உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh : اقلیتی اداروں کو حکومتوں نے کیا فراموش

    Madhya Pradesh : اقلیتی اداروں کو حکومتوں  نے کیا فراموش

    Madhya Pradesh : اقلیتی اداروں کو حکومتوں نے کیا فراموش

    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) میں دوہزار اٹھارہ سے اب تک کئی حکومتیں بدل چکی ہیں لیکن اقلیتی اداروں کی خستہ حالی کی جانب کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ کمل ناتھ حکومت میں بھی اقلیتی اداروں کی تشکیل نہیں کی گئی تھی اور شیوراج سنگھ کی بائیس ماہ کی حکومت میں بھی اقلیتی اداروں کی تشکیل کا معاملہ حاشیہ پر ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) میں دوہزار اٹھارہ سے اب تک کئی حکومتیں بدل چکی ہیں لیکن اقلیتی اداروں کی خستہ حالی کی جانب کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ کمل ناتھ حکومت میں بھی اقلیتی اداروں کی تشکیل نہیں کی گئی تھی اور شیوراج سنگھ کی بائیس ماہ کی حکومت میں بھی اقلیتی اداروں کی تشکیل کا معاملہ حاشیہ پر ہے۔ حکومتوں کے ذریعہ اقلیتی اداروں اور اقلیتی مسائل کو نظر انداز کئے جانے سے مسلم تنظیمیں سخت ناراض ہیں ۔ وہیں بی جے پی کا کہنا ہے کہ شیوراج سنگھ حکومت نہ صرف اقلیتی مسائل کو لیکر سنجیدہ ہے بلکہ اقلیتوں کے لئے جتنا کام شیوراج سنگھ حکومت نے کیا ہے اتنا آزادی کے ستر سالوں میں کبھی نہیں کیا گیا ہے ۔

    مدھیہ پردیش میں اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وقف بورڈ مساجد کمیٹی، مدرسہ بورڈ، اقلیتی کمیشن، اوقاف عامہ، اردو اکادمی، اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپورویشن جیسے ادارے تو قائم ہیں ، لیکن دوہزار اٹھارہ سے اب تک ان اداروں میں کمیٹوں کا تشکیل نہیں دیا جانا اور کسی سربراہ کا تقرر نہیں کیا جانا خود اپنے آپ میں ایک اہم سوال ہے ۔ مدھیہ پردیش جمیعت علما کے پریس سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ دوہزار اٹھارہ سے اب تک کئی حکومتیں بدل چکی ہیں ۔ دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں جب کانگریس کی حکومت کمل ناتھ کی قیادت میں قائم ہوئی تھی تب اقلیتوں کو امید ہوئی تھی کہ اقلیتوں کے مسائل حل ہوں گے لیکن کمل ناتھ  حکومت نے اپنی پندرہ ماہ کی حکومت میں اقلیتوں اداروں اور اقلیتی مسائل کونہ صرف نظر انداز کیا بلکہ اسی راہ پر شیوراج سنگھ کی حکومت بھی گامزن ہے ۔ شیوراج سنگھ کی حکومت کو بائیس ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، لیکن اب تک اس جانب کوئی توجہ نہیں دیا جانا بتاتا ہے کہ حکومتوں کی نطر میں اقلیتوں کا وقار کتنا ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش سد بھاؤنا منچ بھوپال کے سکریٹری حافظ محمد اسمعیل کہتے ہیں کہ ابھی پندرہ روز قبل حکومت کے ذریعہ پچیس نگم منڈلوں کی تشکیل کی گئی ہے ، لیکن اس میں بھی اقلیتی اداروں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ اقلیتی اداروں کو افسران کے بھروسے چھوڑ دینے سے نہ صرف مسائل کا انبار لگا ہوا بلکہ حکومتوں اور افسران کی عدم توجہی سے وقف زمینوں پر قبضے بھی بڑھتے جا رہے ہیں ۔ حج کمیٹی ، وقف بورڈ، مدرسہ بورڈ ، اقلیتی کمیشن کا تشکیل نہیں کیا جانا بتاتا ہے کہ حکومتوں کو ہمارے ووٹ کی تو ضرورت ہے ، لیکن ہمارے مسائل سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ حکومتوں کو اس جانب سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔اقلیتوں کو نطر انداز کر کے ملک ترقی نہیں کر سکتا ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی ایکزیکیٹو کمیٹی کے رکن محمد توفیق کہتے ہیں کہ اقلیتوں کو اس معاملہ میں صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ حکومت نے ابھی نگم منڈلوں کی تشکیل کا مرحلہ شروع کیا ہے ۔ اقلیتی اداروں کی بھی جلد تشکیل ہوگی ۔ اگر اقلیتی اداروں میں کمیٹیاں نہیں ہیں تو کیا ہوا ، افسران کے ذریعہ اقلیتیوں کے مسائل کو لے کر سنجیدگی سے کام کیا جاتا ہے اور جتنا کام اقلیتوں کے لئے شیوراج سنگھ نے کیا ہے اتنا کام آزادی کے بعد مدھیہ پردیش میں کسی حکومت نے نہیں کیا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: