உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : اردو معاشرے کی ذہنی تسکین میں افسانچہ نے ادا کیا اہم کردار

    مدھیہ پردیش : اردو معاشرے کی ذہنی تسکین میں افسانچہ نے ادا کیا اہم کردار

    مدھیہ پردیش : اردو معاشرے کی ذہنی تسکین میں افسانچہ نے ادا کیا اہم کردار

    Bhopal News: اردو ادب کی سبھی اصناف نے اردو قارئین کے بیچ اپنی افادیت قائم کی ہے، مگر گزشتہ چند سالوں میں جس طرح سے افسانچہ نے اردو ادیبوں اور اردو معاشرے میں اپنی اہمیت کو قائم کیا ہے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ افسانچہ نویسوں کے لئے روح کو سرشار کر دینے والا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore
    • Share this:
    بھوپال : اردو ادب کی سبھی اصناف نے اردو قارئین کے بیچ اپنی افادیت قائم کی ہے، مگر گزشتہ چند سالوں میں جس طرح سے افسانچہ نے اردو ادیبوں اور اردو معاشرے میں اپنی اہمیت کو قائم کیا ہے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ افسانچہ نویسوں کے لئے روح کو سرشار کر دینے والا ہے۔ بھوپال میں ایک سال قبل افسانچہ کو فروغ دینے کے لئے اردو کے ادیبوں کے ذریعہ بزم افسانچہ کو قائم کیا گیا تھا ۔ بزم افسانچہ نے سال بھر میں اردو معاشرے میں اردو کے ادیبوں کے بیچ جو اپنی افادیت کے امٹ نقوش مرتب کئے ہیں ۔ اس سے اردو کے نئے قلم کاروں کے بیچ افسانچہ نویسی کے فن کو بہت فروغ ملا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کانگریس صدر بننے کی راہ میں گہلوت کے سامنے نیا چیلنج! دگ وجے سنگھ بھی لڑیں گے الیکشن:ذرائع


    پروگرام کے مہمان خصوصی و مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ناول ہو یا افسانہ اس کی اہمیت سے انکار کسی کو بھی نہیں ہے، مگر اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ ضخیم ناول یا بڑے افسانوں کو پڑھیں ،ایسے میں افسانچہ نے اردو کے قارئین کے بیچ اپنی اہمیت و افادیت کو ثابت کیا ہے۔ اکیسویں صدی کے جو موضوعات ہیں ان کو سامنے رکھ کر جس طرح کے افسانچے لکھے جا رہے ہیں اس نے اہل ہنر کو متوجہ کیا ہے۔ میں بزم افسانچہ کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے تاکہ اردو کے قارئین کی تسکین ہوتی رہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: 82 سال کی عمر میں دو بیٹوں نے گھر سے نکالا، بیٹیوں نے بھی دیکھ بھال سے کردیا انکار


    وہیں بزم افسانچہ کے روح رواں اور ممتاز افسانچہ نگار ڈاکٹر محمد اعظم نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افسانچہ مختصر میں کچھ کہنے کا ہنر نہیں ہے بلکہ مختصر میں جو بات کہی جا رہی ہے اس میں کہانی پن کا ہونا لازمی ہے ۔ ہمارے سالانہ پروگرام میں صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہندی کے بھی افسانچہ نگاروں نے شرکت کی ہے ۔ ہمارا مقصد اردو اور ہندی کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے ساتھ دونوں زبانوں میں لکھے جا رہے افسانوی ادب سے بھی نئی نسل کو واقف کرانا ہے۔

    بزم افسانچہ جو باب کے نام سے قائم کیا گیا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھوپال میں سال بھر پہلے تک افسانہ نویسی کے نام پر جو نام تھے ان کا شمار انگلیوں پر ہوتا تھا مگر بزم افسانچہ کے قیام کے بعد افسانچہ نگاری کے میدان میں کئی نئے نام سامنے آئے ہیں اور یہ ہماری کامیابی ہے ۔ شاعری کے ساتھ نثری ادب کا بھی فروغ ہو اور اردو کے قارئین کو سچا اور اچھا ادب پڑھنے کو ملے اس کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: