ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

فرانس کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد عارف مسعود کی مشکلات میں اضافہ

بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے فرانس میں شائع ہوئے گستاخانہ خاکہ کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

  • Share this:
فرانس کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد عارف مسعود کی مشکلات میں اضافہ
فرانس کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد عارف مسعود کی مشکلات میں اضافہ

بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے فرانس میں شائع ہوئے گستاخانہ خاکہ کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ انتیس اکتوبر کو بھوپال اقبال میدان میں کئے گئے احتجاج میں ہزاروں نے لوگوں نے شرکت کی تھی ۔ انتظامیہ نے اسے حکومت کے احکام اور کووڈ 19 کی خلاف ورزی مانتے ہوئے پہلے دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت عارف مسعود سمیت دوسو لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ اس معاملے میں ضمانت کروانے کے بعد عارف مسعود بہار الیکشن میں مصروف ہوئے تو ان کے خلاف بھوپال کے تھانہ تلیا میں چھ دن بعد آئی پی سی کی دفعہ ایک سو تریپن اے کے تحت مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا دوسرا معاملہ درج کیا گیا ۔ مذہبی جذبات بھڑکانے کے معاملے میں عارف مسعود سمیت چھ اور لوگوں کے خلاف بھی معاملہ درج کیاگیا تھا ۔


عارف مسعود کو ابھی معاملوں سے راحت بھی نہیں ملی تھی کہ بی جے پی اعلی قیادت کے ذریعہ ان پر سیاسی بیان جاری ہونے لگے اور یہاں تک کہا گیا کہ دہشت گردی کی حمایت میں بھوپال میں کئے گئے احتجاج کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت کی کارروائی صرف بیان تک جاری نہیں رہی بلکہ  بھوپال خانو گاؤں میں واقع ان کے کالج کے خلاف انہدامی کاروائی آج صبح سے شروع کردی گئی ۔


بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود سے جب اس سلسلے میں نیوز 18 اردو نے بات کو تو انہوں نے کہا کہ حکومت انتقامی کارروائی کر کے مجھے جھکانہ چاہتی ہے ، مگر میں کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں ہوں ۔ فرانس میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ، جس کو لے کر میں نے احتجاج کیا تھا ۔ اس احتجاج میں پچیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی تھی ۔ میں نے احتجاج میں کسی بھی مذہب کے خلاف نہ کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی کسی کی توہین کی ہے ۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ میرے کالج کو توڑ دیا گیا ہے جبکہ کالج پر ہائی کورٹ کا اسٹے ہے ۔ اس معاملہ میں عدالت سے رجوع کروں گا ۔ طلبہ کے کیریر کو بچانے کے لئے اگر اسی زمین پر اجازت ملتی ہے تو بلڈنگ بنا کر تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا ، اگر نہیں ملتی ہے تو کھلے میدان سے تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹرنروتم مشرا کہتے ہیں کہ نا جائز قبضہ ہے تو کارروائی ہوگی ۔ میری تو آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ عارف مسعود جی نے فرانس کے معاملے کو لیکر بھوپال میں احتجاج کیوں کیا ۔ یہاں تو ہر قسم کی عبادت کرنے ، نماز پڑھنے روزہ رکھنے کی پوری آزادی ہے تو پھر یہاں کا امن کیوں خراب کیا جا رہا ہے ۔ شہر کا امن خراب کرنے کی کسی کو اجاز ت نہیں دی جا سکتی ہے ۔ جو لوگ بھی امن کے ٹاپو کا ماحول خراب کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی ۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کہتے ہیں کہ بی جے پی شکل دیکھ کر کاروائی کرتی ہے۔ بھوپال حضور ایم ایل اور یہاں کے ایک منتری نے سب سے زیادہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے ، مگر اس کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ دگ وجے سنگھ نے پروٹیم اسپیکر رامیشور شرما کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان سے زیادہ کسی نے سرکاری زمین پر قبضہ نہیں کیا ہے ، مگر آج تک ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 05, 2020 10:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading