உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : گاندھی جینتی کے موقع پر گاندھی جی کے محافظ بخت میاں کو کیا گیا یاد

    مدھیہ پردیش : گاندھی جینتی کے موقع پر گاندھی جی کے محافظ بخت میاں کو کیا گیا یاد

    مدھیہ پردیش : گاندھی جینتی کے موقع پر گاندھی جی کے محافظ بخت میاں کو کیا گیا یاد

    ممتاز دانشور پروگرام کے صدر رگھو ٹھاکر کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ افسوسناک اورکیا ہوگا اس جمہوری ملک کی تاریخ میں کہ لوگ گاندھی جی کے قاتل کا نام تو جانتے ہیں لیکن انہیں گاندھی جی کے محافظ کا نام یاد نہیں ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش کے بھوپال میں گاندھی جینتی کے موقع پر لوہیا سدن میں مخصوص تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں گاندھی جی کے محافظ بخت میاں انصاری کی حیاتِ و خدمات پر وزیرِ انصاری کی تصنیف کردہ کتاب بطخ میاں انصاری کی انوکھی کہانی کا اجراء گیا۔ چمپا رن ستیہ گرہ کے موقع پر بخت میاں انصاری نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر گاندھی جی کی حفاظت کی تھی۔ گاندھی جی کی حفاظت کرنے اور جان بچانے سے انگریز بخت میاں انصاری سے اتنا زیادہ ناراض ہوئے تھے کہ انہوں نے نہ صرف بخت میاں انصاری کو جیل میں ڈالا بلکہ ان کی املاک بھی ضبط کر لی تھی۔ بھوپال میں منعقدہ تقریب میں دانشوروں نے گاندھی جی کے حوالے سے بخت میاں انصاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ان کی ضبط کی گئی املاک کو واپس کرنے کے ساتھ حکومت سے انہیں بھارت رتن دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ تاریخ کے اوراق میں بخت میاں انصاری کو بطخ میاں انصاری کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

    ممتاز دانشور پروگرام کے صدر رگھو ٹھاکر کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ افسوسناک اورکیا ہوگا اس جمہوری ملک کی تاریخ میں کہ لوگ گاندھی جی کے قاتل کا نام تو جانتے ہیں لیکن انہیں گاندھی جی کے محافظ کا نام یاد نہیں ہے۔ بخت انصاری نے اپنی جان کی بازی لگا کر چمپارن ستیہ گرہ میں گاندھی جی کی حفاظت نہ کی ہوتی اور گاندھی جی کی موت ہو جاتی تو شاید ملک کی آزادی کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ ہم بخت میاں انصاری کی قربانی کو سلام کرتے ہیں اور حکومت سے ان کی ضبط زمین جو انگریز حکومت کے ذریعہ کی گئی تھی اس کی واپسی کے ساتھ بخت میاں کی              خدمات کو دیکھتے ہوئے بھارت رتن دینے کی مانگ کرتے ہیں ۔

    بخت میاں انصاری کی انوکھی کہانی کے عنوان سے کتاب لکھنے والے چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ آج سے چند سال قبل جب بخت میاں انصاری کی خدمات کے بارے میں پڑھنے کا موقع ملا تو ہماری حیرت کی انتہا نھیں تھی ۔ تاریخ کے اوراق میں بخت میاں انصاری کو بطخ میاں انصاری کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ کافی تحقیق کے بعد مواد جمع کیا ۔ پہلے اردو میں کتاب شائع کی اور اب ہندی انگریزی زبان میں شائع کی ہے ۔ آگے دوسری ملکی زبان میں کتاب شائع ہوگی تاکہ نئی نسل کو گاندھی جی کے محافظ کے بارے میں جان سکیں۔

    یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جس چمپا رن ستیہ گرہ میں گاندھی جی کو زہر دینے کی کوشش کی گئی تھی اس میں پہلے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجیندر پرشاد بھی مو جو د تھے اور انہوں نے ملک کی آزادی کے بعد بخت میاں انصاری کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اکیاون ایکڑ زمین حکومت کی جانب سے بخت میاں انصاری کے اہل خانہ کو دینے کا احکام جاری کیا تھا ، مگر وہ زمین بھی آزادی کے اتنے سالوں میں بخت میاں انصاری کے اہل خانہ کو نہیں مل سکی ۔

    ممتاز شاعر اور پرگرام کے مہمان خصوصی منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ گاندھی جی نے ہندستان کو قومی اتحاد اور اتفاق کا جو نظریہ دیا تھا ، اس کی معنویت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کچھ لوگوں کے ذریعہ گاندھی جی کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، مگر وہ لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا نام ان لوگوں کے ساتھ شامل ہے ، جنہوں نے اپنے جان کی بازی لگا کر گاندھی جی کی حفاظت کی تھی ۔ میں رگھو ٹھاکر صاحب کے بیان کی حمایت کرتا ہوں۔ حکومت گاندھی جی کے محا فظ کو بھارت رتن دے گی تو اس کے ہی وقار میں اضافہ ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: