ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : گیس متاثرین نے کیا خالی تھالی کے ساتھ بھوپال میں منترالیہ کا گھیراو

کورونا قہر میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے وعدہ نبھانے کا مطالبہ لیکر گیس متاثرہ بزرگ خواتین نے ہاتھوں میں خالی تھالی لیکر منترالیہ کا گھیراؤ کیا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : گیس متاثرین نے کیا خالی تھالی کے ساتھ بھوپال میں منترالیہ کا گھیراو
مدھیہ پردیش : گیس متاثرین نے کیا خالی تھالی کے ساتھ بھوپال میں منترالیہ کا گھیراؤ

بھوپال گیس سانحہ کو گزرے ہوئے بھلے ہی چھتیس سال کا عرصہ بیت ہوگیا ، ہو مگر بھوپال گیس متاثرین کے زخم آج بھی ہرے ہیں ۔ گیس متاثرین کو یونین کاربائیڈ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے جو زہر ملا تھا ، وہ تو اپنی جگہ ہے ہی ، وہیں اپنی حکومتوں نےانہیں جو زخم دیا ہے وہ اسے بھلا نہیں سکتے ہیں ۔ گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع پر منعقدہ دعائیہ جلسہ میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے گیس متاثرہ بزرگ خواتین کو تاحیات پنشن جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا ، مگر یہ وعدہ آج تک وفا نہیں ہوسکا ۔ کورونا قہر میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے وعدہ نبھانے کا مطالبہ لیکر گیس متاثرہ بزرگ خواتین نے ہاتھوں میں خالی تھالی لیکر منترالیہ کا گھیراؤ کیا۔


بھوپال گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہا جاتا ہے۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال یونین کاربائیڈ سے نکلنے والی میتھائیل آئیسو سائنائیڈ گیس سے ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی تو لاکھوں لوگ گیس کے مضر اثرات سے متاثر ہوئے ۔ سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق اس حادثہ میں اس رات پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ تیہتر ہزار تین سو چوہتر لوگ متاثر ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ کے لئے آج تک کسی بھی ذمہ دار کو ایک گھنٹے کی بھی سزا نہیں ہوئی ۔ یہی نہیں جو گیس متاثرین ہیں وہ آج بھی علاج ، معاوضہ اور پنشن کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں ۔


تین دسمبر دوہزار بیس کو بھوپال گیس سانحہ کی برسی پر بھوپال برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ جلسے کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ جلسے میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماوں نے گیس حادثہ میں ہلاک ہوئے لوگوں کے لئے دعا کی اور حکومت سے ایسے اقدام کرنے کی اپیل کی تھی ، جس سے ملک میں دوبارہ کہیں پر بھوپال جیسا حادثہ نہیں ہو سکا ۔ خود وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دنیا کے اس سب سے بڑے صنعتی حادثے کی برسی کے موقع پر گیس حادثہ کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا تھا اور گیس متاثرین بزرگ خواتین کو تاحیات پینشن جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔


بھوپال گیس پیڑت نراشت پینشن بھوگی مورچہ کے صدر بال کرشن نامدیو کہتے ہیں کہ آج منترالیہ کاگھیراو کرنا ہماری مجبوری ہے ۔ مدھیہ پردیش سرکار نے بزرگ اور بیوا پینشن کو ایک سال سے جاری نہیں کیا ہے اور دوسری جانب گیس متاثرہ بزرگ خواتین کے لئے خود وزیر اعلی نے تین دسمبر دوہزار گیارہ کو بھوپال برکت اللہ بھون میں تاحیات پنشن جاری کرنے کا اعلان کیا تھا ، مگر آج تک اس پر عمل نہیں کیا جاسکا ۔ وزیر اعلی خود بتائیں کہ کورونا قہر میں یہ بزرگ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کہاں جائیں ۔ آج تو ہم نے ہاتھ میں خالی تھالی لیکر احتجاج کیا ہے تاکہ وزیر اعلی کی غیرت بیدار ہو اور وہ بزرگ گیس متاثرہ خواتین سے کئے گئے اپنے وعدہ کو جلد سے جلد پورا کرنے کے لئے قدم اٹھائیں ۔ اگر ہمارے مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا تو آگے اسی منترالیہ کے سامنے گیس متاثرہ بزرگ خواتین غیر معینہ مدت کی ہڑتال بھی شروع کریں گی اور ان کے ساتھ بھوپال کے سبھی گیس متاثرین ہڑتال میں شامل ہوں گے۔

گیس سانحہ میں اپنا پورا خاندان کھوچکی وملا دیوی کہتی ہیں کہ جب اپنی ہی سرکاریں وعدہ کر کے بھول جائیں تو ہم کس سے فریاد کریں ۔ کیا اسی دن کے لئے ہم نے سرکار چنی تھی کہ یہ لوگ اپنے شہریوں کے لئے نہیں بلکہ کمپنی کے حق میں کام کریں گے۔ گیس متاثرہ بلقیس بیگم کہتی ہیں کہ اب تو آنکھوں میں اتنے آنسو بھی نہیں بچے ہیں کہ اپنوں کے غم میں روسکیں ۔ حکومت ہماری خالی تھالی نہیں بھر سکتی ہے تو ہمیں عزت سے مرنے کی اجازت دیدے ۔ اب اس عمر میں یہ تماشہ نہیں دیکھا جاتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 06, 2021 09:33 PM IST