ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

MP By-Election: "آئٹم" بیان کملناتھ کیلئے بنا مصیبت ، الیکشن کمیشن نے 48 گھنٹوں میں مانگا جواب

MP Assembly by-election: سابق وزیر اعلی کملناتھ کے ذریعہ بی جے پی لیڈر امرتی دیوی کو آئٹم کہے جانے والے بیان پر الیکشن کمیشن (Election Commission of India) نے 48 گھنٹوں میں جواب مانگا ہے ۔

  • Share this:
MP By-Election:
MP By-Election: "آئٹم" بیان کملناتھ کیلئے بنا مصیبت ، الیکشن کمیشن نے 48 گھنٹوں میں مانگا جواب

مدھیہ پردیش میں 28 اسمبلی سیٹوں پر ہورہے انتخابات میں لیڈروں کی مسلسل زبان پھسل رہی ہے ۔ اس درمیان ریاست کے سابق وزیر اعلی کملناتھ کے ذریعہ بی جے پی کی امیدوار اور شیوراج حکومت میں وزیر امرتی دیوی کو آئٹم کہے جانے سے ہنگامہ مچ گیا ۔ جبکہ اس بیان کو لے کر الیکشن کمیشن نے کملناتھ سے جواب مانگا ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کو اپنا جواب 48 گھنٹوں کے اندر دینا ہوگا ۔


مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی کملناتھ نے گوالیار کے ڈبرا میں ہوئی ایک انتخابی ریلی کے دوران جیوترادتیہ سندھیا کی حامی وزیر امرتی دیوی کو لے کر بیان دیا تھا ۔  کملناتھ نے ڈبرا سے بی جے پی کی امیدوار کو طنزیہ انداز میں آئٹم کہہ دیا تھا ۔



کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آئٹم والے بیان پر کہا تھا کہ کملناتھ ہماری پارٹی سے ہیں ، لیکن شخصی طور پر میں ایسی زبان کو پسند نہیں کرتا ہوں ، میں اس طرح کی زبان کو کبھی فروغ نہیں دیتا ، پھر خواہ ہو کوئی بھی کیوں نہ ہو ، یہ بدقسمی ہے ۔ کملناتھ نے کہا کہ یہ راہل گاندھی کے خیالات ہیں ، میں اس سلسلہ میں پہلے ہی واضح کرچکا ہوں کہ میں نے اپنا بیان کس حوالے میں دیا تھا ، جب میرا ارادہ کسی کی بے عزتی کرنے کا نہیں تھا تو پھر میں معافی کیوں مانگوں؟ ۔

اس بیان کو لے کر بی جے پی نے کانگریس پارٹی کے خلاف جگہ جگہ خاموش مظاہرہ کیا تھا ۔ قومی خواتین کمیشن نے بھی اس معاملہ میں نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ضروری کارروائی کیلئے کہا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے ایک افسر نے بھی بتایا کہ اس معاملہ میں مدھیہ پردیش کے چیف الیکشن کمشنر سے تفصیلی رپورٹ مانگی گئی ہے ۔

آپ کو بتادیں کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کملناتھ کے بیان کو قابل اعتراض بتاتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھا تھا ۔ خط میں شیوراج نے مطالبہ کیا تھا کہ کملناتھ کو کانگریس کے سبھی اہم عہدوں سے ہٹاکر ان کے بیان کی مذمت کی جائے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 21, 2020 08:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading