ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : کورونا کے سائے میں کچھ اس طرح ادا کی گئی عید الفطر کی نماز

قاضی سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ ما شااللہ علمائے دین کے احکام پر عمل کرتے ہوئے حکومت کی گائیڈ لائن کے بیچ مساجد میں پانچ پانچ لوگ اور باقی لوگوں نے اپنے گھروں پر عید الفطرکی نماز اداکر کے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ اللہ سے کورونا کی وبائی بیماری کے خاتمہ اور ملک کی خوشحالی کے لئے دعا کی گئی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : کورونا کے سائے میں کچھ اس طرح ادا کی گئی عید الفطر کی نماز
مدھیہ پردیش : کورونا کے سائے میں کچھ اس طرح ادا کی گئی عید الفطر کی نماز

بھوپال : مدھیہ پردیش میں کورونا کے سائے میں عید الفطر کی نماز ادا کی گئی ۔ ریاست میں کورونا کے بڑھتے قہر کے سبب حکومت نے اجتماعی  نماز کی ادائیگی پر پابندی لگا تے ہوئے مساجد میں پانچ پانچ لوگوں کوہی نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی ۔ کورونا قہر او رحکومت کی گائیڈ لائن کو ملحوظ رکھتے ہوئے علمائے دین نے بھی فرزندان توحید سے مساجد میں عید الفطر کی نماز ادا کرنے کی اپیل کی تھی ۔


بھوپال کو نوابوں کی نگری ، جھیلوں اور تالابوں کے شہر کے ساتھ مساجد کا بھی شہر کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں پانچ سو نوے مساجد ہیں اور جب ماہ رمضان آتے تھے تو یہاں پر نمازیوں کی اتنی کثرت ہوتی تھی کہ مساجد اپنی تنگ دامنی کی شکایت کرتی تھیں ۔ عید کے موقع پر ہر جانب سے روح پرور مناظر کا دیدار ہوتا تھا  مگر کورونا کی وبا ایسی آئی کہ مساجد ویران ہوگئیں ۔ عید کے مبارک موقع پر بھی ہر جگہ یہی ویرانی دیکھنے کو ملی ۔


قاضی سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ ما شااللہ علمائے دین کے احکام پر عمل کرتے ہوئے حکومت کی گائیڈ لائن کے بیچ مساجد میں پانچ پانچ لوگ اور باقی لوگوں نے اپنے گھروں پر عید الفطرکی نماز اداکر کے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ اللہ سے کورونا کی وبائی بیماری کے خاتمہ اور ملک کی خوشحالی کے لئے دعا کی گئی ہے۔


مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں رمضان کے روزے رکھنے اور عید کی نماز کو ادا کرنے کا موقعہ عطا فرمایا ۔ کورونا قہر کے سبب بہت سی پابندیاں عائید ہیں ، مگر یہ پابندیاں اس لئے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں اور زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکے ۔ ہمارے شہر بھوپال ہی نہیں پورے مدھیہ پردیش میں علمائے دین کی اپیل پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہوئے کووڈ ضابطہ کے بیچ عید کی نماز ادا کی گئی ہے ۔ یہ وقت بھی انشا اللہ گزر جائے گا اور ماحول پھر اللہ کی رحمتوں سے سازگار ہوگا ۔ یہ کورونا تو ہم سے یہی کہتا ہے کہ ہم قران کی تعلیم پر عمل کرنے والے بن جائیں ۔

عید کے مبارک موقع پرگلے ملنے اور مصافحہ کرنے کی روایت ہے ، مگر کورونا قہر میں علمائے دین نے جہاں حکومت کے احکا م پر عمل کرتے ہوئے عید کی نماز ادا کرنے کی اپیل کی ۔ وہیں علمائے دین نے عید کے موقع پر مصافحہ اورمعانقہ کرنے سے بھی پرہیز کرنے کی اپیل کی ۔ عید کے موقع پر لوگوں نے گھروں میں رہ کر ہی اپنوں کے بیچ عید کی خوشیاں منائیں ۔ تاکہ کورونا کی وبائی بیماری کا جلد سے جلد خاتمہ ہوسکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 15, 2021 12:05 AM IST