உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش میں مسلم سماجی تنظیموں نے ائمہ و مؤذنین کے مسائل کو لیکر شروع کی تحریک

    جمعیت علما ہند اور سد بھاؤنا منچ کا الزام ہے کہ مساجد کمیٹی کے ذریعہ ریاست کی مساجد میں امام و مؤذن کی تقرر تو کیاگیا مگر بیشتر مساجد میں پیش امام کی تقرری کے معاہدے پر آج تک عمل نہیں لایا گیا ۔

    جمعیت علما ہند اور سد بھاؤنا منچ کا الزام ہے کہ مساجد کمیٹی کے ذریعہ ریاست کی مساجد میں امام و مؤذن کی تقرر تو کیاگیا مگر بیشتر مساجد میں پیش امام کی تقرری کے معاہدے پر آج تک عمل نہیں لایا گیا ۔

    جمعیت علما ہند اور سد بھاؤنا منچ کا الزام ہے کہ مساجد کمیٹی کے ذریعہ ریاست کی مساجد میں امام و مؤذن کی تقرر تو کیاگیا مگر بیشتر مساجد میں پیش امام کی تقرری کے معاہدے پر آج تک عمل نہیں لایا گیا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کا قیام ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے معاہدے کی رو سے عمل میں آیاتھا۔ نواب بھوپال حمید اللہ خان اور انڈین کے بیچ ہوئی معاہدے کے تحت ریاست کے آئمہ و مؤذنین اور پیش امام کے ساتھ مندر کے پجاری ،چرچ کے پادری ،گرودوارہ کے مذہبی رہنما کو نذانہ اسی طرح سے پیش کرنے کا معاہدہ کیاگیا جس طرح سے ریاست کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔ حکومت کے ذریعہ دھرس وبھاگ کی تشکیل کرکے مندر،چرچ اور گرودواروں کو الگ کردیاگیا جبکہ مساجد کے نظم ونسق کے لئے مساجد کمیٹی کی تشکیل کردی گئی ۔ انضمام ریاست کو ہوئے سات دہائیاں گزر گئی ہیں مگر مساجد کمیٹی میں حکومت کی جانب سے اب تک مکمل طور پر مرجر ایگریمنٹ کا نفاذ نہیں کیا جاسکا ہے۔ جمعیت علما ہند اور سد بھاؤنا منچ کا الزام ہے کہ مساجد کمیٹی کے ذریعہ ریاست کی مساجد میں امام و مؤذن کی تقرر تو کیاگیا مگر بیشتر مساجد میں پیش امام کی تقرری کے معاہدے پر آج تک عمل نہیں لایا گیا۔ وہیں مساجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ آئمہ وموزنین کی تقرری اور ان کے نذرانہ کی ادائیگی میں حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق ہی کام کیا جاتا ہے ۔
    سدبھاؤنا منچ مدھیہ پردیش بھوپال شاخ کے سکریٹری مولانا اظہر ندوی کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کو آئمہ و مؤذنین کی تقرری کو لیکر جو ذمہ داری دی گئی تھی اس پر آج تک مکمل طور سے عمل نہیں ہو سکا ہے۔ مساجد کمیٹی کے ذریعہ ریاست بھوپال کی مساجد میں امام ،پیش امام کے ساتھ موذن کو تقرر کرنا تھا مگر افسوس کی آج تک مساجد کمیٹی کے ذریعہ سبھی مساجد میں پیش امام کی تقرری نہیں کی گئی ۔

    اگر مساجد میں امام ،مؤذن کے ساتھ پیش امام کی تقرری کاکام کیاگیا ہوتا تو سیکڑوں کو لوگوں کو دین کی خدمت کا موقع ملتا۔ ہماری مساجد کمیٹی اور محکمہ اقلیتی بہبود سے مانگ ہے کہ ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ مساجد کے امام ،پیش امام اور مؤذن کو لیکر جو معاہدہ ہوا تھااس پر پوری طرح سے عمل کیا جائے ۔اگر محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود اور مساجد کمیٹی کے ذریعہ مرجر ایگریمنٹ پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو اس معاملے کو لیکر ہم گورنر اور سی ایم سے ملاقات کرنے کے ساتھ ضرورت پڑنے پر عدالت سے بھی رجوع کرینگے۔

    وہیں مساجد کمیٹی کے مہتمم یاسر عرفات کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی میں حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق کام کیا جاتا ہے ۔ ابھی مساجد کمیٹی کے ذریعہ تین سو اٹھاسی ائمہ و مؤذنین کو تنخواہ ادا کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ مساجد کمیٹی کے ذریعہ محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کو پانچ سو اکیاون آئمہ ومؤذنین اور پیش امام کا پروپوزل بنا کر بھیجا گیا ہے وہاں سے منظوری ملنے کے بعد اس پر حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: