உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو صحافت کے دو سوسال مکمل ہونے پر سال بھر جشن منانے کا فیصلہ ، بھوپال سے ہوگا آغاز

    اردو صحافت کے دو سوسال مکمل ہونے پر سال بھر جشن منانے کا فیصلہ ، بھوپال سے ہوگا آغاز

    اردو صحافت کے دو سوسال مکمل ہونے پر سال بھر جشن منانے کا فیصلہ ، بھوپال سے ہوگا آغاز

    2022 میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر بے نظیرانصار ایجوکیشنل سوسائٹی نے سال دوہزار بائیس میں پورے سال جشن اردو صحافت کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : اردو صحافت کا آغاز جام جہاں نما سے تسلیم کیا جاتا ہے ۔ جام جہاں نما کا آغاز کلکتہ سے ستائیس مارچ اٹھارہ سو بائیس کو کیا گیا تھا۔ دوہزار بائیس میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر بے نظیرانصار ایجوکیشنل سوسائٹی نے سال دوہزار بائیس میں پورے سال جشن اردو صحافت کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جشن اردو صحافت کی تیاریوں کی لے کر بھوپال منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاورتی میٹنگ میں ممتاز اردو دانشوروں نے شرکت کی اور جشن اردو صحافت کی دو سوسالہ تقریب کو اردو صحافت ، زبان کی آبیاری اور نئی نسل کی ذہن سازی کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ۔

    جشن اردو صحافت کے روح رواں اور بے نظیر انصار ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر و سابق ڈی جی پی چھتیس گڑھ ایم ڈبلیو انصاری نے مشاورتی میٹنگ اردو صحافت کی دو سو سالہ جشن تقریب کے حوالے سے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میٹنگ کے انعقاد کا مقصد اردو کی با مقصد صحافت، تحریک آزادی میں اردو صحافت کی خدمات ، مجاہدین جنگ آزادی ، اردوشاعروں اور ادبیوں کی روشن تاریخ کو منظر عام پر لانا ہے ۔ ہم ابھی سے اپنی تیاری کریں گے تو دوہزار بائس میں پورے ملک میں جشن اردو صحافت کا انعقاد کر سکیں گے ۔

    مشاورتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز شاعر منظر بھوپالی نے کہا ہے کہ اردو صحافت نے زندگی کے تمام شعبہ حیات کو متاثر کیا ہے اور آج بھی اردو صحافت چاہے وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک میڈیا سبھی میں اردو صحافت اور صحافی اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ہمیں اپنی نظر اور اردو صحافت کو لے کر اپنا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے ۔

    مولانا برکت اللہ ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون نے دو سو سالہ جشن میں سبھی قوموں کو ساتھ لے کر چلنے اور اردو صحافت کے حوالے سے لوگوں کے نظریہ کو بدلنے پر زور دیا۔ اردو کو لے کر اور اردو صحافت کو لے کر جو لوگ مایوسی کی باتیں کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہو نا چاہئے کہ اگر اردو صحافت میں مقصدیت نہیں ہوتی تو روز بروز اردو اخبار و رسائل کی تعداد میں اضافہ کیوں نہیں ہوتا۔

    ممتاز شاعر و بھوج اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے مشاورتی میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک زندہ زبان ہے اور جب بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے یہ اتنا لمبا سفر طے کرسکتی ہے تو اگر اس کی سرپرستی کر دی جائے گی تو اس کا تانباک مستقبل ماضی سے زیادہ روشن ہوگا ۔ جو لوگ اردو صحافت کو لے کر مایوسی کی بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر صحافت گھاٹے کا سودا ہوتا تو اس کی نشریات کے بڑے بڑے چینل نہیں ہوتے ۔ راموجی راو نے اردو کی ٹیلی ویزن نشریات کو شروع کرکے ایک سنگ میل کا کام کیا تھا ۔ آج نیوز 18 اردو صحافت کے میدان میں جوکام کر رہا ہے اس سے کون واقف نہیں ہے ۔ بے نظیر انصار ایجوکیشنل سوسائٹی نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور ہم سب لوگ اس پر لبیک کہتے ہیں ۔

    اردو صحافت کی دو سو سالہ جشن تقریب کے پہلے پروگرام کا انعقاد بھوپال میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پہلے پروگرام میں اردو صحافت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے مدھیہ پردیش کی تمام مقتدر شخصیات کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تاکہ مشترکہ تہذیب کی علمبرداد اردو زبان اوراس کے صحافیوں کو نئی نسل سے روشناس کرایا جا سکے ۔ جشن اردو صحافت کے افتتاح میں گورنر اور وزیر اعلی کی شرکت کے ساتھ وزیر تعلیم وزیر رابطہ عامہ کی شرکت کی یقینی بنانے کے لئے ایک کمیٹی کو بھی تشکیل دیا گیا ہے ۔ تاکہ پروگرام کا انعقاد اس کی شایان شان ہو سکے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: