உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدلنے کے بعد حمیدیہ اسپتال کا نام بدلنے کی اٹھی مانگ

    مدھیہ پردیش : حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدلنے کے بعد حمیدیہ اسپتال کا نام بدلنے کی اٹھی مانگ

    مدھیہ پردیش : حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدلنے کے بعد حمیدیہ اسپتال کا نام بدلنے کی اٹھی مانگ

    حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر گونڈ رانی کملا پتی کے نام پر رکھنے کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں پڑا تھا کہ حبیب گنج تھانہ اور بھوپال کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال حمیدیہ اسپتال کا نام بدلنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش حکومت عوامی فلاح کے کام میں بھلے ہی کوئی ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہو مگر تاریخی مقامات کے نام بدلنے کے معاملے میں اس کے نام ریکارڈ ضرور قائم ہوگا۔ حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر گونڈ رانی کملا پتی کے نام پر رکھنے کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں پڑا تھا کہ حبیب گنج تھانہ اور بھوپال کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال حمیدیہ اسپتال کا نام بدلنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔ آرایس ایس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعہ نام بدلنے کو لیکر جہاں تحریک میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے وہیں اب بی جے پی میڈیکل سیل نے بھی حکومت کو میمورنڈم بھیج کر بھوپال کے آخری فرمانروا نام حمید اللہ خان کے نام پر قائم حمیدیہ اسپتال کا نام بدل کر ڈاکٹر این پی مشرا کے نام پر کئے جانے کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔

    بھوپال میں یوں تو اسلام نگرکا نام بدل کر جگدیش پور،عیدگاہ ہل کا نام بدل کر گورنانک ٹیکری اور ٹیلہ جمالپورکا نام بدل کر رام پورا کرنے کی تحریک جاری ہے اور اب تک حکومت کے ذریعہ بیرا گڑھ کا نام بدل کر سنت ہردا رام نگر، کولار کا نام بدل کر شیاما پرساد مکھری جی نگر، لال گھاٹی کا نام بدل کر مہنت چندرماداس تیاگی اور حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملا پتی اسٹیشن کیا جا چکا ہے ۔ نئے مطالبہ میں حبیب گنج تھانہ اور حمیدیہ اسپتال کا نام شامل ہے ، جس پر اب مسلم تنظیموں نے کھل کر اپنا اعتراض درج کرانا شروع کردیا ہے ۔

    مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ جمہوری ملک میں ایک مذہب کی بالادستی کو قائم کرنے کے لئے دوسرے مذہب کی دل آزاری اچھی بات نہیں ہے ۔ حکومت کے ذریعہ مسلم تشخص کے ناموں کو بدلنےکی جو سازش کی گئی ہے یہ ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش ہے ، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ نوابین بھوپال کا بھوپال کی ہمہ جہت ترقی میں اپنا ایک کردار رہا ہے اور حمیدیہ اسپتال کا نام انضمام ریاست کی روسے قائم ہے ۔ انضمام ریاست کا معاہد انڈین یونین اور ریاست بھوپال کے مابین ہوا تھا ۔

    دوسری بات یہ ہے کہ حکومت کو اگر نام رکھنا ہے تو کسی کی بنائی ہوئی تاریخی عمارت پر اپنی نئی عمارت تعمیر کرکے اس کا نام رکھے۔ ڈاکٹر این پی مشرا ایک اچھے ڈاکٹر تھے ، حکومت کو ان کے نام پر کچھ قائم کرنا ہے تو اسے اپنا دل بڑا کر کے کام کرنا چاہئے ۔ پھر میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کا نام انڈیا، ہندوستان اور بھارت بھی ہے ۔ بھارت نام بھرت کے نام سے منسوب ہے ۔اس ملک میں بھرت سے بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے ہیں تو حکومت ملک نام بھارت سے بدل کر سری رام، کرشن جی، گوتم بدھ یا سمراٹ اشوک کرے گی۔ اس معاملے کو لیکر جمیعت تمام مذاہب کے لوگوں کا بھوپال میں جلد ہی اجلاس بلائے گی تاکہ سبھی کی متفقہ رائے سے منظم طریقے سے اس کے خلاف تحریک چلائی جا سکے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کے ذریعہ حبیب گنج اور دوسرے مقامات کا نام بدلنے کو لے کر میمورنڈم دیا گیا ہے ، یہ غور طلب موضوع ہے اور ہم اس پر غور کریں گے ۔

    مدھیہ پردیش میں نام بدلنے کو لے کر جس طرح سے گزشتہ کچھ مہینوں سے ہندو تنظیموں کے ذریعہ تحریک شروع ہوئی ہےاور اس تحریک کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہو رہی ہے  اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آئندہ وقت یہ سیاست اور شدت اختیار کرے گی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: