உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : تغیر زمانہ کے باوجود فارسی زبان کی اہمیت و افادیت برقرار : دانشوران

    مدھیہ پردیش : تغیر زمانہ کے باوجود فارسی زبان کی اہمیت و افادیت برقرار : دانشوران

    مدھیہ پردیش : تغیر زمانہ کے باوجود فارسی زبان کی اہمیت و افادیت برقرار : دانشوران

    پروگرام میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور فارسی زبان کی اہمیت و افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فارسی زبان میں روزگار کے بڑے امکانات کو حوالوں کے ذریعہ پیش کیا۔

    • Share this:
    بھوپال : برکت اللہ یونیورسٹی شعبہ فارسی کے زیراہتمام بھوپال میں فارسی زبان کی اہمیت و افادیت کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور فارسی زبان کی اہمیت و افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فارسی زبان میں روزگار کے بڑے امکانات کو حوالوں کے ذریعہ پیش کیا۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ موجودہ صدی ہو یا گزری صدی ہم اپنے ماضی کو فراموش کرکے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں اور ماضی اپنے مستبقل کی راہ دکھاتا ہے۔ بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آرجے راؤ کہتے ہیں کہ فارسی زبان  کی آج بھی اہمیت برقرار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی فارسی کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ برکت اللہ یونیورسٹی شعبہ فارسی کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے طور پر فروغ دیا جائے تاکہ یہاں پر نہ صرف فارسی زبان میں نئی نئی ریسرچ ہو بلکہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو فارسی زبان میں روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوں۔

    بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی شعبہ فارسی کی صدر ڈاکٹر طاہرہ وحید عباسی کہتی ہیں کہ پروگرام کے انعقاد کا مقصد نئی نسل کے طلبہ کو فارسی زبان کی اہمیت  وافادیت سے واقف کرانا ہے ۔ نئی صدی میں فارسی زبان کا استعمال کم ضرور ہوا مگر اس کی تعلیمی اہمیت برقرارہے ۔

    دہلی سے پروگرام میں شرکت کرنے آئے فارسی زبان کے ممتاز ادیب پروفیسرایس ایچ قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ فارسی اور سنسکرت کے بیچ جو ایک خاص رشتہ ہے ، وہ اپنی جگہ ہے فارسی زبان کے الفاظ ہندستان کی مقامی زبانوں میں اس طرح سے جذب ہوگئے ہیں کہ ہمیں اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ کب ہم فارسی زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور کب ہندستانی زبانوں کا۔ بدلے ہوئے منظر نامے میں فارسی زبان کا چلن کم ضرور ہوا مگر ہندستان کے باہر بھی ایک دنیا ہے جہاں فارسی کو کلید ی  مقام حاصل ہے اور فارسی میں ترجمہ کے ذریعہ روزگار کے بڑے مواقع حاصل ہیں ۔

    ممبئی سے آئے ممتاز ادیب شمیم طارق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکیسویں صدی ہویا اس کے بعد آنے والی صدی ہو ہم گزری ہوئی صدی اس کی تاریخ ،رسم و رواج،بولی،رسم ورواج  اور تہذیبی ورثے کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں ۔اس لئے ہمارا مستقل ہمارے ماضی کے ساتھ وابستہ ہے اور ہرماضی اپنے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ فارسی بھلے ہی آج اقتدارکی زبان نہیں لیکن دنیا کی ایک بڑی اور توانا زبان میں فارسی کا نام شامل ہے اور ہندستان کی جدید زبان سے اس کا کہیں نہ کہیں رشتہ مربوط ہے۔ ہم کہیں جان کر استعمال کرتے ہیں کہ یہ فارسی زبان ہےاور کہیں لا شعوری طور پر استعمال کرتے ہیں ، جس کی مثالیں ہر جگہ موجود ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فارسی کو زمانے کی ضرورت سے ہم آہنگ کیا جائے اور جس دن ہم زمانے کی ضرورت اسے ہم آہنگ کردیں گے تو نہ صرف فارسی زبان کا فروغ ہوگا بلکہ اس میں بے شمار روزگار کے مواقع بھی فراہم ہونگے۔

    اس موقع پر برکت اللہ یونیورسٹی شعبہ فارسی کی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ وحید عباسی کی کتاب راکھ میں چنگاری کا اجراکیا گیا ۔ راکھ میں ممتاز ادیب و نادق شمیم طارق کی فکری جہات پر لکھی گئی دستاویزی کتاب ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: