اپنا ضلع منتخب کریں۔

    محبت کے پیغام کو عام کرنے میں غزل سرائی کی محفلیں ادا کرتی ہیں بنیاد کا کردار

    شاعری کی زبان محبت ہوتی ہے اور گلوکار بھی اپنے فن سے محبت کے اسی پیغام کو عام کرنے کا کام کرتاہے ۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ منعقدہ شام غزل کا مقصد نفرت کے اندھیروں کو ختم کرنا اور محبت کےپیغام کو عام کرناہے تاکہ دنیا محبت کا حسین گلدستہ بن جائے۔

    شاعری کی زبان محبت ہوتی ہے اور گلوکار بھی اپنے فن سے محبت کے اسی پیغام کو عام کرنے کا کام کرتاہے ۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ منعقدہ شام غزل کا مقصد نفرت کے اندھیروں کو ختم کرنا اور محبت کےپیغام کو عام کرناہے تاکہ دنیا محبت کا حسین گلدستہ بن جائے۔

    شاعری کی زبان محبت ہوتی ہے اور گلوکار بھی اپنے فن سے محبت کے اسی پیغام کو عام کرنے کا کام کرتاہے ۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ منعقدہ شام غزل کا مقصد نفرت کے اندھیروں کو ختم کرنا اور محبت کےپیغام کو عام کرناہے تاکہ دنیا محبت کا حسین گلدستہ بن جائے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal
    • Share this:
    سہانی شام میں ساز اور آواز کے ساتھ دلکش ترنم میں غزل سرائی کی محفل آراستہ ہوتو شام کا لطف دو بالا ہوجاتا ہے۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کے شہر بھوپال کے رویندر بھون میں ایک ایسی ہی سہانی شام کا انعقاد کیاگیا جس میں اردو شاعری اور موسیقی کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سہانی شام میں جب ممتاز گلوکارہ شفالی فراسٹ اور سادھنا جوریکر نے غزل سرائی کی تو محفل کا لطف دو بالا ہوگیا۔ شاعری کی زبان محبت ہوتی ہے اور گلوکار بھی اپنے فن سے محبت کے اسی پیغام کو عام کرنے کا کام کرتاہے ۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ منعقدہ شام غزل کا مقصد نفرت کے اندھیروں کو ختم کرنا اور محبت کےپیغام کو عام کرناہے تاکہ دنیا محبت کا حسین گلدستہ بن جائے۔
    نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہ اردو اکادمی کا مقصد اردو زبان کی آبیاری کے ساتھ محبت کے پیعام کو عام کرنا ہے ۔ اردو کے شاعروں نے اپنی شاعری سے محبت کے پیغام کو ہمیشہ عام کیا ہے ۔آج کی شام غزل محفل میں مشہور گلوکارہ شفالی فراسٹ اور سادھنا جوریکر نے اپنا کلام جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے اس سے سامعین کو قلبی سکون ملا ہے اور آپ نے دیکھا کہ دونوں گلوکاروں کے ذریعہ پیش کئے جانے والے کلام کو سن کر سامعین کس طرح سے جھوم رہے تھے۔محبتوں کی ایسی محفلوں کا انعقاد ہوتا رہے گا تاکہ زبان کی آبیاری اور محبت کا پیغام عام ہوتا رہے ۔

    پی ایم مودی کا کانگریس پر نشانہ، 'رام کے وجود' کو نہیں ماننے والے اب راون کو لے آئے ہیں


     ڈیجیٹل روپئے کے آغاز سمیت آج سے ہوں  گی یہ اہم تبدیلیاں، جانیں آپ پر کیا پڑے گا اثر؟

    وہیں مشہور گلوکارہ سادھنا جوریکر نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہر غزل بھوپال میں موسیقی کے ساتھ غزل پیش کرنا کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا ہے ۔ یہاں کے لوگ غزل گوئی کے ساتھ موسیقی کے فن سے حد درجہ واقف ہیں لیکن جب غزل کے مزاج داں کے بیچ کلام پیش کیا جاتا ہے اور اس کی پزائی ہوتی ہے تو فنکار کی راستہ کی صعوبتیں کافور ہوجاتی ہیں ۔ ہم تو چاہیں گے کہ غزل کی ایسی محفلوں کا انعقاد ہوتا رہےتاکہ دنیا سراپا محبت بن جائے ۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: