உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش یوم تاسیس : مسلم دانشوروں نے اقلیتی طبقہ کی پسماندگی کو سیاسی پارٹیوں کی منظم سازش کا بتایا حصہ

    مسلم دانشوروں نے اقلیتی طبقہ کی پسماندگی کو سیاسی پارٹیوں کی منظم سازش کا بتایا حصہ

    مسلم دانشوروں نے اقلیتی طبقہ کی پسماندگی کو سیاسی پارٹیوں کی منظم سازش کا بتایا حصہ

    یکم نومبر مدھیہ پردیش کا یوم تاسیس ہے۔ یوم تاسیس کے دن جہاں طبقے کے لوگ خوشیاں منا رہے ہیں وہیں اقلیتی طبقے کے لوگوں میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : یکم نومبر مدھیہ پردیش کا یوم تاسیس ہے۔ یوم تاسیس کے دن جہاں طبقے کے لوگ خوشیاں منا رہے ہیں وہیں اقلیتی طبقے کے لوگوں میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے ۔ اقلیتی طبقے کی مایوسی کا سبب حکومتوں کی عدم توجہی ہے ۔ کہنے کو مدھیہ پردیش میں اقلیتوں کی فلاح کے لئے حج کمیٹی ، مدرسہ بورڈ، مساجد کمیٹی، حج کمیٹی، اقلیتی کمیشن ، اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن جیسے اداروں کا وجود تو ہے لیکن ان اداروں کا برسوں سے کوئی سربراہ نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اقلیتی ادارے موجودہ حکومت میں عدم توجہی کا شکار ہیں ، بلکہ کانگریس کی کمل ناتھ حکومت میں بھی اقلیتی اداروں کی جانب دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔

    مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری اقبال مسعود کہتے ہیں کہ چھیاسٹھ سال کام کرنے کےلئے بہت ہوتے ہیں ۔ لیکن مدھیہ پردیش کے قیام کے ان چھیاسٹھ سالوں پر نظر ڈالیئے تو ہمارے لئے سوائے تنزلی کے کچھ نہیں ہیں ۔ بجائے آگے جانے کے ہم چھیاسٹھ سال پیچھے چلے گئے ہیں ۔ جس وقت مدھیہ پردیش کی تشکیل ہوئی تھی اس وقت اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد پانچ سو اٹھہتر تھی ، مگر اب ان کی تعداد گھٹ کر سو کے قریب آگئی ہے اور جو اردو میڈیم اسکول رہ گئے ہیں ان میں سرکاری سطح پر اردو پڑھانے والے نہیں ہیں ۔ اردو اساتذہ کا تبادلہ کردیا جاتا ہے اور جو اس کی جگہ آتا ہے وہ اردو کا ٹیچر ہی نہیں ہوتا ہے۔ اس طرح سے چھیاسٹھ سال اردو کے لئے ماتم کے ہیں ۔

    منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید افتخار علی کہتے ہیں کہ کہنے کو اقلیتیوں کی فلاح کے لئے ادارے قائم کئے گئے ہیں ، لیکن سبھی ادارے خود بیمار ہیں اور ان اداروں کی جانب دیکھنے والا کوئی ہے ۔ جب اداروں کا کوئی سربراہ نہیں ہے تو آپ خود بتائیں اقلیتیں اپنے مسائل لے کر کس کے پاس جائیں ۔ حکومت ہماری جانب بھی محبت کی ایک نظر ڈالے تو ہمارے بچے صلاحیت میں کسی سے کم نہیں ہیں ۔

    سینئر صحافی ظفر عالم کہتے ہیں کہ جس مدھیہ پردیش میں چوراسی کی دہائی میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد چودہ تک ہوا کرتی تھی اب اسی مدھیہ پردیش میں سیاسی پارٹیاں مسلم امیدواری کے نام پر چار ٹکٹ بھی نہیں دیتی ہیں ۔دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ایک اور کانگریس نے تین مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا تھا جس میں سے کانگریس سے دو مسلم امیدار اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ یہاں پر بی جے پی ہو کانگریس دونوں کا نظریہ مسلم کو لیکر ایک ہی ہے ۔

    بزم ضیا کے صدر فرمان ضیائی کہتے ہیں کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ جشن میں شامل ہوں مگر حکومت نے ہمیں اس لائق چھوڑا ہی نہیں ہے ۔ حکومت ایک بات بھول رہی ہے کہ اگر کسی ملک کا ایک طبقہ نظر انداز کیا جائے گا تو اس کا اثر اس ملک کی مجموعی ترقی پر پڑتا ہے ۔ حکومت کو اپنے سیاسی مفاد سے بلند ہوکر بلا لحاظ قوم و وملت سبھی کے لئے ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا چاہیئے اور جو طبقہ پسماندہ ہے اس پر خصوصی توجہ مبذول کرنا چاہیئے ۔ہم نے اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر گورنر صاحب اور وزیر کو میمورنڈم دیا تھا مگر ابھی تک کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا ہے آگے بھی ہماری تحرک جاری رہے گی ۔

    مائنارٹیز یونائیٹڈ آرگنائزیشن کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ لڑے تھے ساتھ مل کر روشنی کے لئے ہم دونوں ، تمہارے گھر اجالے ہیں ہمارے گھر اندھیرے ہیں ، ہماری حکومتوں کو اس فرق کوسمجھنے کی ضرورت ہے ۔ آزادی کا امرت مہوتسو ہر جگہ منایا جارہا ہے ، مگر ایک طبقہ کے مجاہدین آزادی کا ذکر ہی نہیں ہے ۔ ایسے میں ہمارے لئے چیلنجز بڑھ گئے ہیں اور ہمیں سیلف ہیلپ کے کنسپٹ پر کام کرتے ہوئے برادران وطن کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ سے زیادہ فوکس کرنا ہوگا ۔ کیونکہ تعلیم میں ہی تمام کامیابی کا راز پوشیدہ ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: