உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صحرا میں سائبان کا محافظ ہوا رخصت ، ممتاز شاعر اختر وامق کے انتقال سے مدھیہ پردیش کی ادبی فضا ہوئی سوگوار

    صحرا میں سائبان کا محافظ ہوا رخصت ، ممتاز شاعر اختر وامق کے انتقال سے مدھیہ پردیش کی ادبی فضا ہوئی سوگوار

    اختروامق نے اپنی شاعری میں نئے نئے موضوعات اور لفظوں کے خوبصورت و برمحل استعمال سے شاعری کو دلفریب انداز عطا کیا ہے۔ ان کے لہجے میں کھلی ہوئی تلخی اور کسی قدرتیکھے پن میں وہ بانکپن ہے ، جس نے انہیں اپنے معاصرین میں ممتاز کردیا تھا۔

    • Share this:
    بھوپال : ممتاز شاعر ، افسانہ نگار و انشائیہ نگار اختر وامق کے سانحہ ارتحال سے مد ھیہ پردیش کی ادبی فضا سوگوار ہوگئی ہے ۔ اختر وامق کئی دنوں سے علیل تھے اور انہیں علاج کے لئے بھوپال کے اے بی ایم  ملٹی اسپیشلٹی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ، جہاں انہوں نے آج دار فانی کو خیر آباد کہہ دیا۔ نام سید اختر سعید اور قلمی نام اختر وامق ؔتھا۔ اختر وامق کی ولادت 24 جون انیس 1945 کو لکھنؤ کی گھسیاری منڈی کی کالی باڑی  میں  خالہ کے گھر ہوئی تھی۔ اختر وامق کے خالو سید عبدالحمید لکھنؤ میں سپرنٹنڈنٹ چیف کورٹ تھے۔ اختروامق کی ابتدائی تعلیم اسلامیہ کالج لکھنؤ سے ہوئی ۔ ہائی اسکول کی تعلیم لکھنؤ سے حاصل کرنے کے بعد وامق بھوپال آگئے اور انہوں نے  1969 میں بھوپال کے سیفیہ کالج سے بی اے اور بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے 1971 میں انگلش لٹریچر میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

    اختر وامق ؔکو شاعری کا فن وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد محمد سعید اخترؔ بنارسی اور بڑے بھائی مسعود اختر جمالؔ کا شمار ممتاز شاعروں میں ہوتا تھا۔ مسعود اختر کے شعری مجموعہ نورس اور جشن آزادی کے نام سے شائع ہوئے تھے۔ اختر وامق کے شعری فن کو جلا بخشنے میں بھوپال کے ادبی و شعری ماحول نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اختر وامق کی شاعری کا آغاز 1972 میں ہوا ۔ ابتداء میں انہوں نے جہانقدر چغتائی اور ظفر نسیمی سے مشورہ سخن کیا اس کے بعد بھوپال کے ممتاز استاد شاعر عشرت قادری کے تلامذہ میں شامل ہوگئے۔ اختر وامق نے شاعری کے علاوہ مختصرکہانیاں، افسانہ اور انشائیہ میں بھی اپنے فن کا جوہر دکھایا ہے ، لیکن ادبی حلقوں میں ان کی شناخت شاعری سے ہی بنی۔

    اختروامق نے اپنی شاعری میں نئے نئے موضوعات اور لفظوں کے خوبصورت و برمحل استعمال سے شاعری کو دلفریب انداز عطا کیا ہے۔ ان کے لہجے میں کھلی ہوئی تلخی اور کسی قدرتیکھے پن میں وہ بانکپن ہے ، جس نے انہیں اپنے معاصرین میں ممتاز کردیا تھا۔ اختر وامق کے شعری مجموعوں میں صحرا میں سائبان، خوابوں کی کرچیاں اور سچ کے سوا کچھ نہیں کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اختر وامق کو بھوپال بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

    ممتاز شاعر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کہتے ہیں کہ اختر وامق کے سانحہ ارتحال نا قابل فراموش ہے۔ اختر وامقؔ غزل کی کلاسیکی روایت کے امین تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں صرف غم جاناں کی بات نہیں کی ہے ، بلکہ ان کی شاعری عصری تقاضوں سے آراستہ تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کو صرف بھوپال اور مدھیہ پردیش میں ہی نہیں بلکہ اردو دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

    ممتاز شاعر و ادیب  ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ اختر وامق کا انتقال در اصل اردو ادب کا نقصان ہے۔ اب ایسے لوگ کہاں ہیں ، جن کی شاعری میں دبستان لکھنؤ اور بھوپال کا آہنگ نمایاں ہو ۔ انہوں نے اپنے پیچھے جو ادبی اثاثہ چھوڑا ہے ، وہ نئی نسل کی رہنمائی کرتا رہے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: