوں میں کورونا ٹیکہ کاری کیمپ کا انعقاد
دعا کے ساتھ دوا کیلئے اٹھے ہاتھ، بھوپال کی عبادت گاہوں میں کورونا ٹیکہ کاری کیمپ کا انعقاد

بھوپال : عام طور پر عبادت گاہ کا جب بھی ذکر آتا ہے ، تو لوگ اسے عبادت سے مخصوص کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ لیکن عبادت گاہ میں عبادت کے ساتھ طبی سہولیات کا انتظام  ہو جائے ، تو سونے پر سہاگہ کا کام ہوتا ہے ۔ بھوپال میں ایشیا کی بڑی مسجد تاج المساجد میں ان دنوں ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ تاج المساجد میں دوا کے ساتھ کورونا کی دواکا بھی انتظام کیا گیا ہے اور بلا لحاظ قوم و ملت سبھی لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں ۔


مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے قہر کے بیچ حکومت نے گیارہ اپریل سے چودہ اپریل تک کورونا ٹیکہ کاری کو لیکر خصوصی مہم شروع کی ہے ۔ عوامی فلاح کے لئے کوئی قدم اٹھایا گیا ہو تو بھلا عبادت گاہیں پیچھے کیسے رہ سکتی ہیں ۔ تاج المساجد انتظامیہ نے ہفتے بھر پہلے جب کورونا ٹیکہ کاری کا کیمپ لگایا تو بڑی تعداد میں لوگوں نے پہنچ کر ٹیکہ لگوایا ، اس کے باؤجود ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو چاہتی تھی کہ تاریخی مسجد تاج  المساجد میں اسے آنے کا موقع بھی مل جائے اور وہ یہاں کے پرسکون ماحول میں صحت کا ٹیکہ لگوا کر اداس زندگی کو خوش رنگ بنا سکیں ۔


ڈاکٹر ظفر حسن کہتے ہیں کہ اس وقت لوگ کورونا کے نام اور اسپتالوں سے بہت خوفزدہ ہیں ۔ عبادت گاہ روحانیت کا بڑا مرکز ہوتا ہے اور یہاں پر دعا کے ساتھ دوا کا کام بھی جاری کیا گیا ہے ۔ یہاں آنے والے ہر شخص کا پہلا چیک اپ کیا جاتا ہے ،اس کے بعد اس کی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے اور جوس پلایا جاتا ہے اور جب وہ مطمئن ہوجاتا ہے تو اسے کورونا کا ٹیکہ لگوایا جاتا ہے اور ٹیکہ لگنے کے بعد بھی اسے پرسکون ماحول میں بیٹھایا جاتا ہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ بھوپال کی جو گنگا جمنی تہذیب ہے ، اس کا بہترین رنگ کورونا ٹیکہ کاری کیمپ میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ برادران وطن بھی مسجد میں آکر ٹیکہ کیمپ لگوارہے ہیں ۔


تاج المساجد میں منعقدہ کورونا ٹیکہ کیمپ میں کورونا ویکسین لگوانے آئے وجے داھیما کہتے ہیں کہ جو لوگ مندر مسجد کے نام پر نفرت کی بات کرتے ہیں ، انہیں بھوپال آکر دیکھنا چاہیئے ۔ ہم جب یہاں آئے تو پہلے ہمیں جوس پلایا گیا ، ہمارا بی پی چیک کیا گیا ، آکسیجن لیول چیک کیا گیا اور جب تک ہمارا رجسٹریشن ہوتا تب تک تو ہم نے تین گلاس جوس پی لئے ۔ مسجد میں ایک رام بھکت کا ٹیکہ لگ رہا ہے اور مسلم بھائی اس کی سیوا کر رہے ہیں ، یہ صرف ہمارے بھوپال میں ہی ممکن ہے ۔ میں تو سبھی لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ کہیں نہ جائیں مسجد میں آکر ٹیکہ لگوائیں ، جیسا انتظام یہاں ہے ، ایسا کہیں اور میں نے نہیں دیکھا۔

کورونا کے پہلے ٹیکہ کے بعد دوسرا ٹیکہ اٹھائیس دن بعد لگایا جائے گا۔ اٹھائیس دن میں روزہ جاری ہوگا ، اس لئے منتظمین نے شہر کی کئی مساجد میں رات میں کورونا ٹیکہ کاری کیمپ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاکہ روزہ داروں کو مشکلات سے بچایا جاسکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 13, 2021 05:58 PM IST