உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : ممتاز ادیب، ناقد اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق اثر کا انتقال

    مدھیہ پردیش : ممتاز ادیب، ناقد اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق اثر کا انتقال

    مدھیہ پردیش : ممتاز ادیب، ناقد اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق اثر کا انتقال

    ممتاز ادیب، ناقد اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق اثر کا انتقال ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر اخلاق اثر نے اقبالیات کے فروغ، اردوڈرامہ کا فن ، اردو ڈرامہ کی تاریخ، آل انڈیا اردو نشریات پر جو تحقیقی کام کیا ہے ، وہ نہ صرف اہم ہے بلکہ ان کی معنویت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا۔

    • Share this:
    بھوپال : ممتاز ادیب، ناقد اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق اثر کا انتقال ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر اخلاق اثر نے اقبالیات کے فروغ، اردوڈرامہ کا فن ، اردو ڈرامہ کی تاریخ، آل انڈیا اردو نشریات پر جو تحقیقی کام کیا ہے ، وہ نہ صرف اہم ہے بلکہ ان کی معنویت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا۔ ڈاکٹر اخلاق اثر کی ولادت یکم اگست انیس سو سینتس کو مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی  چوراسی سال کی عمر میں اپنی زندگی کا سفر بھوپال میں ہی تمام کیا ۔ اخلاق اثر کئی دنوں سے علیل تھے اور آج انہوں نے بھوپال میں اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔ اخلاق اثر کو بعد نماز عصر بھوپال تکیہ قلندر شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں بھوپال کے شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی اور انہیں اپنی محبتوں کا خراج پش کیا۔

    اخلاق اثر کی تعلیم و تربیت بھوپال میں ہی ہوئی۔ انہوں نے شہر غزل بھوپال میں آنکھ ضرور کھولی لیکن انہوں نے شعری اصناف سے ہٹ کر اردو کی نثری اصناف پر طبع أزمائی کی اور ایک درجن کے قریب کتابیں اور دو سو سے زیادہ تحقیقی مضامین لکھ کر اردو کے دامن کو وسیع کرنے کا کام کیا ۔ ڈاکٹر اخلاق اثر کی کتابوں میں  نشریات اور آل انڈیا ریڈیو، مکاتیب احتشام اقبال اور ممنون، احتشام حسین ایک مطالعہ، اردو ڈرامہ کی تاریخ، ریڈیو ڈرامہ کی اصناف، ریڈیو ڈرامہ کا فن، مٹھی بھر دھول، اقبال نامے، اقبال اور شیش محل ، اردو کا پہلا ڈرامہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

    ممتاز ادیب ڈاکٹر محمد نعمان ڈاکٹر اخلاق اثر کے سانحہ ارتحال کو اردو زبان و ادب کے حوالے سے نا قابل تلافی نقصان قرار دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد نعمان کہتے ہیں کہ وہ ایک محقق، ناقد کے ساتھ معلم بھی تھے اور انہوں نے پوری زندگی اردو زبان کی آبیاری میں صرف کی ہے ۔ جب بھی اردو ڈرامہ ،اردو نشریہ اور اقبال نامہ کی بات ہوگی ڈاکٹر اخلاق اثر اپنی تحریروں کے حوالے سے بہت یاد کئے جائیں گے۔

    بھوپال کے مشہور ڈرامہ آرٹسٹ اور شاعر بدر واسطی کہتے ہیں اخلاق اثر اپنی تحریروں میں جو اثر رکھتے تھے اب وہ لوگ ہمارے سماج میں نہیں ہیں ۔ ہمارے سماج میں شاعری کے نام پر طبع آزمائی کرنے والے تو بہت ہیں مگر نثر نگار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اخلاق اثر کا جانا ہمارے لئے ایسا ہی ہے جیسے آفتاب سایہ چھوڑکر چلا جاتا ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ اخلاق اثر اردو زبان کی آبیاری کے لے جیتے تھے ۔ انہوں نے اپنی چوراسی سالہ زندگی میں جو ادبی خدمات انجام دیں وہ بہت اہم ہیں ۔ خاص کر انہوں نے اقبال نامے اور اقبال و شیش محل کو لے کر جو کتاب لکھی ہے ، اس سے اقبالیات کے فروغ میں نئے دروازے وا ہوتے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ انہیں جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: