اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مدھیہ پردیش: بھوپال گیس سانحہ کے 38 سال بعد بھی نہیں بھرے گیس متاثرین کے زحم

    مدھیہ پردیش: بھوپال گیس سانحہ کے 38 سال بعد بھی نہیں بھرے گیس متاثرین کے زحم

    مدھیہ پردیش: بھوپال گیس سانحہ کے 38 سال بعد بھی نہیں بھرے گیس متاثرین کے زحم

    Bhopal Gas Tragedy : دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ بھوپال گیس سانحہ کو تین دسمبر کی صبح اڑتیس سال مکمل ہوجائیں گے ۔ان اڑتیس سالوں میں مرکز اور صوبائی سطح پر کئی حکومتیں بدلیں لیکن گیس متاثرین کی خستہ حالی دور نہیں ہوسکی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal
    • Share this:
    بھوپال : دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ بھوپال گیس سانحہ کو تین دسمبر کی صبح اڑتیس سال مکمل ہوجائیں گے ۔ان اڑتیس سالوں میں مرکز اور صوبائی سطح پر کئی حکومتیں بدلیں لیکن گیس متاثرین کی خستہ حالی دور نہیں ہوسکی۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی  رات کو بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانہ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق پندرہ ہزار دو سو تیہتر موت ہوئی اور پانچ لاکھ چوہتر ہزار لوگ گیس کے مضر اثرات سے متاثر ہوئے۔حادثہ کے بعد اب جہاں حکومتوں نے گیس متاثرین کے حالات پر غور کرنا بند کردیاہے تو  وہیں گیس متاثرین کے زخم اب ناسور بنتےجارہے ہیں۔حکومتوں کی عدم توجہی سے مایوس ہوکر گیس متاثرین اب اپنی پوری توجہ سپریم کورٹ کی جانب مبذول کردی ہے۔ امسال تین دسمبر کو گیس سانحہ کی برسی پر گیس متاثرین نے بھوپال کے ساتھ دہلی میں بھی اپنے مطالبات کو لیکر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گیس سانحہ کی اڑتیسویں برسی کے پیش نظر چنگاری ٹرسٹ کے زیر اہتمام بھوپال نیلم پارک میں گیس ماثرین اور ان کے معذور بچوں نے کینڈل مارچ کرکے نم آنکھوں سے گیس سانحہ کے مہلوکین کو خراج عقید پیش کیا۔ بھوپال گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی چمپا دیوی  شکل کہتی ہیں کہ حادثہ کے اڑتیس سالوں میں حکومتیں اب دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ پر بات کرنا نہیں چاہتی ہیں۔ حکومتوں کی پوری توجہ صرف اور صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کو پورا کرنے کی ہے انہیں اپنے شہریوں کی فکر نہیں ہے۔ ہمیں جو کچھ بھی ملا ہے وہ عدالتوں کی مداخلت کے سبب ملا ہے اس لئے ہم لوگوں نے عدالت کی جانب اپنی پوری توجہ مبذول کررکھی ہے اور ہم آخری سانس تک لڑکر اپنا حق لے کررہیں گے۔

    یہ بھی پڑھئے: 16 اسمبلی سیٹ، تین گھنٹہ، 50 کلو میٹر سے زیادہ دوری، وزیر اعظم مودی کا سب سے لمبا روڈ شو


    یہ بھی پڑھئے: موسے والا کے والد نے کی گولڈی براڑ کے سر پر دو کروڑ روپے کا انعام رکھنے کی مانگ


    وہیں بھوپال پیڑت مہیلا اسٹیشنری سنگھ کی صدر رشیدہ بی کہتی ہیں کہ جو لوگ گیس سانحہ کی رات کو دنیا سے چلے گئے وہ خوش نصیب تھے اور جو زندہ ہیں وہ اپنی حکومتوں کی عدم توجہی کے سبب تڑپ تڑپ کراپنی زندگی جینے کو مجبور ہیں۔اب  حکومتیں اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کی اس لاپرواہی و عدم توجہی کے سبب گیس متاثرہ بستیوں میں تیسری اور چوتھی پیڑھی میں بچے معذور پیدا ہورہے ہیں۔ حکومت کو اس جانب توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

    اسی کے ساتھ ہماری مانگ یہ بھی ہے کہ دس جنوری کو سپریم کورٹ میں گیس سانحہ معاملے کو لیکر جو سماعت ہونی ہے مرکزی اور صوبائی حکومت اس معاملے میں عدالت کے سامنے  صحیح اعداد و شمار پیش کرے تاکہ گیس متاثرین کو ان کا حق مل سکے۔ حکومتیں گیس متاثرین کو چاہے جتنا بھی نظر انداز کریں لیکن گیس متاثرین اپنے حق کے لئے اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: