உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : تعلیم کے حصول میں نہاں ہے تمام کامیابیوں کا راز، اسلامی آئیڈیل فاؤڈیشن کے پروگرام میں علمائے دین کا اظہارخیال

    مدھیہ پردیش : تعلیم کے حصول میں نہاں ہے تمام کامیابیوں کا راز، اسلامی آئیڈیل فاؤڈیشن کے پروگرام میں علمائے دین کا اظہارخیال

    مدھیہ پردیش : تعلیم کے حصول میں نہاں ہے تمام کامیابیوں کا راز، اسلامی آئیڈیل فاؤڈیشن کے پروگرام میں علمائے دین کا اظہارخیال

    بھوپال کے شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے وقت کی ضرورت سے تعبیر کرتے ہوئے علم کے حصول کو زندگی کا نصیب العین بنانے پر زور دیا۔

    • Share this:
    بھوپال : قران عالم انسانیت کے لئے رہنمائے ہدایت ہے ۔ قران کی تعلیم کسی ایک عہد، ایک فرقہ ، ایک مسلک کے لئے نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کے لئے ہے ۔ قران نے پہلے روز سے تعلیم کے حصول پر زور دیا ہے ، لیکن افسوس کہ قران کا ذکر کرنے والی قوم نے قران کو جذدان میں بند کردیا ہے اور دنیا کے لوگوں سے ہدایت کے لئے بھٹکتی پھر رہی ہے ۔ جس دن مسلمان قران کی تعلیم پر غور وفکر کرنا شروع کردے گا اور علم کے حصول کو زندگی کا مقصد بنالے گا ، اس دن اس کی کامیابیاں سرچڑھ کر بولیں گی ۔ ان خیالات کا اظہار بھوپال میں منعقدہ اسلامک آئیڈیل فاؤنڈیشن کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے علمائے دین نے کیا ۔

    واضح رہے کہ بھوپال میں اسلامک فاؤنڈیشن کا قیام کورونا قہر میں آن لائن دینی اور دعوتی تعلیم کے ادارے کے طور پر عمل میں آیا ہے۔ کورونا قہر میں جب تعلیم ادارے بند ہوگئے اور تعلیم کے حصول کے لئے آن لائن تعلیم کا ہی ذریعہ رہ گیا تب بھوپال کے چند نوجوانوں نے اس ادارہ کو قائم کیا۔ نوجوانوں کو اس میں بڑی کامیابی ملی اور انہوں نے صرف بھوپال اور مدھیہ پردیش تک ہی آن لائن تعلیم کے سلسلہ کو جاری نہیں رکھا بلکہ اس میں ہندوستان کے سبھی ریاستوں کے  طلبہ کو آن لائن دینی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ آن لائن دینی تعلیم حاصل کرنے والوں میں پانچ سال کی عمر سے پچاسی سال کی عمر تک کے لوگ شامل ہیں ۔ دینی، عربی اور تجوید کو لیکر اسلامک فاؤنڈیشن کے ذریعہ آن لائن مقابلہ کا انعقاد کیا گیا اور اس کے کامیاب طلبہ کو بھوپال کے عبدالحمید ہال میں پروگرام کا انعقاد کرکے انعام سے نوازا گیا۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی بھوپال کے شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے وقت کی ضرورت سے تعبیر کرتے ہوئے علم کے حصول کو زندگی کا نصیب العین بنانے پر زور دیا۔ قاضی سید مشتاق علی ندوی کہتے ہیں کہ جب تک خود کو زیور علم سے آراستہ نہیں کریں گے ، تب تک جہالت کے اندھیروں میں رہیں گے ۔ جہالت کے سبب ہی قوم پسماندگی کا شکار ہے ۔ تعلیم کے حاصل کرنے والے اور قران کی تعلیم کو عملی زندگی میں لانے والے ہی دونوں جہاں میں سرخرو ہوتے ہیں ۔

    اسلامک فاؤنڈیشن کی صدر مہوش پرویز کہتی ہیں کہ کورونا سے قبل میں دینی تعلیم دیتی تھی ، لیکن جب کورونا قہر میں ایکچویل کلاس کا سلسلہ بند ہوا تو میں نے دینی تعلیم کے لئے آن لائن کلاس کا سلسلہ شروع کیا تو اس میں ایکچویل کلاس سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی ۔ آن لائن کلاس میں شرکت کرنے والے صرف بھوپال کے لوگ ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں پورے ملک کے لوگ شامل ہیں اور پانچ سال کی عمر سے لیکر پچاسی سال کی عمر کے لوگ آن لائن کلاس میں شامل ہوکر اسلامی تعلیمات کو حاصل کررہے ہیں ۔ آن لائن کلاس شروع کرنے سے اندازہ ہوا کہ لوگ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ان کے پاس کہیں وسائل کی کمی تو کہیں مناسب پلیٹ فارم نہیں ہے ۔ ہم نے آن لائن دینی معلومات کا مقابلہ رکھا ہے اور ماشا اللہ بچوں نے بہترین فن کا مظاہرہ کیا ۔

    وہیں مفتی دانش پرویز کہتے ہیں کہ مقصد صرف اتنا ہے کہ دنیا کو زیور تعلیم سے منور کیا جائے۔ قران ہمیں کسی تعلیم کے حاصل کرنے سے منع نہیں کرتا ہے ، بلکہ قران تو ہمیں بار بار غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اور جب ہم لوگوں تعلیم کو حاصل کریں گے تو ہماری لئے ترقیوں کے دروازے خود بخود کھلتے جائیں گے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: