ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کوروناوائرس کے دور میں بھوپال میں کام بند کر کے ڈاکٹر دھرنے پر بیٹھے

بھوپال کے جے پی اسپتال میں اس وقت افرا تفری مچ گئی جب سبھی ڈاکٹر اپنے کام کاج چھوڑ کر اسپتال کے باہر کھڑے ہوکر محکمہ صحت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔

  • Share this:
کوروناوائرس کے دور میں بھوپال میں کام بند کر کے ڈاکٹر  دھرنے پر بیٹھے
بھوپال کے جے پی اسپتال میں اس وقت افرا تفری مچ گئی جب سبھی ڈاکٹر اپنے کام کاج چھوڑ کر اسپتال کے باہر کھڑے ہوکر محکمہ صحت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔

مدھیہ پردیش میں ایک جانب کورونا کا قہر جاری ہے وہیں دوسری جانب محکمہ صحت کی کارکردگی سے ناراض ہو کر ڈاکٹروں نے کام کاج بند کردیا ہے۔ بھوپال کے جے پی اسپتال میں آج اس وقت افرا تفری مچ گئی جب سبھی ڈاکٹر اپنے کام کاج چھوڑ کر اسپتال کے باہر کھڑے ہوکر محکمہ صحت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ بھوپال کا جے پی اسپتال جسے بارہ سو پچاس اسپتال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس اسپتال میں منترالیہ کے ایک ملازم کو دو جون کو کورونا پازیٹو ہونے کے بعد داخل کیاگیا تھا۔ مریض کا یہاں پر ڈاکٹر سندیپ گپتانے علاج کیا  لیکن جب اس کی صحت میں کوئی افاقہ نہیں ہواتو مریض کو بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں داخل کیاگیا جہاں مریض کی سات جون کو موت ہو گئی ۔

منترالیہ کے مریض کی موت ہونے کے بعد منترالیہ کرمچاری سنگھ نے جے پی اسپتال کے ڈاکٹر سندیپ کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ ڈاکٹر سندیپ پر مریض کے علاج میں لا پرواہی کرنے کا الزام بھی لگایا گیا جس کے نتیجہ میں محکمہ صحت نے ڈاکٹر سندیپ کو معطل کردیا ۔ ڈاکٹر سندیپ کے معطل کرنے کی خبر اسپتال میں پہنچی ہی تھی کہ اسپتال کے سبھی ڈاکٹرس،نرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے ڈاکٹر سندیپ کی حمایت میں کام بند کردیا اور سبھی اسپتاک کے باہر احتجاج کرنے لگے ۔


جے پی اسپتال کے ڈاکٹر گوتم کہتے ہیں کہ کورونا مہاماری کی جنگ میں صرف جے پی اسپتال ہی نہیں سبھی اسپتال کے ڈاکٹرس اپنا بیسٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مریض جب اسپتال دو جون کو آیا تھا اس سمئے ڈاکٹر سندیپ نے اسکا علاج کیا تھا۔ اس کی ہیلتھ میں امپرومنٹ بھی تھا اور وہ سے گھر بھی چلاگیا لیکن جب اس کے بعد وہ دوبارہ اسپتال آیا تو اس کی ہیلتھ کریٹکل ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر سندیپ نے اس کی کریٹکل کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے حمیدیہ اسپتال میں ریفر کیا تھا ۔ مریض کی موت جے پی اسپتال نہیں بلکہ حمیدیہ اسپتال میں ہوئی ہے۔ ایسے میں ان پر بناکسی جانچ کے سسپنڈ کرنے کی کاروائی کرنا اچت نہیں ہے۔ ہیتھ وبھاگ کی اس کاروائی سے ہمیں دکھ ہوا ہے اور ہم سواستھ منتری کے ساتھ سی ایم سے بھی مانگ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر سندیپ کو بہال کیا جائے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر صحت ڈاکٹر نروتم مشرا سے جب نیوز ایٹین اردو نے فون پر بات کی تو انہوں نے ڈاکٹروں کے ذریعہ ایسے کسی کام کے بند کرنے سے پہلے تو انکار کیا ۔پھر کہا کہ اگر ایسا کہیں ہوا بھی ہوا ہے تو اچت کاروائی کی جائے گی ۔ کسی کے ساتھ انیائے نہیں ہوگا۔

وہیں مدھیہ پردیش کے سینئر کانگریس لیڈر و سابق وزیر قانون پی سی شرما نے جے پی اسپتال میں ڈاکٹروں کے ذریعہ کام بند کئے جانے کو افسوسناک بتایا ۔ پی سی شرما کہتے ہیں کہ سرکار کا پورا فوکس چناؤ پر ہے۔ اسے کورونا مریضوں اور ڈاکٹروں کی سمسیا ؤں سے کوئی لینا دینا ہے ۔ اگر سرکار گمبھیر ہوتی تو آج اسپتال کے ڈاکٹر کام کاج بند کر کے اسپتال کے باہر نہیں بیٹھتے ۔ جے پی اسپتال کا شمار بھوپال کے بڑے اسپتالوں میں ہوتا ہے ۔ ڈاکٹروں کے ذریعہ اچانک کام بند کئے جانے سے  کورونا مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا ٖپڑا بلکہ اسپتال کی اوپی ڈی میں آنے والے دوسرے مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

منترالیہ کرمچاری سنگھ کے دباؤ میں محکمہ صحت نے جے پی اسپتال کے ڈاکٹر سندیپ کو معطل تو کردیا ہے لیکن جس طرح سے جے پی اسپتال کے ڈاکٹر،نرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے  ڈاکٹر سندیپ کی حمایت میں کام بند کیا ہے اس سے عام مریضوں کے ساتھ محکمہ صحت کی مشکلات بھی کم ہونے والی نہیں ہے۔ مستقبل میں یہ معاملہ اور بھی طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔کیونکہ جے پی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انتباہ دیدیا ہے کہ اگر محکمہ صحت ڈاکٹر سندیپ کومعطل کئے جانے کا احکام واپس نہیں لیتا ہے تو وہ آگے کام نہیں کرینگے ۔
First published: Jun 13, 2020 07:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading