ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں کورونا کی جنگ رام بھروسے ، حکومت کے رویہ سے عوام میں بڑھی ناراضگی

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا شاعرانہ انداز میں کہتے ہیں کہ تجھ کو تیرا ارپن کیا لاگے مورا ۔ اب جنتا کے حوالے ہی کردیا سب کچھ ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں کورونا کی جنگ رام بھروسے ، حکومت کے رویہ سے عوام میں بڑھی ناراضگی
مدھیہ پردیش میں کورونا کی جنگ رام بھروسے ، حکومت کے رویہ سے عوام میں بڑھی ناراضگی

مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جاتا ، جس دن میں مدھیہ پردیش میں سات سو ہزار کے بیچ کورونا کے نئے مریض سامنے نہ آئے ہوں ، اس کے باوجود حکومت کے ذریعہ یہ کہہ دینا کہ اب ان لاک ہوگیا ہے اور سب کچھ عوام کے حوالے کردیا ہے ۔ سرکار کے ہاتھ میں جوتھا وہ سرکار نے کردیا ہے ۔ سرکار نے علاج سے لیکر تمام سہولیات مہیا کردی ہیں ، اب عوام کی ذمہ داری ہے۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں کورونا کا پہلا معاملہ بیس جون کو سامنے آیا تھا اور اب مدھیہ پردیش میں کورونا کے معاملات چونتیس ہزار سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔ صوبہ میں کورونا سے اب تک نوسو بیس لوگوں کی موت ہوچکی ہے ، جبکہ چوبیس ہزار چارسو چونتیس مریض صحتیاب ہوکر اسپتال سے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں ۔ مریضوں کی بڑھتی تعداد اور اسپتالوں میں بد نظمی کے خلاف بھوپال سمیت کئی شہروں میں مریض احتجاج بھی کر چکے ہیں ۔


مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا شاعرانہ انداز میں کہتے ہیں کہ تجھ کو تیرا ارپن کیا لاگے مورا ۔ اب جنتا کے حوالے ہی کردیا سب کچھ ۔ اب سونپ دیاہے جیون کا سوئم بھار تمہارے ہاتھوں میں ۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ ان لاک ہے ، لیکن احتیاط آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ سرکار کے پاتھ میں جوتھا سرکار نے کردیا ، وینٹی لیٹر فری ہے ، آکسیجن فری ہے ، بستر فری ہے ، اسپتال فری ہے ، مگر اس فری انتظام تک نہ آنا پڑے ، یہ تو آپ کے ہاتھ میں ہے ۔


مدھیہ پردیش مسلم سماج کے کارگزار صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ جب صوبہ میں کورونا کے مریض برائے نام تھے ، تب حکومت نے لاک ڈاون کا نفاذ کیا اور جب مریضوں کی تعداد ہزراوں میں پہنچ گئی ، تو سب کچھ ان لاک کردیا گیا ۔ یہ سمجھ سے باہر ہے اور اب وزیر کے ذریعہ یہ کہہ دیا گیا کہ سرکار نے اپنا کام کردیا ہے ۔ سرکار بتائے گی کہ وہ کون سا کام کیا گیا ہے ، جس سے عوام کو راحت ملی ہو ۔ مزدور، مجبور، کسان اور اقلیتوں کے لئے اس لاک ڈاون میں کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کے سبھی ادارے مفلوج ہیں ۔ ایسے میں مزدور، مجبوراور اقلیت کہاں جائیں۔

مدھیہ پردیش میں کورونا کا پہلا معاملہ بیس جون کو سامنے آیا تھا اور اب مدھیہ پردیش میں کورونا کے معاملات چونتیس ہزار سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔
مدھیہ پردیش میں کورونا کا پہلا معاملہ بیس جون کو سامنے آیا تھا اور اب مدھیہ پردیش میں کورونا کے معاملات چونتیس ہزار سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔


مدھیہ پردیش یوتھ کانگریس کے صدر و کانگریس کے نوجوان ایم ایل اے کنال چودھری کہتے ہیں ہہ پورا صوبہ رام بھروسے اور عوام کے بھروسے ہی چل رہا ہے ۔ ہر چیز میں عوام سے امید ہی بی جے پی کے لوگ کرتے ہیں ۔ سرکار بتائے گی کہ اس کی اپنی ذمہ داری کیا ہے ۔ سرکار سے جب کہا جاتا ہے کہ مزدور اور مجبور لوگ جنہوں نے کورونا کے قہر میں اپنا سب کچھ کھودیا ہے ، انہیں مدد دی جائے ، ان سے کرایہ نہ لیا جائے ، بجلی کے بل معاف کئے جائیں ، ان کی ضروریات زندگی کو پورا کیا جائے ، کورونا کی ٹسیٹنگ بڑھائی جانے ، تو یہ سرکار سی ایم ریلیف فنڈ کی بات کرتی ہے ۔ آپ دوسرے صوبوں سے موازنہ کریں ، تو حیرت ہوگی کہ ہمارے کورونا ٹیسٹنگ کی شرح مایوس کن ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 04, 2020 08:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading