உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : بھوپال کی شاہی مسجد سے سونے کا کلس چوری، پولیس نے شروع کی تفتیش

    مدھیہ پردیش : بھوپال کی شاہی مسجد سے سونے کا کلس چوری، پولیس نے شروع کی تفتیش

    مدھیہ پردیش : بھوپال کی شاہی مسجد سے سونے کا کلس چوری، پولیس نے شروع کی تفتیش

    Bhopal News: بھوپال کی تاریخی شاہی مسجد جسے 1862 میں ریاست بھوپال کی دوسری خاتون فرمانروا نواب سکندر جہاں بیگم کے عہد میں دہلی کی جامع مسجد کی واگزاشت کے بعد دہلی کی جامع مسجد کے نقشے پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس میں لگائے گئے سونے کے کلس کو چور لے اڑے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore
    • Share this:
    بھوپال : بھوپال کی تاریخی شاہی مسجد جسے 1862 میں ریاست  بھوپال کی دوسری خاتون فرمانروا نواب سکندر جہاں بیگم کے عہد میں دہلی کی جامع مسجد کی واگزاشت کے بعد دہلی کی جامع مسجد کے نقشے پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس میں لگائے گئے سونے کے کلس کو چور لے اڑے۔ گزشتہ شب مسجد سے سونے کا کلس کب چوری ہوگیا، اس کی خبر خود شاہی اوقاف کو دوسرے لوگوں سے ہوئی ۔ مقامی لوگوں کے ذریعہ معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد شاہی اوقاف کے ذمہ داران کے ذریعہ بھوپال کے تھانہ تلیا میں رپورٹ درج کروائی گئی۔ پولیس کے ذریعہ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دوسرے ذرائع کے ذریعہ تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ بھوپال کی شاہی مسجد جسے بھوپال میں موتی مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے، اس تاریخی مسجد کی تعمیر کا کام بھوپال کی دوسری خاتون فرمانروا نواب سکندر جہاں بیگم کے عہد میں شروع کیا گیا اور ان کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی نواب شاہجہاں بیگم کے عہد میں مسجد کا کام مکمل کیا گیا۔ مسجد میں سرخ پتھروں سے جو کام کیا گیا ہے، وہ نواب سکندر جہاں بیگم کے ذریعہ کروایا گیا ہے ۔ جبکہ سفید سنگ مرمر سے جو کام کیا گیا ہے اسے نواب شاہجہاں بیگم کے ذریعہ کیاگیاہے۔ مسجد کے مینار و گبند پر سونے کلس لگائے گئے تھے ۔ اسی میں سے ایک گبند کے کلس کو چور لے اڑے اور شاہی اوقاف کو خبر تک نہیں ہوئی۔

    بھوپال شاہی اوقاف کی ٹرسٹی نواب منصور علی خان پٹودی کی بڑی صاحبزادی صبا علی خان ہیں، لیکن وہ بھوپال میں قیام نہیں کرتی ہیں اور ان کے ذریعہ شاہی اوقاف کی ذمہ داری کو سکریٹری کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ بھوپال شاہی اوقاف کے سکریٹری اعظم ترمذی نے نیوز18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کلس کی جو چوری ہوئی ہے وہ کل رات میں ہوئی ہے، کسی ٹائم ایک بجے سے لیکر رات کے تین چار بجے کے درمیان ۔ صح ہمارے پڑوس میں ایک صاحب رہتے ہیں جب انہوں نے مسجد پر نظرماری تو معلوم ہوا کہ ایک کلس غائب تھا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ملائم سنگھ یادو کی حالت ابھی بھی نازک، میدانتا اسپتال نے جاری کیا ہیلتھ بلیٹن


    انہوں نے بتایا کہ کل رات بارش بھی ہو رہی تھی۔ جب ہم لوگوں کو پتہ چلا تو ہم لوگوں نے  تھانہ میں ایف آئی آر کی اور ابھی یہاں پر کرائم برانچ کی ٹیم  اور تھانہ تلیا کے جو لوگ ہیں، ان کے ذریعہ تفتیش کی جارہی ہے ۔ مسجد کے اندر جو سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا ہے، اس میں تو کچھ نظر نہیں آرہا ہے بلکہ جو چوکیدار تھے انہیں کا مومنٹ دکھائی دے رہا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ پولیس بہت جلد اس گھنونا کام کرنے والوں کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مکیش امبانی اور ان کے کنبے کو دھمکی دینے والا بہار سے گرفتار، موبائل بھی برآمد


    وہیں اس تعلق سے جب تھانہ تلیا کے ٹی آئی راکیش ساہو سے نیوز18 اردو نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مسجد سے سونے کے کلس کو چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ اس کی تفتیش کے لئے ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے ۔ فنگر پرنٹ ایکسپرٹ کی بھی مدد لی جا رہی ہے ۔ پولیس کے ذریعہ سی سی ٹی وی ف وٹیج اور دوسرے ذرائع سے تفتیش کی جارہی ہے ۔

    واضح رہے کہ مسجد کا کلس تقریبا سات فٹ لمبا ہے ۔ کلس کا اوپری حصہ جو خالص سونے کا تھا، اسے چور ساتھ لے گئے جبکہ کلس کے نیچے کا حصہ جس کے پیتل کے حصہ پر سونے کی پالش ہوئی تھی، اسے چور نہیں لے جا سکے ہیں۔ چور کو پکڑنے میں پولیس کو کتنی کامیابی ملے گی، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی شاہی اوقاف کی دوسری مساجد سے بھی سونے کے کلس چوری ہوچکے  ہیں، مگر نتیجہ صفر ہی رہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: