ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

17 سال بعد لڑکی نے کی آبروریزی کرنے والے کی شناخت ، بتائی اس دن کی خوفناک کہانی ، پولیس بھی رہ گئی حیران

17 سال بعد ٹراما سے نکلی لڑکی نے سوشل میڈیا پر اپنے ریپسٹ کی شناخت کرلی ۔ اس نے اندور پولیس کو پوری کہانی بتائی اور ایف آئی درج کرائی ۔ اس کی کہانی سن کر پولیس بھی حیران ہے ۔

  • Share this:
17 سال بعد لڑکی نے کی آبروریزی کرنے والے کی شناخت ، بتائی اس دن کی خوفناک کہانی ، پولیس بھی رہ گئی حیران
17 سال بعد لڑکی نے کی آبروریزی کرنے والے کی شناخت ، بتائی اس دن کی خوفناک کہانی

اندور : آبروریزی کے بعد لڑکی ٹراما میں چلی گئی تھی ، اس کو لگا تھا کہ اب زندگی تقریبا تقریبا ختم ہوگئی ہے ، لیکن جیسے ہی اس کی زندگی میں دھیرے دھیرے بہتری آئی تو اس نے بڑا قدم اٹھایا ۔ لڑکی نے اپنے ساتھ آبروریزی کا راز 17 سال بعد کھولا اور مدھیہ پردیش کے اندور میں ایف آئی آر درج کرائی ۔ 39 سال کی اس لڑکی کہانی آپ کو حیران کردے گی ۔


دراصل نیمچ کی رہنے والی متاثرہ لڑکی کو رتلام کے کے سنیل نے 2004 میں اندور بلایا تھا ۔ یہاں اس نے ایک دفتر میں متاثرہ لڑکی کی آبروریزی کی اور فرار ہوگیا ۔ متاثرہ لڑکی کو اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا اور وہ صدمے میں چلی تھی ۔ اس نے زندگی جینا ہی چھوڑ دیا تھا ، لیکن وقت کے ساتھ زخم بھر گئے ۔ کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب متاثرہ لڑکی نے 17 سال بعد سوشل میڈیا پر ملزم سنیل کی تصویر دیکھی اور اندور پولیس میں شکایت کی ۔


متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ یہ بات 2004 کی ہے ۔ اس وقت اس کی عمر 22 سال تھی ۔ ایک دن اس کے گھر رانگ نمبر سے فون آیا ۔ اس طرف سے شخص بتا رہا تھا کہ وہ نوکری دیتا ہے ۔ چونکہ میں چھوٹی تھی اور تعلیم بھی حاصل کرنا چاہ رہی تھی ، اس لئے اس کی باتوں میں آگئی ۔ ملزم شخص اس سے کہتا ہے کہ وہ ابھی اندور میں ہے ۔ یہاں ایک دفتر میں کام ہے اور اچھا پیسہ بھی ملے گا ۔


متاثرہ لڑکی نے ٹی آئی جیوتی شرما کو بتایا کہ ملزم نے اس کو سپنا ۔ سنگیتا روڈ پر واقع ایک دفتر میں بلایا ۔ طے وقت کے مطابق وہ رات آٹھ بجے وہاں پہنچ گئی ۔ اس وقت ملزم نے اس کو جان سے مارنے کی دھمکی اور آبروریزی کرکے فرار ہوگیا ۔ آفس سے باہر آکر لڑکی نے ایک دوسرے لڑکے سے مدد مانگی اور بھائی کو بلاکر صدمے کی حالت میں گھر چلی گئی ۔

متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے رتلام اور نیمچ پولیس سے کئی مرتبہ شکایت کی ، لیکن پولیس اہلکاروں نے ہر مرتبہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جب ملزم کو پتہ ہی نہیں ہے تو کیس درج کیسے کریں ۔ متاثرہ لڑکی نے کئی مرتبہ فریاد کی ۔ آخر کار جب کیس درج نہیں ہو ، تو وہ مایوس ہوکر صدمے میں چلی گئی اور کئی سالوں بعد نارمل ہوئی ۔

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ فی الحال وہ نیمچ میں ہی رہتی ہے ۔ اس نے جب اپنا سوشل میڈیا اکاونٹ بنایا تو اچانک 17 سال بعد ملزم کو چہرہ سامنے آگیا ۔ ملزم کو دیکھ کر وہ اس کو پہچان گئی ۔ اس کی پہچان سنیل کے طور پر ہوئی ۔ آخر کار اس نے اندور پولیس کے افسران سے رابطہ کیا اور کیس درج کروایا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 19, 2021 10:06 AM IST