ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں اقلیتی اداروں کےملازمین تنخواہ سے محروم

مارچ میں شیوراج سنگھ حکومت کی تشکیل ہوئی ، مگر اب تک وقف بورڈ، حج کمیٹی ، اقلیتی کمیشن ، اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن ، مدرسہ بورڈ اور اردو اکادمی کی تشکیل نہیں کی گئی ہے ۔ حج کمیٹی ، مساجد کمیٹی ، مدرسہ بورڈ اور وقف بورڈ کے ملازمین کو کورونا قہر میں تنخواہیں نہیں ملنے سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں اقلیتی اداروں کےملازمین تنخواہ سے محروم
مدھیہ پردیش میں اقلیتی اداروں کےملازمین تنخواہ سے محروم

مدھیہ پردیش میں حکومت کیا بدلی اقلیتی اداروں اور اس کے ملازمین کے سامنے مسائل کے انبار کھڑے ہوئےگئے ہیں ۔ اقلیتی اداروں میں ایک جانب حکومت نے کسی کمیٹی اور سربراہ کا تقرر نہیں کیا ہے تو وہیں دوسری جانب اقلیتی اداروں کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملنے سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کورونا قہر میں اقلیتی اداروں کے ملازمین اپنی تنخواہوں کو لے کر وزیروں اور محکموں کے سربراہان کے چکر لگا رہے اور پوری حکومت اسمبلی ضمنی انتخابات میں مصروف ہے ۔


ایسا نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش میں پہلی مرتبہ اقتدار کی منتقلی ہوئی ہے ۔ حکومتیں اس سے پہلے بھی بدلتی رہی ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے کہ اقلیتی اداروں اور ان کے ملازمین کی جانب کوئی دیکھنے والا نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اقلیتی اداروں کو پہلی بار نطر انداز کیا گیا ہے بلکہ کمل ناتھ حکومت میں بھی اقلیتی ادارے حاشیہ پر ہی تھے ۔ مارچ میں شیوراج سنگھ حکومت کی تشکیل ہوئی ، مگر اب تک وقف بورڈ، حج کمیٹی ، اقلیتی کمیشن ، اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن ، مدرسہ بورڈ اور اردو اکادمی کی تشکیل نہیں کی گئی ہے ۔ حج کمیٹی ، مساجد کمیٹی ، مدرسہ بورڈ اور وقف بورڈ کے ملازمین کو کورونا قہر میں تنخواہیں نہیں ملنے سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔


اقلیتی اداروں کی خستہ حالی اور اقلیتی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں کے مطالبہ کو لے کر جمعیت علما مدھیہ پردیش نے تحریک شروع کی ہے ۔ جمعیت علما بھوپال کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ یہ شرمنا ک ہے کہ کورونا قہر میں اقلیتی اداروں کے ملازمین کو تنخواہوں کے لئے در در بھٹکنا پڑرہا ہے ۔ مساجد کمیٹی کے ائمہ و موذنین کو چھ مہینے سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہے ، جبکہ مساجد کمیٹی اور ائمہ وموذنین کا تعلق مرجر ایگریمنٹ سے ہے ۔ حکومت مرجر ایگریمنٹ کو بالائے طاق رکھ کر منمانی کر رہی ہے ۔


بھوپال میں وقف قبرستانوں کا وجود خطرے میں ، اراضی مافیا کیلئے بنا سب سے آسان ٹارگیٹ
اب تک وقف بورڈ، حج کمیٹی ، اقلیتی کمیشن ، اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن ، مدرسہ بورڈ اور اردو اکادمی کی تشکیل نہیں کی گئی ہے ۔


اسی طرح سے مدرسہ بورڈ کے ملازمین مشکلات سے دوچار ہیں ۔ مدرسہ اساتذہ کو چار سال سے تنخواہیں نہیں ادا کی گئی ہیں ۔ مدھیہ پردیش وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے ملازمین کو بھی کئی مہینے سے تنخواہ نہیں ادا کی گئی ہے ۔ ہم نے پہلے بھی اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کو مطالبات کو لے کر میمورنڈم پیش کیا تھا ، آج پھر ہم نے اس سلسلہ میں میمورنڈم پیش کیا ہے ۔ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے ہیں ، تو حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگلے اسمبلی ضمنی انتخات میں ووٹ کے لئے ہماری ضرورت ہوگی ۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اقلیتی فلاح وبہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ یہ جتنے بھی مسائل ہیں ، سب پچھلی کمل ناتھ سرکار کے پیدا کئے ہوئے ہیں ۔ کانگریس صرف اقلیتوں سے ووٹ لینے کا کام کرتی ہے اور اس کے بعد انہیں بیچ منجدھار میں چھوڑ کر آگے نکل جاتی ہے ۔ بی جے پی سب کا ساتھ سب کا وکاس میں یقین رکھتی ہے ۔ ہمیں اس تعلق سے ابھی معلوم ہوا ہے ۔ سبھی محکموں سے جانکاری منگوائی ہے ۔ جلد ہی سبھی کا حل نکلے گا ۔ تنحواہیں بھی جاری ہوں گی اور اقلیتی اداروں میں کمیٹیوں کی تشکیل بھی ہوگی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 12, 2020 07:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading